96

پی ٹی آئی کی اڑان۔۔لوہے کے چنے۔۔سخت فیصلوں کی ضرورت…….تحریر: امیر عبداﷲ ملک۔۔مکتوب دربٹہ

قارئین! الیکشن 2018 کا مرحلہ انتہائی خیرو عافیت سے گزر گیا میں سب سے پہلے اس میں پی ٹی آئی کے ورکروں اور چیئرمین عمران خان کے علاوہ مسلم لیگ ن۔پیپلز پاڑٹی ۔تحریک لبیک۔ایم ایم اے اور دیگر تمام آزاد امیدواروں کو اپنی اپنی کامیابی پہ مبارک باد پیش کرتا ہوں اور موجودہ الیکشن میں کامیابی حاصل نہ کرنے والوں کو مشورہ ہے کہ دل چھوٹا نہ کریں اور اپنی کوتاہیوں پر نظر دوڑاہیں کہ آگر گزشتہ ادوار میں اپنی کامیابی ملتی رہی تو اب کیوں نہ ملی یقیناًآپ کو اس کا فرق اور کوتاہی نظر آ جاے گی ۔کامیاب الیکشن میں الیکشن کمشین پاک فوج سمیت اور چیف جسٹسس صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں

قارئین ! یہ کوئی نہ شیخی بگھارنے والی بات ہے اور نہ ہی کوئی بڑا پن ثابت کرنے والی بات ۔اس امر میں میرا 25سال کا تجربہ ہے میں نے الیکشن کے دوران مکمل ایک ماہ تک واقعات اور زمینی حقائق پر نظر رکھی اور 25جولائی کو تحصیل بھر کے پولنگ سٹیشنوں کی وزٹ کے بعد جو دوست فیسبک جوائن کرتے ہیں اس کو بخوابی علم ہو گا اگر نہیں بھی تو میری وہ رپوٹ ابھی تک محفوظ ہے جو کہ25جولائی کو12 سے ۱ یک بجے کے دوران ان ائیر ہوئی تھی کہ میرے تجربے کے مطابق پی ٹی آئی ۹۰/۱۰۰
مسلم لیگ ن ۵۰/۷۰ آزاد امیدوار ۲۵/۳۰ اور ایم ایم اے ۸/۱۰ تحریک لبیک ۳/۴ نشیتں حاصل کر رہی ہیں یقیناًشام کو رزلٹ ملتے جلتے پڑھنے کو ملے ۔
قارئین !محنت میں عظمت اور تکبر غرور میں شرمندگی ہے پی ٹی آئی نے مسلسل ۲۲ سال محنت اور اپوزیشن میں گزار کر آج عظمت حاصل کر لی ہے جب کہ لوہے کے چنوں رکھنے والوں کو شرمندگی ہوئی سعد رفیق نے ایک دن ریفرینس کی سماعت پر دوران اپنی تقریر اپنے آپ کو لوہے کے چنے قرار دیا۔کہ ہمیں چبانا مشکل ہو گا جو کہ معزز عدالت پرجارحانہ تنقید تھی جب کہ دوسرے دن عدالت میں پیشی پر انہی لوہے کے چنوں کا تذکرا ہوا ۔الیکشن کا مرحلہ شروع ہوا تو پی ٹی آئی کی قیادت نے خواجہ رفیق کو بتایا کہ ہم پہاڑی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ہم لوہے کے چنوں کو چبا لیتے ہیں ۔
قارئین بیشک عزت وذلت دینے والی وہ قادر ذات ہے قارئین الیکشن کا مرحلہ گزر چکا ہے اب حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہے جبکہ حالات واقعات سے پتا چلتا ہے پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی یا پھر آزاد رکن اسمبلی مل کر مرکز اورصوبہ پنجاب میں حکومت بناے گے جس کیلیے پیش رفت ہو رہی ہے ۔باقی سندھ میں پیپلز پارٹی مرکز سرحداور پنجاب میں پی ٹی آئی جبکہ بلوچستان بھی پی ٹی آ ئی اشتراک سے حکومت بنائی گی۔
قارئین عوام نے اب بھاری مینڈیٹ پی ٹی آئی کے حوالے کیاہے اب عمران خان پر بھاری ذمہ داری آن پٹرتی ہے کہ وہ اس ذمہ داری سے کیسے اوعہدہ برآ ہو تے ہے کیونکہ سو دن کا آپشنن تو اب آیا ہی چاہتا ہے جبکہ حالات سخت ہیں ۔
قارئین ایک واقعہ آپ کی خدمت میں بھی اور آنے والے حکمرانوں کی راہنمائی کیلیے پیش خدمت ہے ۔کہتے ہیں کوئی وقت حاکم تھا اس ملک میں ہنگامے شور شرابے اور بداخلاقی کا دوردورا تھا ۔پیدل اور گھڑسواری کا دور تھا ۔بادشاہ اپنے قافلے کے ہمراہ شہر سے نکل کر جنگل کی طرف سے انجوائے کرنے کے لیے روانہ ہوا۔ بھاری بھرکم قافلہ رواں دواں تھا کہ راستے میں بادشاہ نے کیا دیکھا کہ ایک شخص 30/35 گدھوں کو ہانک رہا ہے جنہوں نے راستہ بھی بند کر رکھا تھا لیکن وہ شخص جس کا نام بعد میں فتح دین معلوم ہوا کمہار تھا اور گدھوں پر وزن لادنے کا کام کرتا تھا نے بادشاہ کے قافلے کو دیکھتے ہی فوری طورپر گدھوں کو ایک آواز ” پاسا،پاسا،پاسا” دی اور گدھے ایک لائن میں ہوگئے ۔
بادشاہ یہ ڈسپلن دیکھ کرحیران ہوا اور وہ بھی گدھے جیسے ضدی جانور کی۔بادشاہ نے قافلہ روک کر فتح دین کمہار سے پوچھا کہ یہ گدھا بہت ضدی جانور ہے آپ نے میرا قافلہ دیکھ کر انہیں کیسے لائن اپ کرلیا۔فتح دین نے جواب دیا حضور گدھا واقعی ضدی جانور ہے لیکن محنت مزدوری کے حوالے سے میرا ان سے رواز واسطہ پڑتا ہے لہذا ان ضدی گدھوں کو ڈسپلن کی پابندی یا حکم نہ ماننے پر میں سخت سزا دیتا ہو ں جسکی وجہ سے ضدی گدھے سزا کے خوف سے میرا حکم مانتے ہیں چونکہ بادشاہ اپنی رعایا اور عوام کی بد امنی سے تنگ تھا لہٰذا بادشاہ نے فتح دین کو اپنا مسئلہ بتایا اور اس کے حل کیلئے فتح دین سے مدد چاہی۔فتح دین نے حامی بھرلی۔دوسرے دن صبح فتح دین نہا دھوکر صاف کپڑے پہنے بادشاہ کی کچہری میں حاضر ہوا تو بادشاہ نے فوری طور حکم دیا کہ فتح دین کو فوری طورپر ضروری سٹاف اور کمرہ دے دیا جائے آج سے فتح دین جج کے فرائض سرانجام دے گا۔
فتح دین نے عدالتی کام شروع کیا تو پہلا مقدمہ چوری کا اسکی عدالت میں پیش ہوا فتح دین نے اپنے ذرائع سے تصدیق کروائی تو مذکورہ شخص چور ثابت ہوا اور فتح دین نے چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ۔پاس کھڑے جلاد نے آہستہ سے فتح دین کے کان میں کہا کہ مذکورہ چور شخص فلاں وزیر کا رشتہ دار ہے لہٰذا خیال رکھا جائے لیکن فتح دین نے اپنے حکم پر عمل کا حکم دے دیا یہ بات سن کر سامنے موجود وزیر خود اٹح کر جج فتح دین کے پاس گیا اور وہی بات دہرائی کہ یہ شخص میرا قریبی عزیز ہے تو فتح دین نے حکم دیا کہ چورکا ہاتھ اور سفارشی کی زبان کاٹ دی جائے اور فوری عمل کیا جائے توفوری حکم کی تعمیل ہوئی ۔
قارئین! فیصلہ صرف ایک ہوا ایک شخص کے ہاتھ اور دوسرے کی زبان کٹی لیکن ملک بھر میں امن قائم ہوگیایوں بادشاہ نے بھی سکھ کا سانس لیا اور رعیا کو بھی سمجھ آگئی۔
اب کہنا یہ ہے کہ معافی کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔کام میرٹ پر ہو تو نا انصافی کا خاتمہ ہوجائیگا۔اﷲ حافظ
0302-2209429

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں