127

کب نکلو گے……تحریر۔۔۔۔ امیر احسان اللہ چینجی

ہم بے چارے ہیں لیکن ہماری بے چارگی کا سبب ہم خود ہیں۔ ایک دن غلطی کر کے پانچ سال تک پچھتاوے کی آگ میں جلنا ہمارا مقدر بن گیا ہے۔ ہمیں ریوڑ کی طرح ہانک کر پرچی ڈلوا دی جاتی ہے اور پھر رونا۔ ہم نے اپنے ضمیر میں جھانکنا چھوڑ دیا ہے یا شائد ہمیں احساس نہیں کہ ضمیر نام کی کوئی شے ہمارے اندر ہے۔

ہم آس اور امیدوں پر ساری ساری زندگی قربان ہوتے رہتے ہیں لیکن مایوسیوں اور محرومیوں کے باوجود ہم انہی بے وفا لوگوں کے مفت وکیل بن کر بحثوں میں الجھتے ہیں۔ ہم اپنوں کا تقدس بھی بھول جاتے ہیں۔ ہم اندھی تقلید میں دینی تقاضوں کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ چمکتی گاڑیوں سے اترنے والے سیاسی پنڈتوں کی مصنوعی مسکراہٹ کے جھانسے میں ایسے آتے ہیں کہ پچھلے پانچ سالوں کی اذیتوں کو بھی فراموش کردیتے۔ ہیں۔ اپنے کندھے ان کی ہلکی سی تھپکی ہمیں فخر محسوس ہوتی ہے۔ یہ سیاسی بہروپیۓ ہر بار نئے خواب دکھا کر ہمارا ضمیر ہم سے چھین لے جاتے ہیں اور ہم بت بنے تعظیم کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ وہ سارے سوال جو ہم نے پوچھنے ہوتے ہیں۔ ہاتھ ملاتے ہی بھول جاتے ہیں۔ جو لوگ ہمارے ملک کو لوٹ کر کھاتے ہیں وہی ہماری جہالت پہ جشن مناتے ہیں۔ عوامی خدمت کا نعرہ بلند کرتے ہیں لیکن شائد خدمت کا جو مطلب ہم سمجھتے وہ ان کی ڈکشنری میں موجود ہی نہیں۔ جس ملک میں وزیر تعلیم میٹرک پاس بھی ہو سکتا ہو وہاں تعلیمی معیار بھی پرائمری جیسا ہی ہوگا۔ میں حیران ہوتا ہوں ان والدین سے جو بچور کو شعور و آگہی کے لئے تعلیم دلواتے ہیں۔ یونیورسٹیز بھیجتے ہیں۔ جب وہی بچے اپنی تعلیم کے مطابق کوئی سیاسی فیصلہ کرتے ہیں تو والدین آگ بگولہ ہوجاتے ہیں۔ وجہ شائد یہی ہے کہ آباؤاجداد سے سیاسی غلامی کا جو طوق ہم نے پہنا ہوا ہےس سے خود کو آزاد کرانا نہیں چاہتے۔ سب سے زیادہ کرپٹ ہم ہیں جو ناموزوں سیاسی پنڈتوں کے لئے مزید کرپشن کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ ہماری دی ہوئی سیاسی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لیکن کیا کریں ہمیں ذلت و رسوائی کی اندھیر دنیا اتنی پسند ہے کہ روشنی کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ احساس مردہ ہوچکے ہیں اور سیاسی معذور ہوچکے ہیں۔ ہم تاریکیوں میں بھٹک بھٹک کر جینا چاہتے ہیں۔ ہماری مثال چلتے پھرتے مردہ انسانوں جیسی ہے جن کا ریمورٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ کب ہوگی صبح اور کب ہم جاگیں گے خواب غفلت سے۔ اب ہمیں اٹھناہوگا اپنی نسلوں کے لئے اور سیاسی کاروباریوں کے خلاف الم بغاوت ہاتھ میں لینا ہوگا بہت ہوگیا اس قوم کا استحصال۔ لوگو آج ایک بار پھر پچیس جولائی کو ایک موقع ملے گا۔ جھانسے میں آئے بغیر اپنی پچھلی محرومیوں کو یاد کرو۔ نئے وعدوں کی زنجیر میں یہ سیاسی کاروباری آپ کو جکڑیں گے لیکن جن لوگوں نے آپ کا پیٹ کاٹ کر لندن میں جائیدادیں بنائی ہیں ان کے نام نہاد نمائندوں سے مزاحم ہوں۔ پوچھیں ان سے کہ ہمیں ایک مقروض قوم بنا کر خود لندن کے ہسپتالوں میں علاج کراتے ہو جبکہ یہاں کے ہسپتالوں میں غریب رُل رہا ہے۔ خود منرل واٹر پیتے ہو اور عوام بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ جن کے بچے پاکستانی ہی نہیں ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ حکمرانی ہم پہ کریں۔ یہی لوگ نہ صرف آپ کے بلکہ پاکستان دشمن ہیں۔ ان کی چالیں کب سمجھو گے جب آخری سانس ہوگی۔ خدارا ان اندرونی خطرناک لوگوں کی گھناؤنی سازشوں کو سمجھو۔ کرسی کی خاطر یہ ماڈل ٹاؤن کی طرح لاشیں بھی بکھیر سکتے ہیں۔ نکلو اپنے لئے اپنی نسلوں کے لئے اور سکھا دو ایسا سبق کہ تاریخ بن جائے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں