421

این اے64سے سردار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور،25جون کو طلب کرلیا

چکوال(نمائندہ بے نقاب)لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے این اے64سے سردار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی اور 25جون کو طلب کرلیا۔ ریٹرننگ آفیسر حلقہ این اے64محمد اسلم بھٹی نے قاضی عمر ایڈووکیٹ کی طرف سے دائر

اعتراضات مسترد کرتے ہوئے سردار غلام عباس کے کاغذات نامزدگی منظور کیے ۔ جس پرقاضی عمر ایڈووکیٹ نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی ،قاضی عمر ایڈووکیٹ کی طرف سے اعتراضات داخل کیے گئے کہ سردار غلام عباس نے کاغذات نامزدگی گوشوارے جمع کراتے وقت چودہ سو کنال اراضی ظاہر کی جبکہ کمپیوٹر سنٹر ریکارڈ کے مطابق مذکورہ اراضی انیس سو کنال بنتی ہے۔سردار غلام عباس نے اپنی اہلیہ کے اثاثے صرف ایک گاؤں روپوال میں نو کنال ظاہر کیے ،کوٹ چوہدریاں اور مولوال میں بیس کنال گوشوارے چھپائے گئے۔ سردار غلام عباس کروڑوں روپے اثاثے ہونے کے باوجود انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے اور ان کا این ٹی این نمبر بھی نہیں ہے۔ گوشواروں میں ڈیڑھ سو گائیں ،بھینسیں،کٹے اور بچھڑے ظاہر کیے مگر کیٹل فارم کا ذکر نہیں کیا۔کیٹل فارم کی آمدن اور اثاثے کروڑوں روپے مالیت کے بنتے ہیں۔ قاضی عمر ایڈووکیٹ نے اعتراضات داخل کراتے وقت یہ بھی لکھا کہ سردار غلام عباس کے بہاؤلپور میں واقع بینک اکاؤنٹ کی سٹیٹ منٹ نکلوائی جائے ۔سردار غلام عباس ضلع ناظم اور ممبر اسمبلی بھی رہے ۔لوگوں سے تو ٹیکس لیتے رہے مگر خود ٹیکس جمع کرانا گوارہ نہیں سمجھا۔ قاضی عمر ایڈووکیٹ کی پیروی جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ملک زعفران زلفی ایڈووکیٹ نے کی جبکہ سردار غلام عباس کی طرف سے امیر بٹ ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے۔مسٹر جسٹس عباد الرحمن لودھی نے اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے پچیس جون کو سردار غلام عباس کو طلب کرلیاہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں