124

سرداروں کی جنگ، محاذ ایک ………..تحریر،امیر احسان اللہ چینجی

سردار ذوالفقار دلہہ کو اچانک این اے 64 سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ ملنے کے بعد جیسے چکوال کی سیاست میں بھونچال آگیا۔ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں میں شدید قسم کی بے چینی دیکھنے کو ملی۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن چکوال نے شادیانے بجانا شروع کردئے کہ موجودہ اختلافات سے ان کو براہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ راجہ یاسر سرفراز اور طارق افضل کالس نے سردار غلام عباس کے ساتھ کھڑے رہنے کا عندیہ دیا۔

خوش قسمتی سے اسی روز چوہدری پرویز الہی کا دورہ چکوال معاون ثابت ہوا اور چکوال تحریک انصاف کی بقا کا مؤجب بنا۔ جب چوہدری پرویز الہی نے براہ راست عمران خان سے سردار غلام عباس کو منانے کی درخواست کی۔ بلاشبہ سردار غلام عباس ضلع چکوال کے دونوں حلقوں میں ایک وسیع اثر و رسوخ کے مالک ہیں اور وہاں ایک مضبوط ووٹ بینک رکھتے ہیں۔ آزاد حیثیت سے بھی سردار غلام عباس کی سیاست کا صوبہ بھر میں طوطی بولتا ہے اور انہیں کسی سیاسی جماعت کے سہارے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ کسی بھی سیاسی جماعت کو ضلع چکوال میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کیلئے سردار غلام عباس کی ضرورت ہے اور تحریک انصاف کی جانب سے غلط وقت پر غلط فیصلہ بلاشبہ تحریک انصاف کی ضلع چکوال میں بقا کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتا لیکن سردار عباس کے دانش مندانہ فیصلے نے تحریک انصاف کو ایک تاریخی شکست سے دوچار ہونے سے بچا لیا۔یہ سطریں شائع ہونے تک سردار غلام عباس کی اہلیت کا فیصلہ بھی آ جائے گا ایسی صورتحال میں ان کا فیصلہ کیا ہوگا تاہم اگر عباس خان نے الیکشن میں آزاد حیثیت سے حصہ لیا تو پی ٹی آئی کے کارکن بڑی تعداد میں ان کا ساتھ دینے کے لئے پرعزم ہیں۔ ناقدین کے مطابق ایسی صورتحال میں دونوں سردار سیٹ گنوا کر مسلم لیگ کو فائدہ پہنچانے میں معاون ثابت ہونگے۔ ناقدین کا یہ بھی تجزیہ ہے کہ اگر اب عباس خان ذوالفقار دلہہ کی حمایت کا اعلان بھی کردیں تو عباس گروپ کا ووٹر ذوالفقار دلہہ کو ووٹ نہ دے سکیں گے۔ خبریں مل رہی ہیں کہ مسلم لیگ کے بعض حلقے الیکشن میں بائیکاٹ پر غور کررہے ہیں تب چکوال 1 کی سیٹ ن مخالف امیدار کو جا سکتی ہے۔ اس ساری صورتحال کے پیش نظر پی ٹی آئی کا ووٹر فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ ووٹ بلے کو دیں یا سردار غلام عباس کو دیں۔ تمام تر نظریں راجہ یاسر سرفراز پر مرکوز ہیں کہ وہ کہاں کھڑے ہونگے۔ اگر عباس خان نااہل یا اہلیت کے بعد خود کو الیکشن سے دستبردار کر لیتے ہیں تب ووٹرز کی پریشانی کم ہوسکتی ہے۔ پارٹی ٹکٹ کے ردعمل میں عباس خان نے انتہائی دانشمندانہ پالیسی اختیار کرکے پارٹی میں اپنی پوزیشن مضبوط کرلی ہے جس کا فائدہ وہ مجموعی کامیابی کے بعد اٹھا سکتے ہیں۔ اگر پرویز الہی دو یا زائد سیٹوں پر کامیاب ہوجاتے ہیں تو ضمنی الیکشن میں عباس خان پرویز الہی کی حلقہ 65 والی خالی کردہ سیٹ پر پی ٹی آئی کے امیدوار بھی ہوسکتے ہیں۔ سردار آفتاب اکبرکو بھی اگلے صوبائی سیٹ اپ میں اہم ذمہ داری دی جا سکتی ہے۔ ادھر چکوال 2 میں پرویز الہی کے طوفانی دورے کے بعد صورتحال کافی حد پرویز الہی اور عمار یاسر کے حق میں ہموار ہوچکی ہے۔ سردار ممتاز ٹمن کی کھلی حمایت کے بعد تحصیل لاوہ میں بڑے بڑے نام پرویز الہی کا ساتھ دینے کو تیار ہوچکے ہیں اور سردار ممتاز نے بھی اعلان کیا ہے کہ پرویز الہی کا جیتنا میرا جیتنا ہے۔ وہ کھلم کھلا زبردست الیکشن مہم میں مصروف ہوچکے ہیں اور اپنے معتمد ساتھیوں کو متحرک کرچکے ہیں۔ پرویز الہی کی دوسری بڑی ملاقات کرنل سلطان سرخرو سے انکے ڈیرے پہ ہوئی جہاں زبردست استقبال ہوا اور کرنل سلطان نے ہر قسم کی حمایت کا جذباتی انداز میں اعلان کیا۔ پرویز الہی کے دورے کے آفٹر شاکس اب بھی محسوس ہورہے ہیں البتہ عمار یاسر اور شہریار کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہوگا۔ سردار فیض بھی متحرک ہوچکے ہیں لیکن مسلم لیگیوں کو ہر جگہ مزاحمت کا سامنا ہے۔ پورے ضلع میں سردار غلام عباس مقبول عام ہیں اور وہ دونوں حلقوں میں اپنی مقبولیت کو کیش کرا سکیں گے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں