109

ملک سلیم اقبال اور سردار ان ٹمن نے اپنا ککھ نہیں چھوڑا……… تحریر. محسن قیوم شیخ

محترم قارئین الیکشن کی گہما گہمی کی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور ضمنی الیکشن سر پر آن کھڑا ہو ا چوہدری پرویزالہی نے ایم این اے بنے کے بعد تلہ گنگ اور گجرات کی دونوں سیٹوں کو خیر آباد کہہ دیا اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ رکھ لی جس کے بعد گجرات سے تو ان کے صاحبزادے مونس الہی الیکشن لڑے گے جبکہ تلہ گنگ سے سردار شہروز خان ٹمن جو ایئرمارشل کے پوتے اور سردار ممتاز خان ٹمن کے نواسے ہیں امکان بھی لگ رہا ہے کہ ان کو سیاست میں لائے جانے کا قوی امکان ہے کیونکہ الیکشن میں سرادر ممتاز خان ٹمن کے ساتھ ساتھ کمپین میں موجود رہنے والے سردار شہروز خان کی دلچسپی بتا رہی تھی کہ کچھ ہے چلئے کچھ سیاست میں حقائق دکھاتے ہیں ہوا کچھ یوں کہ الیکشن کی امد امد تھی اور ہر طرف جوڑ توڑ جاری تھے سردار ممتاز خان ٹمن اور ملک اسد ڈھرمونڈ کی ایک جگہ خفیہ ملاقات ہوئی جس میں ملک اسد ڈھیر مونڈ کو ملک شہریار اعوان کے مقابلے میں اتارنے کا سوچا گیا اور ان کو برادری اتحاد کے نام پر پریشر گروپ بنانے کی تجویز دی گئی

جو قائم بھی ہوگیا جس کے بعد ملک سلیم اقبال نے بھی اپنی سیاسی چال کھیلتے ہوئے سردار فیض ٹمن کو سردار ممتاز خان کے مقابلے میں اتار دیا پھر کیا تھا ملک سلیم اقبال جوڑ توڑ کے ماہر نے سردار ممتاز خان کو کلین بولڈ کر دیا لیکن ملک سلیم اقبال نے ملک شہریار کا مستقبل داو پر لگا دیا اور سردار فیض ٹمن کو ٹکٹ لے کر دینے میں کامیاب ہو گئے جس کے بعد سردار ممتاز خان ٹمن نے بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے چوہدری پرویزالہی اور حافظ عماریاسر کی حمایت کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ملک اسد ڈھرمونڈ جو پی پی ۴۲کے امیدوار تھے آہستہ آہستہ سرتسلیم خم ہوتے گئے اور یوں ق لیگ پینل مضبوط ہوتا گیا اور بالاخر ق لیگ نے بھاری لیڈ سے کامیابی حاصل کی اب جبکہ پی ٹی ائی نے وفاق اور صوبے میں اپنی حکومت قائم کر لی ہے اور ق لیگ ان کی اتحادی جماعت بن چکی ہے جس کے بعد چوہدری پرویز الہی نے دونوں قومی نشستوں کو خالی کرنے کے واضح اعلان کے بعد ضلع چکوال کی سیاست میں پھر ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ حلقہ این اے65سے چوہدری پرویز الہٰی55ہزار سے زائد ووٹوں کی لیڈ کیساتھ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ پنجاب میں چوہدری پرویز الہٰی کو اہم ذمہ داری ملنے کا گرین سگنل دے دیا گیا ہے جس پر وہ اپنی پنجاب اسمبلی کی نشست اپنے پاس رکھیں گے اور تلہ گنگ ، گجرات سے اپنی دونوں قومی اسمبلی کی نشستیں چھوڑ دیں گے۔ چوہدری پرویز الہٰی پاکستان تحریک انصاف کیساتھ ایڈجسٹمنٹ کر کے تلہ گنگ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں اور اب معاہدہ کے مطابق سردار ممتاز ٹمن کو اس نشست پر کامیاب کروائیں گے۔ سردار ممتاز ٹمن کی بھرپور حمایت کی وجہ سے چوہدری پرویز الہٰی کو ریکارڈ کامیابی ہوئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سردار غلام عباس بھی حلقہ این اے65کے مضبوط امیدوار ہیں کیونکہ ان کے بھتیجے سردار آفتاب اکبر اسی نشست کے صوبائی حلقہ پی پی23سے 75ہزار سے زائد ووٹ لیکر منتخب ہوئے ہیں۔ بہرحال صورتحال بڑی دلچسپ ہے اور سردار غلام عباس جو اپنے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کی وجہ سے حلقہ این اے64کی انتخابی دوڑ سے باہر ہوگئے تھے اب ان کے دوبارہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے پھر امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔
25جولائی کے انتخابات کے بعدپاکستان میں پہلی بارتیسری جمہوری حکومت چنددنوں کے بعداقتدارمیں آنے والی ہے،قومی وصوبائی اسمبلیوں کے الیکشن میں حصہ لینے والی پارٹیوں کی پوزیشن بھی واضح ہوچکی ہے مرکزمیں پاکستان تحریک انصاف اکثریتی پارٹی کے طورپرسامنے آئی ہے، اب تک کی اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کی 115نشستوں کے ساتھ تحریک انصاف پہلے نمبرپرجب کہ مسلم لیگ ن 63نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبرپر، پیپلزپارٹی 43کے ساتھ تیسرے نمبرپراورآزادارکان 14نشستوں کے ساتھ چوتھے نمبرپررہے۔جب کہ متحدہ مجلس عمل نے 12، مسلم لیگ ق نے 5اورایم کیوایم نے 6نشستوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی ہے۔ حکومت سازی کے لئے پاکستان تحریک انصاف کو172ارکان کی سادہ اکثریت چاہئے،،خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف اورسندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت بننے کے واضح امکانات ہیں، بلوچستان میں نئی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کی صوبہ کی مختلف سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کرمخلوط حکومت بننے کے امکانات ہیں۔ اس وقت سب سے دلچسپ صورتحال پنجاب میں دکھائی دے رہی ہے اس صوبے کی کل نشستیں 297ہیں جن میں مسلم لیگ ن کے پاس 129تحریک انصاف کے پاس 127مسلم لیگ ق کے پاس 8پیپلزپارٹی کئے پاس 6جب کہ آزادارکان کی تعداد27کے قریب ہے۔ اس نمبرگیم میں پنجاب کی حکومت سازی میں آزادامیدواروں کاکرداراہمیت کاحامل ہوگا، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پنجاب کاوزیراعلی کون ہوگا؟جس کے لئے جوڑتوڑکاسلسلہ عروج پرہے، مسلم لیگ ن اورتحریک انصاف کے امیدواروں میں جن ناموں پرغوروحوض کیاگیاہے ان میں وزارت اعلی کی دوڑمیں شامل ہونے والے چوہدری پرویز الہی جن کو پنجاب کی وزارت اعلی کے لئے منتخب کیا گیا ہے جس کی چند ایک وجوہات ہیں پہلی وجہ کہ مسلم لیگ ن اور تمام مخالف اپوزیشن جماعتیں سعد رفیق کو اپوزیشن لیڈر بنانے جا رہی ہیں جس کیلے چوہدری پروایز لہی ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور مسلم لیگ ن کے اندر ایک خاص مقام رکھتے ہیں جبکہ عمران خان کی جانب سے ایک ٹاسک بھی دیا گیا ہے جو فاروڈ بلاک بنایا جائے گا تاہم اس صورتحال میں مسلم لیگ ن اورتحریک انصاف کوپنجاب میں حکومت بنانے کے لئے پیپلزپارٹی،مسلم لیگ ق اورآزادارکان کوساتھ ملاناہوگا اس حوالے سے پنجاب میں مخلوط حکومت بنانے میں مسلم لیگ ق کاکرداراہمیت کاحامل ہے۔سابق وزیراعلی پنجاب چودھری پرویزالہٰی بھی وزارت اعلی کی دوڑمیں شامل ہیں اورانہوں نے آزادارکان کے ساتھ رابطوں کاسلسلہ شروع کررکھاہے اب دیکھیں انہیں اس میں کامیابی ملتی ہے یانہیں اس بات کافیصلہ آنے والاوقت کرے گا، اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے احتجاجی تحریک شروع کرنے کے لئے جومشاورتی عمل جاری ہے اس کوپنجاب میں روکنے کے لئے بھی وزارت اعلی کے لئے مضبوط اعصاب کی مالک شخصیت کی ضرورت ہے یہ کام تحریک انصاف کے کھلاڑیوں کے بس کانہیں اس لئے ہماری ناقص رائے میں چودھری پرویزالہٰی پنجاب کی وزرات اعلی کے لئے سب سے موزوں امیدوارہیں جوپنجاب میں جوڑتوڑکرکے مسلم لیگ ن کوٹف ٹائم دے سکتے ہیں، ان کے امیدوارآنے کی صورت میں پیپلزپارٹی بھی انہیں سپورٹ کرسکتی ہے اس کے علاوہ وہ پنجاب میں پانچ سال کامیاب حکومت چلانے کاتجربہ بھی رکھتے ہیں، ان کے پنجاب کے تمام سیاسی خاندانوں سے بھی ذاتی مراسم ہیں جواہمیت کے حامل ہیں، اب دیکھیں کیافیصلہ سامنے آتاہے، مگراس حوالے سے ضلع چکوال کاسیاسی منظرنامہ بڑادلچسپ بنتانظرآرہاہے کیونکہ کہ مسلم لیگ ق کے امیدوارچودھری پرویزالہٰی کابھی ضلع چکوال میں مرکزی کردارہے،اگروہ وزارت اعلی کی دوڑمیں جیت جاتے ہیں توتلہ گنگ سے نومنتخب ایم پی اے فرزندتلہ گنگ حافظ عمار یاسر بھی صوبائی وزیر کے کئے بہترین امیدوروں کی لسٹ میں ہیں اب دیکھئے کیا نتیجہ نکلتا ہے اور کیا کس کے ہاتھ آتا ہے سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں اسی کے ساتھ اپ کا دعاوں کا طلبگار ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں