236

امیدواروں کی صبح شام کی قلابازیوں اور دن بدن بدلتی سیاسی صورتحال نے ووٹرز کو چکرا کر رکھ دیا،صبح ایک امیدوار کے حق میں دعائے خیر کی جاتی ہے تو شام کو وہی امیدوار کسی اور پارٹی اور گروپ میں جا چکا ہوتا ہے ،

چکوال( نمائندہ بے نقاب ) امیدواروں کی صبح شام کی قلابازیوں اور دن بدن بدلتی سیاسی صورتحال نے ووٹرز کو چکرا کر رکھ دیا،پہلا الیکشن ہے جس میں امیدواروں کی بجائے ووٹرز ٹینشن کا شکار ہو گئے،صبح ایک امیدوار کے حق میں دعائے خیر کی جاتی ہے تو شام کو وہی امیدوار کسی اور پارٹی اور گروپ میں جا چکا ہوتا ہے ،حامیوں اور اسپورٹرز کے اپنے امیدواروں کے لیے بنوائے گئے لاکھوں روپے کے بینرزا ور

پینا فلیکس تباہ،تفصیلات کے مطابق آمدہ جنل الیکشن میں ضلع چکوال میں عام ووٹرز انتہائی عجیب و غریب صور تحال سے دوچا ر ہیں،ضلع بھر کی معرووف سیاسی شخصیت اور سابق صوبائی وزیر و ضلع ناظم سردار غلام عباس جو الیکشن کی تاریخ کے اعلان سے قبل تک ن لیگ کا جھنڈا اٹھائے پھر رہے تھے اور ن لیگ کے پرجوش حامی تھے نے عین الیکشن سے ڈیڑھ ماہ قبل ن لیگ سے اپنی پرانی جماعت پی ٹی آئی میں چھلانگ لگا دی،پی ٹی آئی کے ورکرز ابھی اس صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہے تھے کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے نظریاتی ورکرکوں کو نظر انداز کر کے سردار غلام عباس کو قومی اور ان کے بھتیجے سردار آفتاب اکبر کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کر دیا،جس کیپی ٹی آئی کے ضلعی صدر منصور حیات ٹمن نے اعلان بغاوت کر کے آزاد حیثت میں الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا، کے فوری بعد پاکستان مسلم لیگ نے اپنے سابق رکن اسمبلی سردار ممتاز ٹمن کی بجائے قومی اسمبلی کا ٹکٹ ان کے بھتیجے سردار فیض ٹمن کو جاری کر دیاجس کے بعد سردار ممتاز ٹمن نے ن لیگ کی بجائے ق لیگ کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی کی حمایت کا اعلان کر دیا،دوسری طرف چکوال کے دو وکلاء نے پی ٹی آئی کے امیدوران اسمبلی سردار عباس و آفتاب اکبر کے خلاف اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا جس پر الیکشن ٹربیونل نے سردار عباس و آٖتاب اکبر کو الیکشن کے لیے ان اہل قرار دے دیا ،ان دونوں نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور اب اپنی قسمت کے فیصلے کے منتظر ہیں جو کہ دو جولائی کو ہونا ہے،ضلعی سیاست کا سب سے بڑا اپ سیٹ اس وقت ہو ا جب ن لیگ سابق ایم پی اے اور اعلیٰ قیادت کے دیرینہ ساتھی سردار ذوالفقار دلہہ جو کہ پی پی 23سے ن لیگ کے سکہ بند امیدوار تھے اور صرف دو دن قبل پارٹی کو اپنی ماں کا درجہ دیتے تھے نے اچانک ن لیگ کا ٹکٹ واپس کر کے پی ٹی آئی جائن کرنے کا اعلان کر دیا،ساتھ ہی اگلے دن پی ٹی آئی کی طرف سے جاری کیا گیا ٹکٹ میڈیا میں شو کر کے ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع کرا کر کھلاڑی بن گئے،سردار ذوالفقار دلہہ کے پی ٹی آئی میں آجانے سے جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کے نظریاتی ورکرز نے قیادت کے اس فیصلے پر حیرانی و پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا وہیں ن لیگ کے پاس اب پی پی 23میں کوئی قابل ذکر امیدوار نہیں بچا جس کے بعد ایک غیر معروف شخصیت کرنل ر مشتاق کو اس حلقے سے ن لیگ کا ٹکٹ جاری کر دیا گیا ہے ادھر سابق ٹکٹ ہولڈر سردار غلام عباس نے نئے آنیوالے سردار ذوالفقار دلہہ کے ساتھ اتحاد کو یکسر مسترد کر دیا تاہم این اے 65پر چوہدری پرویز الٰہی اور پی پی 21,پی پی22اور پی پی 23پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے،دو جولائی کے فیصلے کے بعد اگر سردار عباس کو الیکشن کے لیے اہل قرار دے دیا جاتا ہے تو پی ٹی آئی کیا انہیں دوبارہ اپنا امیدوار نامزد کر دے گی یا ان سے واپس لیے گئے ٹکٹ پر ان کے شدید مخالف سردار ذوالفقار دلہہ ہی پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے ایسی صورتحال میں عام ووٹرز کیا فیصلہ کریں گے اور اپنا وزن کس کے حق میں ڈالیں گے یہ آنیوالا وقت ہی بتائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں