211

زینب کے قاتلوں کے ساتھ ساتھ اس ظالم نظام کو بھی پھانسی چڑھانا چاہیے ،پنجاب پولیس کا گھناونا چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوا ہے ۔ملک احمد خان بھچر

میانوالی(نامہ نگار)زینب کے قاتلوں کے ساتھ ساتھ اس ظالم نظام کو بھی پھانسی چڑھانا چاہیے جس کی وجہ سے معصوم بچے تک درندگی سے محفوظ نہیں ہیں ،پنجاب پولیس کا گھناونا چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوا ہے ۔

دس سالوں سے پنجاب کی کرتا دھرتا پنجاب حکومت کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیئے ان خیالات کا اظہار ممبر صوبائی اسمبلی ملک احمد خان بھچر نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ قصور میں زینب کا کیا قصور تھا صرف یہی کہ وہ نام نہاد خادم اعلٰی پنجاب کے صوبے کی رہائشی تھی ، زینب کے ننھے خوابوں کو کچلنے والوں کو سر عام لٹکانا ضروری ہے لیکن اس ظالم اور بوسیدہ نظام کو پھانسی دینا بھی لازمی ہو گیا ہے جس کی وجہ سے روز بروز ایسے واقعات جنم لے رہے ہیں ۔ ملک احمد خان بھچر نے کہا کہ قصور میں یہ پہلا افسوسناک واقعہ نہیں تھا کہ انتظامیہ اور پولیس سوتے رہے ،ایک درجن واقعات کے بعد بھی ان کو ہوش نہیں آیا ۔ انہوں نے کہا کہ ظالم اعلٰی رات کے اندھیروں میں چھپ کر زینب کے گھر آیا پوری حکومت کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیئے ۔ ملک احمدخان بھچر نے کہا کہ قصور واقعہ پہلا واقعہ نہیں اللہ کرے کہ آخری ہو ،انہوں نے کہا کہ وزیر اعلٰی پنجاب بتائیں پچھلے دس سال میں کتنی کمیٹیاں بنائیں اور ان کا کیا نتیجہ نکلا ؟ کتنے پولیس افسران کو معطل کیا اور آج وہ کن کن پوسٹس پر کام کرے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ جب پولیس میں تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہوں تو ایسے نتائج ہی سامنے آنے ہیں ۔ڈرامہ باز شریف کی گڈ گورنس سب کے سامنے آ چکی ہے نا اہل شریف ان بچوں کی آہوں سے بچ نہیں پائیں گے ۔ ملک احمد خان بھچر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ظالم حکمرانوں کے اس ظالم نظام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں