199

تلہ گنگ کی پگ اور پگ کے ٹھگ …تحریر…ملک آصف اعوان چوکھنڈی .

الیکشن 2018 جوں جوں قریب آ رہا ہے توں توں سیاسی گہما گہمی اور سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے. اس بڑھے ہوے درجہ حرارت میں نہ جانے کتنوں کو ہیٹ سٹروک ہوگا ، کتنے بیچارے حبس اور گرمی سے نڈھال ھو کر بیہوش ھو جائیں گے اور جن سیانوں نے اس کی پہلے سے پیش بندی کر رکھی ھو گی اور اسکا توڑ ہوگا انکے پاس وہ الیکشن کی چلملاتی دھوپ اور تپتے ہوے درجہ حرارت کے باوجود ہشاش بشاش ہونگے .

حلقہ این اے 65 ، پی پی 23 اور پی پی 24 کی بات کرنا چاہتا ھوں . میدان سج چکا ہے اور ویسے تو ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست ذرا طویل ہے لیکن میں چاہوں گا کہ مین پلیئرز کو ہی ڈسکس کریں تاکہ مدعہ واضح ھو .باقی پنجاب سے ہٹ کر ہمارے پاس حالات ذرا مختلف ہیں یہاں مقابلہ نون لیگ اور PTI میں نہیں بلکہ نون لیگ اور ق لیگ میں ہوگا اور ق لیگ کی طرف سے چوہدری پرویز الہی اور انکے دست راس حافظ عمار یاسر صاحب اوپنر ہونگے جبکہ انکا مقابلہ نون لیگ کے بزرگ کھلاڑی ممتاز خان ٹمن اور نوجوان آل راؤنڈر شہریار اعوان کے ساتھ ہوگا لیکن یہاں ایک دلچسپ صورتحال ہے کہ نوجوان بزرگ کے بجاۓ مڈل آرڈر سردار فیض ٹمن کے ساتھ کریز پے آنا چاہتا ہے جبکہ بزرگ کی بیٹنگ سٹریٹجی ابھی واضح نہیں ھو پا رہی. خیر لوکل پلیئرز جو بھی ھوں مد مقابل حافظ عمار یاسر صاحب اپنے اوپن پلیئر کے ساتھ ہر دم بلکہ تازہ دم اور ہمہ دم تیار ہیں.

“تلہ گنگ کی پگ”….آہ…!!!!
اس نام نہاد پگ نے ہمارا جو نقصان کیا ہے شائد میرے الفاظ اسکا احاطہ نہ کر سکیں. 2008 میں سابق وزیر اعلی پنجاب اور 2013 میں سابق ڈپٹی وزیر اعظم کو اسی پگ نے تلہ گنگ جیسے پسماندہ علاقے کی محرومیاں دور کرنے سے روکا. کوئی مانے یا نہ مانے چوہدری پرویز الہی جیسے ویژنری بندے کا تلہ گنگ سے ہار جانا بلا شبہ ہماری بدقسمتی تھا. شہباز شریف کے 10 سالہ دور اقتدار اور چوہدری پرویز الہی کے 5 سالہ اقتدار کو اگر معیار کی کسوٹی پر پرکھا جاۓ تو ایک طرف ریسکیو 1122، پٹرولنگ پولیس ، ٹریفک وارڈن سسٹم، مفت تعلیم، زرعی انقلاب اور کئی دوسرے کارآمد منصوبے شامل ہیں جبکہ دوسری طرف میٹرو ، میٹرو اور میٹرو چاہے بس ھو یا ٹرین اور وہ بھی صرف لاہور میں .
جب بھی الیکشن آتا ہے ایک بات جو ہمارے لوکل سیاستدان عموماً ہر جگہ کہتے ہیں کہ کسی باہر کے بندے کو یہاں سے جیتنے نہیں دیں گے .. لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ تلہ گنگ کو گیس کس نے دی اسی باہر والے نے ، سٹی ہسپتال کس نے بنا کے دیا اسی باہر والے نے ، بلکسر میانوالی روڈ ، آنکڑ پل ، گرلز ڈگری کالج اور تو اور سرداران ٹمن کے گاؤں کی پل بھی اسی باہر والے کی مرھون منت ہے لیکن ووٹ باہر والے کو نہیں دینا .. کیوں بھائی ..؟؟
کیونکہ ہماری پگ گجرات چلی جاۓ گی. واہ جی واہ آپکی انوکھی منطق…!!
دیکھیں جی ہم تلہ گنگ کے مکین جب بھی کسی مہمان کو اپنے تلہ گنگ میں بلاتے ہیں تو عزت افزائی کے طور پر اپنی پگ اس کے سر پر رکھتے ہیں تو کیا یہ عزت افزائی اس شخص کی نہیں ہونی چاہیے جس نے ہمیں علاج کے لئیے رلتے دیکھا تو ہسپتال بنا دیا، روڈوں پے خوار ہوتے دیکھا تو سڑکیں اور پل بنوا دیئے ، شہر میں لکڑیاں جلاتے دیکھا تو گیس لگوا دی اور آپکی اور میری پگ کے نام نہاد محافظوں نے کیا کیا.؟؟ اسی ہسپتال کی آئی ہوئی مشینری تک کو نہیں روک پاۓ ، میانوالی روڈ پے آۓ روز کی اموات کے باوجود سڑک دورویہ نہیں کروا سکے جبکہ اپنی ذات کے لئیے تو ٹمن میں 40 سال پہلے گیس لگوا لی.. مجھے تو حیرت ہے کہ ہم کیوں ایسے لوگوں کو منتخب کرتے ہیں جو منہ میں گھگھنیاں ڈال کر اسمبلی میں بیٹھتے ہیں اور CPEC جیسے منصوبے کی تلہ گنگ سے منتقلی پر بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کئیے رکھتے ہیں..
دوسری طرف حافظ عمار یاسر جس نے اس سرداری نظام کے خاتمے کی ٹھان لی ہے اور سر بکف ھو کر میدان میں آ گیا ہے . اب چاہے پگ ھو یاشملا ،دھوتی ھو یا “پرنا” یا کوئی بھی باعث عزت چیز ،سجے گی اسی کے سر جس نے ہماری سنی، ہمارے بارے میں سوچا، ہماری محرومیوں کا ازالہ کیا اور ہماری پریشانیوں کو سمجھا اور پھر انکو حل بھی کیا. ایک چیز جو میرے مشاہدے میں آئی ہے کہ حافظ عمار یاسر تلہ گنگ کے نوجوانوں کا حقیقی لیڈر ہے اور میں اپنے حلقہ احباب میں کئی لوگوں سے واقف ھوں جو برملا کہتے ہیں کہ پارٹی وابستگی اپنی جگہ لیکن جس دن فرزند تلہ گنگ بنفس نفیس ہماری نمائندگی کے لئیے آیا اس دن ہر قسم کی سیاسی وابستگی ، ذات برادری اور سنگت سہیلی پس پشت ڈال کر فرزند تلہ گنگ کی قربانیوں اور خدمت کا بدلہ دیں گے. حافظ عمار یاسر نے آج تک کسی بھی بندے کو اپنے ڈیرے سے خالی نہیں جانے دیا اور اس بندے کی سیاسی وابستگی سے قطع نظر اسکا کام کیا. میرے پاس حافظ صاحب کی کارکردگی یا خدمت کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ان سطور میں اسکو سمیٹنا ممکن نہیں.
میں آخر میں تلہ گنگ کی باشعور عوام سے ایک اپیل کرنا چاہتا ھوں کہ اگر آپ علاقے کی ترقی ، صحت و تعلیم ، روزگار اور بچوں کے بہتر مستقبل کے خواہاں ہیں تو خدارا درویش صفت انسان حافظ عمار یاسر کی مدد کیجئے تاکہ اقتدار موقع پرستوں اور مفاد پرستوں کے چنگل سے آزاد ھو کر ایک درد مند انسان کے پاس آۓ جو میری اور آپکی آواز بنے…

اللّه آپکا حامی و ناصر ھو …

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں