303

تلہ گنگ والو ہوشیار باش ..پگ کے نام پہ ٹھگ متحرک ہیں۔۔تحریر،عامر نواز

سروے :۔آج تک کون حلقہ کیلئے بہتر ثابت ہوا اورآئندہ کون ہوسکتاہے ‘عوام کا اظہار
قارئین ! میرا کا لم پڑھنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھ لیں میں کسی کا سپورٹر نہیں نہ کسی کا ترجمان ہوں جو دیکھتا ہوں وہ لکھتا ہوں ۔سچ لکھنے پر کسی کو مجھ سے جو ٹینشن ہو مجھے اس پر کبھی خوف محسوس نہیں ہوتا ۔ لہذا میرے کا لم کو حقیقت کی آنکھ کھول کر پڑھیں اور آپ کسی بھی پارٹی کے سپورٹر ہیں تو آپ کو تعصب کی عینک اتار کر تجزیہ کرنا ہو گا ۔
محترم قارئین ! الیکشن کا میدان سج چکا ہے سبھی امیدوار ایک دوسری کی پگڑیاں اچھا لتے دیکھا ئی دے رہے ہیں کو ئی کس پر الزام لگا تا ہے تو کو ئی کسی امیدوار پر۔لیکن افسوس کہ تلہ گنگ کے مسائل کا مداوا کر نے کی بات کسی کو یاد نہیں آرہی ۔ اس حوالے سے میں کسی بھی سیاسی وابستگی سے ہٹ کر ق لیگ کے رہنما ء حافظ عمار یاسر کو داد دوں گا کہ وہ جہاں بھی جاتا ہے تلہ گنگ و لاوہ کے مسائل کی بات کر تا ہے وہاں کے مسائل کے حل کی بات کر تا ہے ۔یہی بات ایک عوام لیڈر میں ہو نی بھی چاہیے ۔گو کہ میرے لاکھ اختلافات ہوں گے حافظ عمار یاسر کے ساتھ لیکن جو بات حق کی ہو وہ کہنا میرا فرض بنتا ہے ۔3

قارئین ! سب سے پہلے بات کر تا ہوں سابق ایم پی اے سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کی کہ وہ کس قدر عوامی لیڈر ہیں یا اُن کو عوام اس وقت کس نہج پر دیکھ رہی ہے گراؤنڈ کی حقیقت بیان کروں گا گو کہ تلخ ہے لیکن بات اس شعر سے سمجھ آجا ئے گی کہ۔
سر محفل جو بولوں تو زما نے کو کھٹکتا ہوں
رہوں جو چپ تو اندر کی بغاوت مار دیتی ہے
سابق ایم پی اے سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کی سیاسی پوزیشن سے سبھی عوام باخوبی واقف ہے کہ اُس نے اپنے پانچ سالہ دور میں تلہ گنگ کو یکسر نذر انداز کیا چند ایک گلیوں کے علاوہ سردار ذوالفقار علی خان دلہہ نے کو ئی کام نہیں کیا کہ جس کو تلہ گنگ کی ترقی میں کو ئی اہم قدم گرداناجا سکے ۔سیاسی مبصرین کا تجزیہ ہے کہ اس بار تلہ گنگ کی عوام کے رویے سے یہ بات دیکھا ئی دے رہی ہے کہ وہ سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کو الیکشن میں مزہ چکھا نے کے موڈ میں ہیں جس کی ایک بڑی وجہ تو تلہ گنگ کو یکسر نذر انداز کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سردار ذوالفقار علی خان دلہہ نے عوام کے ساتھ ان پانچ سال میں جو بدتمیز رویہ اختیار کیا وہ بھی عوام کو کافی حد تک متنفر کر چکا ہے ۔ سردار ذوالفقار علی خان دلہہ نے ووٹر کو عزت دینے کا ڈھنگ ابھی تک نہیں سیکھا جس کا نقصان اس الیکشن میں بہت واضع دیکھا ئی دے گا ۔کو ئی بھی عوامی لیڈر ہو اُس کو چاہیے کہ وہ عوام میں گھل مل کر رہے عوام کو نخرے دیکھا نے کی بجا ئے اُن کا ممنون ہو کیو نکہ عوام کے ووٹ کی بدولت ہی تو وہ سیٹ کے قابل ہو تا ہے کیو نکہ جو عوام اس سیٹ کے قابل بنا تی ہے وہ ہی اس سیٹ پہ دوبارہ آنے سے بھی روک لیتی ہے ۔جس کا سامنا اس بار سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کو کرنا پڑے گا۔
قارئین ! آج کل پھر سے ایک بات گونج رہی ہے کہ پگ تلہ گنگ سے نکل نہ جا ئے تو اس بارے سیاسی منصرین کا کہنا ہے کہ اُن تمام عقل کے اندھوں کو ماضی یاد رکھنا چاہیے کہ ٹمن سے سیٹ آج تک باہر نہیں گئی پگ ہمیشہ ٹمن کے سرداروں کے سر پر ہی ہم عوام نے رکھی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اُن کو آج تک ٹمن شہر کی حالت سنوارنے کی ہوش نہیں آئی وہ پورے حلقے کو کیسے سنواریں گے ۔ سرداران ٹمن کی سوچ پر افسوس ہے کہ وہ یو نین کونسل ٹمن کی محرومیاں ختم کر نے میں بُری طرح ناکام ہیں ۔ جو اپنے گھر کی محرومیاں ختم نہیں کر سکتے وہ خاک حلقے کی عوام کی بہتری سوچیں گے ۔پگ کا نعرہ وہ لوگ اس لئے لگا رہے ہیں کیو نکہ وہ نہیں چاہتے کہ سیٹ ٹمن شہر سے نکلے اور عوام سرداروں کی اس حاکما نہ سوچ سے بچ سکیں ۔عوامی و سما جی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب تک ٹمن سے سیٹ نہیں نکلے گی ۔ تب تک ہمارے حلقے کی عوام اسی طرح محرومیوں کا شکار رہے گی ۔ان سرداروں سے علاقے کی بہتری کی امید رکھنا کسی حماقت سے کم نہیں ۔جو اس بات سے اختلاف کر تے ہیں کہ چوہدری پرویز الہی کو ووٹ نہ دیا جا ئے تو اُن کو بھی اس بات کی بنا پہ ووٹ سے نہیں رکنا چاہیے کہ پگ گجرات نہ چلی جا ئے بلکہ ووٹ ضمیر کا ہوتا ہے یہ دیکھیں کہ کام کس نے کرا ئے تلہ گنگ کو اور حلقہ بھر کی عوام کو اہمیت کے قابل کس نے سمجھا اور کس نے اہمیت دی ۔یہ جو پگ کے نام پر ٹھگ ووٹ ما نگ رہے ہیں ان کی باتوں میں عوام کو نہیں آنا چاہیے ۔
بات کر تے ہیں ن لیگ کی جنہوں نے ابھی ابھی پانچ سالہ مکمل کیا ہے ۔دو دن پہلے میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا کہ میرے محترم کا لم نویس بھا ئی آصف اعوان نے ایک پوسٹ اپڈیٹ کی ہو ئی تھی جو کہ مندرجہ ذیل ہے۔کہ
’’مسلم لیگ ن میں رہنے کے لئے 3 سوال خود سے ہی پوچھیں اور اگر جواب ”نہ” میں آئے تو پنڈی روڈ پہ حافظ عمار یاسراپنے ڈیرے پر آپکا منتظر ہوگا۔
1۔ کیا تلہ گنگ ضلع بن چکا ہے؟
2۔ کیا CPEC تلہ گنگ سے گزرا؟ حالانکہ ابتدائی فیز یبلٹی میں تلہ گنگ شامل تھا۔
3۔ کیا اسٹیٹ آف دی آرٹ سٹی ہسپتال تلہ گنگ اسی حالت میں ورک کر رہا ہے جیسے چوہدری پرویز الہی صاحب کا ماڈل تھا؟
اب اس پوسٹ کو پڑھنے کے بعد میں نے بھی ایک بار سوچا کہ گو کہ بات تلخ ہے لیکن ہے تو حقیقت کہ ن لیگ کے تب کے ایم این اے سردار ممتاز خان ٹمن اور دو ایم پی ایز سردار ذوالفقار علی خان دلہہ اور ملک شہر یار اعوان نے ہماری آنکھوں میں دھول جھونکی رکھی اور عوام کے فائدہ کو اہمیت نہ دی۔ علاقہ کی بہتری کیلئے تو یہ کام تھے جن کو ان سب صاحبان نے یکسر نظر انداز کئے رکھا ۔ آصف اعوان کی یہ اپنی سوچ ہے کہ’’ تو پنڈی روڈ پہ حافظ عمار یاسراپنے ڈیرے پر آپکا منتظر ہوگا‘‘۔یہ تو ووٹرز کو دیکھنا چاہیے کہ اُن کے لئے کون بہتر ہے اور علاقہ کی بھلا ئی کیلئے کون سا امیدوار اچھا رہے گا ۔لیکن بات میں وزن ہے کہ ن لیگ والوں نے نہ ضلع تلہ گنگ بنا نے میں اپنا کردار ادا کیا صرف عوام کو لو لی پوپ دیا گیا ۔سی پیک کے معاملے میں بھی ہمارے ایم این اے سردار ممتاز خان ٹمن ایوان بالا میں آواز بلند نہ کر سکے اور نہ ہی تلہ گنگ کے سٹی ہسپتال کی بہتری کیلئے کو ئی اقدامات کئے گئے ۔ اس لئے میری اپنی قوم سے التماس ہے کہ آزما ئے ہوؤں کو آما زما نے کی بجا ئے اُس کو موقع دیں جو آپ کی محرومیاں ختم کر نے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہو ۔ووٹ آپ کے پاس ملک کی امانت ہے اس کا استعمال کسی چور ڈاکو کے نام پر مہر لگا کر نہ کریں بلکہ ایسے امیدوار کا انتخاب کریں جو آپ کیلئے اور آپ کی آنے والی نسلوں کیلئے کچھ بہتری کر سکے ۔ میری کو ئی بات کسی کو بُر ی لگی ہو تو میں معذرت چاہتا ہوں ،میں نے اپنی تحریر بغیر کسی سیاسی وابستگی اور جھکا ؤ کے لکھی ہے ۔ میرا مقصد صرف اور صرف عوام کو یہ بتا نا کہ خدارا اُن دھو کے بازوں سے بچیں جو پگ کے نعرے لگا رہے ہیں ۔ اُن میں دم خم ہو تا تو وہ ضرور ہم سب کی بہتری کیلئے اقدامات کرتے اور پانچ سال اپنی مستیوں میں نہ گزارتے ۔
قارئین! ہم سب اس بات سے تو اچھی طرح واقف ہیں کہ عام انتخابات 2018 کی سیاسی حدت پورے ملک کی طرح ضلع چکوال میں بھی پورے آب و تاب سے جاری ہے اس سلسلہ میں ہماری پُر امن ٹیم نے ایک سروے رپورٹ میں’’آج تک کون حلقہ کیلئے بہتر ثابت ہوا اورآئندہ کون ہوسکتاہے‘‘ کے نام سے حلقہ این سے 65 کی عوام سے سوال کیا اور اس سلسلہ میں تقریباً پورے حلقہ این اے 65 کا وزٹ کیا گیا جس پرعوام سردارن ٹمن کی کارکردگی پر پھٹ پڑی اور سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔عوامی و حلقوں میں جہاں سرداران ٹمن کا ووٹ بنک موجود ہے وہاں بھی اُن اکثریتی حلقوں کا کہنا تھا کہ ہم برادریوں اور دھڑہ بندیوں کی وجہ سے مجبور ہو کر سرداران ٹمن کو ووٹ دیتے ہیں لیکن اگر کارکردگی کی بنیاد دیکھی جا ئے تو انہوں نے ہمیں گلیوں نا لیوں کی سیاست اور تھا نہ کچہری کی سیاست میں آج تک الجھا ئے رکھا کچھ پڑھے لکھے اور باشعور لوگوں نے اپنے خیالا ت کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ ہم عوام جب تک سردارن ٹمن کو سر سے نہیں اتار پھینکتے تب تک ہمارے علاقے کی سیاست اسی طرح ایک گھر کی لونڈی بن کر رہے گی اور ہمارے علاقے کو محرومیاں دیکھنی پڑیں گی ،اُن کا کہنا تھا کہ شائد سرداران ٹمن یہ سمجھتے ہیں اور انہوں نے یہ فضا ء بھی بنا رکھی ہے کہ ہم سے بڑا سیاست دان کو ئی نہیں جبکہ ایسی کو ئی بات نہیں ، سرداران ٹمن کی کھوسٹ سوچ ہے ہمارے پاس بہت اچھے اور سمجھدار پڑھے لکھے نوجوان موجود ہیں جو علاقہ کی تقدید بدل سکتے ہیں،عوامی حلقوں کا مزید کہنا تھا کہ حلقہ این اے 65 کی عوام کو آج فیصلہ کر نا ہو گا کہ سرداران ٹمن ہماری کو ئی مجبوری نہیں ۔پُر امن ٹیم نے جب ٹمن شہر کا دورہ کیا اور وہاں کے لوگوں سے سرداران ٹمن کے بارے پوچھا گیا اور اپنے سروے کے موضوع کی بابت سوال کیا گیا تو ان لوگوں نے بھی بر ہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ یو نین کو نسل ٹمن محرومیوں کا گڑ بن چکا ہے بد قسمتی سے سیاست ٹمن میں چند گھروں کی لونڈی ہے عوام کو اُن کے بنیادی حقوق سے مکمل طور پر محرومی مل رہی ہے ۔ حلقہ این اے 65 کی عوام کا کہنا تھا کہ جب تک سیٹ ٹمن کے سرداروں تک محدود رہی تب تک یہی حالات رہیں گے کیو نکہ سی پیک سے تلہ گنگ وگردونواح کی محرومی اس بات کا واضع ثبوت ہے ۔ باشعور ووٹرز نے پورے حلقے کے ووٹرز سے اپیل کی ہے کہ ٹمن کے سرداروں کے علاوہ کسی اور نما ئندے کا انتخاب کریں ۔ تا کہ ہمارے حلقے کو بھی بہتری کا رُخ مل سکے ہماری آنے والی نسلیں اس غلامی کے طوق سے آزاد تب ہی ہوں گی جب ہم آج کو بہتر بنا نے کیلئے ان سرداروں کو اپنے سر سے ہٹائیں گے۔
قارئین ! میرا مقصد کسی کی ذات پر تنقید کر نا نہیں بلکہ اپنی عوام اور اپنے حلقے کے ووٹرز کو یہ شعور دینا ہے کہ اپنے حق کیلئے لڑنا سیکھو ، ملک صاحب ، چوہدری صاحب ، سردار صاحب کے کلچر کی نفی کریں تب جا کے تمہیں تمہارے حقوق ملیں گے ۔ ووٹ کا ستعمال سوچ سمجھ کر کریں کسی ٹھگ کے ہاتھ نہ چڑھیں ۔اللہ آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں