64

پاکستان کو عزت دو…تحریر…….ملک آصف اعوان چوکھنڈی

شکر الحمد للّه 2018 کا الیکشن اختتام پذیر ہوا. پاک فوج ، پولیس ، رینجرز ، ایف سی ، لیویز اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انتھک محنت اور قربانیوں کی بدولت صاف شفاف اور پر امن الیکشن کا انقعاد ممکن ہوا . مسلسل کے تیسرے جمہوری عمل میں عوام کی دلچسپی اور ووٹرز کا جوش و خروش دیدنی تھا اور اس دفعہ کے ٹرن آؤٹ نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دئیے. اب تک کی اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی قومی اسمبلی اور KPK میں سب سے بڑی اور پنجاب اسمبلی میں دوسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے . اور بعض اطلاعات کے مطابق pti پنجاب میں بھی اکثریت حاصل کر لے گی یا نون لیگ میں فارورڈ بلاک کی صورت میں پنجاب میں بھی حکومت بناۓ گی .. خیر یہ ساری باتیں اور پراسیس آئندہ چند روز میں واضح ھو جاۓ گا .

اور KPK میں کارکردگی پر کھلے عام سوشل میڈیا اور کالمز میں تنقید کی ہے . قومی لیول پر PTI کا نقطہ نظر ھو، دھرنا سیاست ھو ، پارلیمنٹ پر تنقید ھو یا عمران خان کے مشہور یو ٹرن ہوں میں نے شائد ھی کوئی موقع جانے دیا ھو. اس وقت اختلاف کا بنیادی نقطہ یہی تھا کہ جس بھی پارٹی کو عوامی مینڈیٹ ملا ہے اسکو مدت پوری کرنے دی جاۓ اور کارکردگی کا موقع دیا جاۓ اور اگر وہ ڈیلیور کرنے میں ناکام ھو جاۓ تو اسکا محاسبہ عام انتخابات میں کیا جاۓ جو ایک جمہوری اور اخلاقی جواز ہے.
موجودہ الیکشن میں PTI کو چاروں صوبوں سے مینڈیٹ ملا ہے اور مرکز میں انکی عددی برتری سب کے سامنے ہے.
کسی بھی جمہوری اور ترقی یافتہ ملک کی مثال لے لیں ان اقوام کا یہی وطیرہ ہے کہ الیکشن کے بعد جیتنے والی پارٹی کو حکومت بنانے دی جاتی ہے اور دوسری جماعتیں اپوزیشن میں بیٹھ کر اسکی کارکردگی اور آئینی کردار پر اپنا کردار ادا کرتی ہیں .
لیکن ہمارے ہاں احتجاج کا طریقہ نرالا اور انوکھا ہے . اسمبلی جہاں تمام مسائل کا حل ہے وہاں کچھ بات یا کام کرنے کے بجاۓ سڑکوں اور چوکوں پر عوامی سمندر اکٹھے کئیے جاتے ہیں اور agitation کے نتیجے میں ملکی املاک کو نقصان پہنچا کر مطالبات پیش کئیے جاتے ہیں جو حکومتی پارٹی ضد اور انا کی وجہ سے مانتی نہیں اور نتیجتہً وہی غیر ضروری اور فضول قسم کی کھچ کھچ اور پچ پچ اور اس کے نتیجے میں بے چینی اور بے سکونی.
الیکشن کے بعد دھاندلی ایک عمومی تاثر ہے اور ہارنے والی جماعتیں اپنے کارکنوں کو یکجا رکھنے اور عوام میں اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لئیے یہ منجن بیچتی رہتی ہیں. یہی کام PTI نے 2013 کے الیکشن کے بعد کیا اور اسی بات کا عندیہ میاں شہباز شریف نے الیکشن کے نامکمل نتائج کے موقع پر ہی پریس کانفریس کے ذریعے دے دیا ہے.
عمران خان کی وکٹری سپیچ سننے کے بعد ایک چیز تو واضح ہے کہ جن جن باتوں اور اشوز پے خان صاحب نے بات کی ہے وہ واقع ایک عمومی عوامی راۓ ہے اور کم و بیش انہی مسائل کا حل قوم چاہتی ہے. عمران خان کس حد تک ان مسائل کا احاطہ کریں گے اس کا جواب تو آنے والے وقتوں میں مل ہی جاۓ گا لیکن جس امر کی ضرورت اس وقت ہے وہ ہے برداشت اور رواداری .
جس طرح شہباز شریف نے اپنے دور حکومت میں PTI اور دوسر ی احتجاجی جماعتوں کو تمام مسائل اسمبلی کے فلور پر حل کرنے کی دعوت دی بلکل اسی طرح انکو چاہیے کہ اپنے تحفظات بھی جمہوری طریقے سے اسمبلی میں حل کریں.
مسلم لیگ نون ایک بڑی جماعت ہے اور اس کی پالیسیاں بھی ایک بڑی اور ذمہ دار جماعت کی آئینہ دار ہونی چاہیں.
کچھ اطلاعات کے مطابق شہباز شریف نے اس بات کا اعیادہ بھی کیا ہے جو بہت خوش آئند ہے.
آخر میں میری سوشل میڈیا کے مبصرین دوستوں اور تجزیہ نگاروں سے التماس ہے کہ خدارا اگر آپکو سوشل میڈیا کی صورت میں اظہار راۓ کا کوئی میڈیم میسر ہے تو اسکو مثبت اور تعمیری مقاصد کے لئیے استعمال کریں کیونکہ تخریبی کاروائیوں اور فساد کے لئیے بہت سے دشمن اور انکے آلہ کار تو ہیں ھی ..
اللّه پاک آپکا حامی و ناصر ھو ..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں