420

بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے، پاکستان تحریک انصاف کے آفتاب اکبر اور آزاد امیدوار سردار غلام عباس حلقہ این اے64انتخابات کی دوڑ سے باہر ہوگئے

چکوال(نمائندہ بے نقاب) بڑے بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے، پاکستان تحریک انصاف کے آفتاب اکبر اور آزاد امیدوار سردار غلام عباس حلقہ این اے64انتخابات کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔سپریم کورٹ آف پاکستان میں انتخابی عذرداری کی سماعت کے دوران حلقہ پی پی 23 چکوال سے پی ٹی آئی کے امیدوار سردار آفتاب اکبر اور این اے 64 چکوال سے آزاد امیدوار سردار غلام عباس کی درخواست مسترد کردی گئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے سردار غلام عباس کے متعلق ریمارکس دیے کہ ان کا تو انکم ٹیکس ریکارڈ ہی نہیں ہے۔جس پر سردار غلام عباس کے وکیل کامران مرتضیٰ نے جواب دیا کہ انکم ٹیکس ریکارڈ تو اس لیے نہیں کہ آمدن ہی نہیں ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر آمدن نہیں ہے تو الیکشن کیسے لڑیں گے؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ نے جائیداد بھی ظاہر نہیں کی۔غلام عباس کے وکیل کامران مرتضیٰ نے جواب دیا کہ تمام جائیداد ظاہر کی ہے، یہ وراثتی جائیداد ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کے موکل کا تو این ٹی این نمبر ہی نہیں ہے۔کامران مرتضیٰ نے کہا کہ این ٹی این نمبر نہ ہونے پر نااہلی نہیں ہوتی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ افسوس ہے کہ ہمارے عوامی نمائندے اعلیٰ معیار پر مشکل سے پورا اترتے ہیں۔عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے درخواست مسترد کردی اور کہا کہ وجوہات تفصیلی فیصلے میں بتائی جائیں گی سردار غلام عباس نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، ان کی جانب سے ایڈووکیٹ کامران مرتضیٰ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ سردار غلام عباس نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دے دی ہے اور نظر ثانی کی درخواست سپریم کورٹ کا فل بینچ جلد کرے گا۔ اُدھر سردار غلام عباس نے اپنے مستقبل کا سیاسی لائحہ عمل طے کرنے کیلئے گیارہ جولائی کو اپنے تمام ساتھی چیئرمین ، وائس چیئرمین اور کونسلرز اور گروپ کے عمائدین کا مشاورتی اجلاس بلکسر میں طلب کر لیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں