111

بے رحم سیاست کی دھار۔۔سخت فیصلوں کی ضرورت…………..تحریر امیر عبداﷲ ملک

قارئین!کاغذات نامزدگی کے مراحل طئے ہونے کے بعد امیدوار وں کے فائنل ہونے کا سلسلہ بھی تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور جب تک یہ سطور آپ کے زیر نظر ہونے لگیں گی الیکشن مہم زوردار طریقے سے شروع ہوچکی ہوگی۔

قارئین! سیاست بھی کتنی بے رحم چیز ہے کل کا دشمن آج کا دوست اور کل کا دوست آج کا دشمن بن رہاہے منافقت کے اس دور میں ایک دوسرے کو بچھاڑنے کا عمل جاری ہے خاص کر ہمارے ضلع چکوال میں اصل مقابلہ تو مسلم لیگ(ن) اور پی ٹی آئی میں ہے لیکن میدان میں ایم ایم اے،تحریک لبیک اور پیپلز پارٹی بھی موجود ہے اور اس کے علاوہ آزاد امیدوار بھی قسمت آزما رہے ہیں۔مسلم لیگ(ن) جوکہ ونر جماعت تھی اس بار شدید انتشار کا شکار ہے NA-65 سے سابقہ ممبر قومی اسمبلی سردار ممتاز ٹمن نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے اور ساتھ ہی ان کے بھانجے اور سابق ایم این اے سردار فیض ٹمن نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروائے جنہیں سابق صوبائی وزیر ملک سلیم اقبال کی حمایت صاصل تھی کیونکہ سابق ایم پی اے پی پی 24 سے سردار ممتا ز کی ذہنی ہم آہنگی نہ تھی لٰہذا ملک شہریار جوکہ سلیم اقبال کے قریبی عزیز ہیں لہٰذا ملک سلیم اقبال نے ” جاتی امراء” کے تخت نشینوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ موجودہ حالات میں سردار ممتا ز ٹمن کمزور جبکہ فیض ٹمن مضبوط امیدوار ہیں اور یوں زبردست مقابلہ کے بعد سابق صوبائی وزیر ملک سلیم اقبال اپنے مشن میں کامیاب ہوگئے اور مسلم لیگ (ن) کا این اے پینسٹھ کیلئے ٹکٹ فیض ٹمن کو مل گیا ہے جبکہ سردار ممتاز ٹمن نے (ن) کے خلاف اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان کردیا ہے ۔سردار ممتاز ٹمن بزرگ سیاست دان ہیں اور علاقہ بھر میں ان کا ذاتی ووٹ بنک ہے لہٰذا آنے والے وقت میں مسلم لیگ(ن) کیلئے میدان سخت ہوگا۔ادھر مسلم لیگ(ق) اور پاکستان تحریک انصاف کے اشتراک سے این اے پینسٹھ سے چوہدری پرویز الٰہی اور پی پی 24 سے حافظ عمار یاسر موجود ہیں اس میں کوئی شک نہیں سابق دور میں چوہدری پرویز الٰہی نے حافظ عمار یاسر کی وساطت سے اربوں روپے تلہ گنگ میں خرچ کئے لیکن تلہ گنگ شہر میں اس کے باوجود بھی تلہ گنگ اور لاوہ سے چوہدری صاحب کو ایک لاکھ کے قریب ووٹ ملے جبکہ چوہدری پرویز الٰہی کے فنڈز صرف شہر تلہ گنگ تک محدود رہے اور چوہدری پرویز الٰہی کے کرتا دھرتا انہیں سب اچھا کی رپورٹ دیکر انہیں تلہ گنگ سے فارغ کرتے رہے جسکی وجہ سے چوہدری پرویز الٰہی الیکشن ہارتے رہے ۔گزشتہ دور میں اگر چوہدری پرویز الٰہی تلہ گنگ اور لاوہ کے گاؤں گاؤں شہر جاکر علاقہ کے لوگوں سے ملاقاتیں کرتے تو ان سے شناخت پیداکرتے اور پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ الیکشن میں کامیاب نہ ہوپاتے اور علاقہ بھر کے لوگوں کی اب بھی یہی رائے ہے کہ اگر اب بھی چوہدری پرویز الٰہی نے علاقہ کے لوگوں سے ملاقاتیں نہ کیں اور گاؤں گاؤں چکر نہ لگایا اور جلسے جلوس نہ کئے تو نتائج گزشتہ دور کے ہی آئیں گے۔لہٰذا اس سلسلہ میں حافظ عمار یاسر اور ھاجی عمر حبیب صاحب کو مشور ہ ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کو قریہ قریہ اور گاؤں گاؤں لایا جایئے اور علاقہ بھر کے معززین سے فرداً فرداً ملاقاتیں کروائیں تو حالات یکدم تبدیل ہوسکتے ہیں ورنہ صرف تلہ گنگ سے ہی سب اچھا کی رپورٹ سے حالات اور نتائج کبھی بھی تبدیل نہیں ہو سکیں گے۔
ادھر ایم ایم اے کے نوجوان امیدوار ڈاکٹر حمیداﷲ ملک بھی اپنی انتخابی مہم زوروں پر چلائے ہوئے ہیں دیکھئے قسمت ان کا کتنا ساتھ دیتی ہے۔ادھر پیپلز پارٹی کے ملک ہاشم جوکہ علاقہ ڈھرنال سے تعلق رکھتے ہیں میدان میں موجود ہیں ۔آزاد امیدواروں میں قابل ذکر سردار منصورٹمن،کرنل (ر) سلطان سرخرو ہیں جوکہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے ہیں اور پاکستا ن تحریک انصاف کو انتہائی حالات میں مضبوط سہارا دیئے رکھا لیکن پی ٹی آئی نے عین شباب پر انہیں دھوکہ دیا جوکہ ان دونوں حضرات کے ساتھ زیادتی ہے۔ان دونوں حالات میں جہاں سردار ممتاز ٹمن سے بیوفائی پر (ن)مشکلات میں گھرسکتی ہے وہاں کرنل(ر) سلطان سرخرواور سردار منصور ٹمن بھی اس بیوفائی پر پاکستان تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں بحرحال انتخابی مہم زوروں پر ہے گھوڑا اور میدان سب چیزحاضر ہے ۔دیکھئے 25 جولائی کو کیا نتیجہ نکلتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں