105

الیکشن ۲۰۱۸ء کے امیدواران سے الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ کوڈ آف کنڈکٹ پر عملدرآمد کے بارے انتخابی امیدواران کی آگاہی کے لیئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے زیر صدارت کمیونٹی سنٹر میں ایک اجلاس کا انعقاد

چکوال(نمائندہ بے نقاب)الیکشن ۲۰۱۸ء کے امیدواران سے الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ کوڈ آف کنڈکٹ پر عملدرآمد کے بارے انتخابی امیدواران کی آگاہی کے لیئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے زیر صدارت کمیونٹی سنٹر میں ایک اجلاس کا انعقاد کیا گیا ۔ جس میں ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کے علاوہ تمام سیاسی امیدواران نے شرکت کی ۔اپنے خطاب میں ڈی سی نے کہا کہ ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کیا جائے

کسی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی انہوں نے بتایاکہ الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق تمام امید واران ہر قسم کے تشہیری مواد کے آخر میں پرنٹر کا نام اور پتہ درج کریں۔ان پر قرآنی آیات لکھنے سے گریز کیا جائے تاکہ بے ادبی نہ ہو۔تمام امید واران پر ہورڈنگز،بل بورڈ،پینا فلیکس اور وال چاکنگ پر سخت پابندی ہوگی۔عوامی جلسے ،جلو س اور ریلیزمقررہ مقامات پر منعقد کی جائیں اوربڑے جلسوں کے لیئے کم از کم تین دن پہلے ڈی سی اور ڈی پی او سے اجازت لینا ضروری ہوگا تاکہ ان کو سیکیورٹی مہیا کی جا سکے ۔کسی سیاسی جماعت پر پتلے جلانے پر سخت پابندی ہوگی۔ کار ریلیز پر پابندی ہے لیکن کارنر میٹنگز میں ساؤنڈ سسٹم استعمال کر سکتے ہیں۔ ان دنوں تمام امیدواروں پر کسی قسم کی ترقیاتی سکیم کے افتتاح پر پابندی ہوگی۔تقریر میں کسی کی ذات کو نشانہ نہ بنایا جائے صرف پارٹی کے منشور پر بات کی جائے ۔ایسی کوئی بات نہ کی جائے جس سے نقص امن کا خطرہ ہو۔اسلحے اور ہوائی فائرنگ پر سخت پابندی ہے ۔تمام امید واران اپنی حفاظت کے لیئے دو عدد لائسنس ہولڈر گن مین ڈی آئی سی کی اجازت کے بعد رکھ سکتے ہیں۔تمام پارٹیاں الیکشن ڈے سے 48گھنٹے پہلے اپنی کیمپین بند کردیں گی ۔تمام امیدوار پولنگ کیمپ دیہاتوں میں ،پولنگ سٹیشن سے 400میٹر اور شہری آبادی میں100میٹردور بنائیں گے ۔تمام امیدواروں کو صرف اپنے اہل خانہ کو ہی ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کی اجازت ہوگی۔ڈی پی اوعادل میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن نے پینا فلیکس کے استعمال پر سخت پابندی عائد کی ہے ۔لہذہ اس پر سختی سے عمل کیا جائے ۔انہوں نے بتایا کی الیکشن ۲۰۱۸ء پہلے الیکشن سے مختلف ہونگے اور یہ الیکشن پولیس اور فوج کی نگرانی میں منعقد ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں