115

تلہ گنگ کو عزت دو۔۔۔۔۔تحریر….امیر احسان اللہ چینجی

تلہ گنگ کے سیاسی اکھاڑے میں قومی و صوبائی سطح پر صورتحال بڑی دلچسپ ہوگئی ہے۔ سردار منصور حیات ٹمن شدید بے چینی میں مبتلا ہیں کیونکہ تاحال اعلی قیادت نے پارٹی ٹکٹ کے حوالے سے

ان کے حق میں فیصلہ نہیں دیا۔ اپنے تئیں سردار منصور حیات اور ان کے قریبی رفقاء یقین دہانی کراتے نظر آتے ہیں کہ قومی سطح پر پارٹی ٹکٹ ان کو ہی ملے گا۔ ان کی طرف سے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا گیا لیکن خاطر خواہ نتائج تاحال برآمد نہ ہوسکے۔ فواد چوہدری کی پریس کانفرنس کو بطور نمونہ پیش کیا جا رہا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ق اور پی ٹی آئی اتحاد کے فیصلے کا اختیار مقامی قیادت کو حاصل ہے۔ یہ ایک کمزور سی دلیل تو ضرور ہے کیونکہ اعلی سطح پر جس قدر مصروفیات ہیں وہاں اب فیصلہ سازی کے لئے وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ جو کام ہونے تھے ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف چوہدری پرویز الہی کے دست راست و دیگر ساتھی حلقے بھر میں پرویز الہی کو حلقہ این 65 جبکہ حافظ عمار یاسر کو پی پی 24 میں ق اور پی ٹی آئی کے مشترکہ امیدوار کے طور پر پیش کرتے ہوئے انتخابی مہم کا آغاز بھر پور طریقے سے کرچکے ہیں۔ اس سلسلے میں کوہٹیڑہ بھٹیاں میں ق پی ٹی آئی کے الیکشن دفتر کا بھی افتتاح کردیا گیا ہے۔ سردار عباس گروپ کے لوگ بھی ق لیگ کے نمائندوں کو خوش آمدید کہتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس افتتاح کے موقع پر کئی پرانے مسلم لیگی بھی دکھائی دیئے جو مسلم لیگ ن کے لئے پریشانی کا باعث ہیں۔ حاجی عمر حبیب کے طوفانی دوروں سے مخالفین کی نیندیں حرام ہوچکی ہیں۔ جس بھر پورانداز میں ق لیگ کو ہر یونین کونسل میں پذیرائی مل رہی ہیں اس سے تلہ گنگ کی سیاست میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہونے جارہی ہے۔ سردار فیض ٹمن کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا یہ بہت اہم پیش رفت ہوگی۔ اطلاعات ہیں کہ سرداران ٹمن پرویز الہی کے خلاف ایکا بھی کر سکتے ہیں تاہم یہ بات اپنی جگہ قائم ہے کہ سردار منصورحیات کسی بھی صورت میں الیکشن لڑنے کا شوق ضرور پورا کریں گے اور یوں بلے کے نشان سے ہٹ کر الیکشن لوہے کے چنے ثابت ہوسکتے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق سردار ممتاز ٹمن کو مسلم لیگ کا ٹکٹ دیئے جانے کی اطلاعات ہیں لیکن عوامی حلقوں میں سردار ممتاز اپنا سیاسی جاہ و جلال کھوچکے ہیں اور ایسی صورت میں ن لیگ اپنی سیٹ کھو بھی سکتی ہے۔ عوامی رائے کے مطابق سردار ممتاز ٹمن اپنے دور میں تلہ گنگ کے مسائل کا مقدمہ اسمبلی میں پیش کرنے میں ناکام رہے اور کسی ایک اجلاس میں ایک لفظ تک نہ بولا۔ ان کے حوالے سے مسلم لیگیوں میں بھی بغاوت پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق سردار ممتاز ٹمن کو ایک بار پھر ٹکٹ دینا حلقے کے عوام سے شدید زیادتی کے مترادف ہے۔ اگر پارٹیوں سے بالاتر ہوکر سرداران ٹمن ایکا کرتے ہیں تو مشترکہ محاذ پرویز الہی کو ٹف ٹائم دے سکتاہے۔ قومی اسمبلی کی نشست کے لئے ایم ایم اے کے امیدوار حافظ حمید اللہ بھی میدان میں ہیں اور ان کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ وہ بھی اچھا خاصا ووٹ لے سکتے ہیں تاہم شائد جیت نہ پائیں لیکن اپ سیٹ کرنے کی پوزیشن میں ضرور ہیں۔ قارئین تلہ گنگ کے مسائل جوں کے توں موجود ہیں اور اس دفعہ انتخابی نعرہ بھی یہی بلند ہورہا ہے کہ تلہ گنگ کو عزت دو۔ اگر کسی حد تک تلہ گنگ کے مطالبات پر سابقہ حکومت سنجیدہ ہوتی تو صورتحال مختلف ہوتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں