299

کیا ہوا تیراوعدہ،،،،،شفیق ملک

shafiqmalikckl@yahoo.com
ملک میں تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے اور کچھ زیادہ ہی اسپیڈ سے چلنا شروع ہو گئی ہے ،عمران احمد خان نیازی کی دیانت اور کمٹمنٹ میں کسی شک و شبے کی گنجائش نہیں مگر ان کے منتخب کردہ نمائندے اور وزراء آئے روز جو جو گل کھلا رہے ہیں ان پر گل پاشی کرنے کو شدید دل کر ہا ہے ،ان سب کی خوش بیانیاں دیکھ کردل دکھتا ہے کہ واللہ کیسے کیسے نایاب ہیرے اپنی پٹاری میں موجود تھے اور قوم کیوں اتنی مدت ان کی عقل و دانش سے فیض حاصل نہ کر سکی،اللہ بھلا کرے حقیقی تبدیلی برداروں کا کہ قوم نے اپنے انتہائی قابل اور محنتی لوگ ٹھیک ٹھیک عہدوں پر براجمان دیکھ لیے ان کی مست بیانیاں دیکھ اور سن کر صحیح معنوں میں تبدیلی کو داد دینا تو بنتی ہی ہے،عمرن خانن نے وکٹری اسپیچ ڈلیور کی تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اس کی تحسین کی گئی،اس کے بعد جب معاملہ ان بقراطوں کے ہاتھ آیا جنھوں نے اس فاتحانہ تقریر کو عملی جامہ پہنانا تھا تو انھوں نے ابتدا ہی میں کشتوں کے پشتے لگانا شروع کر دیے،خان صاحب کی سادگی مہم ہو یا وی آئی پی کلچر سے پاک دو نہیں ایک پاکستان کی، یہ لوگ کسی معاملے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑرہے،ایک سے بڑھ کر ایک دوسرے کو پچھاڑے جا رہا ہے ،یہ پہلی حکومت ہے جو اپنے قیام کے صرف بارہ دن بعد اپنے نابغوں کے ہاتھوں اس اسٹیج پر پہنچ چکی ہے کہ اسے ابھی سے سارا میڈیا اپنے خلاف لگنا شروع ہو گیا اور نونہالان انقلاب نے اپنی توپوں جن میں بارود کی بجائے گالیاں بھری ہوتی ہیں کا رخ میڈیا کی جانب کر لیا ہے کاش کہ یہی قوم یوتھ اپنی پارٹی کی بدنامی کا سبب بننے والے عناصر کا محاسبہ کرتی تو یقیناحالات اس سے کہیں بہتر ہوتے،انہیں میڈیا سے گلہ ہے تو عرض ہے کہ جب آپ کا سی ایم کسی سی ایس پی آفیسر کو اپنی گھر بلائے گا اور وہاں پر اسکی سرزنش وزیر اعلیٰ کی بجائے کوئی پرائیویٹ شخص کرے گا تو کیا میڈیا دھنیا ہی کر سو جائے یا اگر آپ کا فیض الحسن چوہان پہلے قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائے کہ شیخ رشید کرپٹ ترین اور گندہ آدمی ہے جو پی ٹی آئی کا بیڑہ کر دے گا او رچند دن بعد اسی شیخ رشید کے ساتھ دونوں مل کر اقتدار کے مزے لے رہے ہوں ،خان صاحب نہ صرف اسمبلی سے باہر بلکہ اندر بھی اعلان کریں کہ کسی ایک ڈاکو کو نہیں چھوڑوں گا اور پھر ان کو اعلیٰ عہدے عنایت کر دیں تو آپ تو خاموش ہو سکتے ہیں مگر سارا میڈیا کیسے بکل مار کے بیٹھ جائے،آپ کے بقراط عصر فرزند پنڈی ایک بوڑھی عورت کو سرعام دھکے دیں وڈیوبنانے والے کا موبائل دیورا پر مار کر توڑ دیں اور آپ توقع رکھیں کہ کو ئی کچھ بھی نہیں بولے گا تو آ پ میں اور میڈیا میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے،جب بقراط عصر نے معافی مانگ لی تب ہی آپ بول پڑتے کہ یہ غلط ہوا اس سے ہماری پارٹی بدنام ہو رہی ہے ہماری حکومت کی نیک نامی پر حرف آ رہا ہے آپ تو فیض الحسن چوہان کی ننگی گالیوں کا بھی دفاع کر رہے ہیں ،ایک ایم پی اے ایک بزرگ شہری کو اس کے بچوں کے سامنے سڑک پر تھپڑ اور گھونسے مارتا ہے آپ پانچ لاکھ روپے جرمانہ وہ بھی ایدھی کو جمع کرا کے بغلیں بجانا شرع کر دیتے ہیں کہ انصاف ہو گیا ، مظلوم سے بھی کسی نے پوچھا یا کیا یہی انصاف کا تقاضا ہے ،معاف کیجیے گا ایسا ہی انصاف ہوتا تھا سابقہ ادوار میں بھی تب ہی لوگوں نے آپ کو ووٹ دیا کہ شاید آپ کچھ بہتر کریں گے بہتر لوگ لائیں گے اور لوگوں کی امیدیں اور آرزوئیں پوری کریں گے مگر افسوس کہ ابھی تک ایسا کچھ بھی نظر نہیںآ رہا ، حیرانی اس بات پر ہے کہ گیارہ دنوں میں بارہ کٹے کھل جانے کے باوجودابھی تک اعلی سطح پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی،سوائے چیف جسٹس کے جنہوں نے شہری کو تھپڑ پڑنے اور پاکپتن کے ڈی پی او کو شہنشاہانہ طریقے سے ہٹانے پر نوٹس لیا یقین کریں ایسی حرکات

کی پی ٹی آئی کی حکومت سے کسی کو بھی توقع نہیں تھی،مجھے حیرت اس جماعت میں موجود ہڑھے لکھے ان حضرات پہ بھی ہے کہ جو یہ سب سمجھتے ہیں کہ یہ سب ہماری جماعت اور حکومت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے مگر سب کان لپیٹ کر بیٹھے ہیں ،کوئی ایک بھی نہیں جو فواد چوہدری سے ہی پوچھ لیتا کہ کون سا ہیلی کاپٹر ہے جو 55روپ فی کلومیٹر سفر کراتا ہے پھر تو شہباز شریف کی آنیاں جانیاں فقط چار چھ سو کی ہی مار تھیں ،وہ ہر جگہ ہیلی کاپٹر پر پہنچ جاتے تھے تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ پانچ سالوں میں انہوں نے پچاس ساٹھ ہزار روپے اس مد میں خرچ کیے ہوں گے ایسی درفطنی چھوڑنے سے پہلے اس کے آفٹر شیکس پر ضرور غور کرنا چاہیے کیوں کہ آپ اطلاعوں کے منسٹر ہیں نہ افواہوں کے،پنجاب میں راجہ یاسر سرفراز کے مقابلے میں عثمان بزدار کی تعیناتی پر اس لیے کوئی سوال کرنے کی ضرورت نہیں کیوں کہ وفاقی کابینہ کو دیکھ کر آپ کی مجبوریوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ،تاہم چیک اینڈ بیلنس تو آپ کے ہاتھ میں ہے،میرے کالم کا موضوع کچھ اور تھا مگر صبح دفتر آتے ہی اخبار دیکھاتو تازہ ترین حالات و وقعات دیکھ کر دکھ بھی ہو ا اور حیرانی بھی کہ اس گورنمنٹ سے پاکستان کی عوام کو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں ابھی عمران اسماعیل کا پروٹوکول خبروں میں ہی ہے کہ گذشتہ روز وزیر ریلوے شیخ رشید صاحب کراچی پہنچے اور اسٹیشن چار گھنٹے کے لیے ہر کاص و عام کے لیے بند رہا حیران ہوں کہ اس گورنمنٹ کے کرتا دھرتا اس حکومت کو کدھر لے کر جانا چاہ رہے ہیں ،اسے ہر حال میں اپنے پانچ سال پورے کرنے چاہییں،خیر اب میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں جو کہ ایک یاد دہانی ہے انہی فرزند پنڈی سے جو آج پھر خیر سے وفاقی وزیر ریلوے ہیں شیخ صاحب مشرف کابینہ میں بھی وزیر ریلوے تھے سال 2007میں 25فروری کو چکوال کالج کے گراؤنڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے شیخ صاحب نے چکوال مندرہ ریلوے ٹریک کی نہ صرف بحالی کا اعلان کیا بلکہ اس پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کرانے کا بھی اعلان کیا ،اس کے اگلے روز معروف صحافی اور اس وقت ن لیگ کے مقامی لیڈر چوہدری ایاز امیر نے اپنے گھر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس اعلان کو شیخ چلی کا پلان اور شیخ صاحب کو نوٹنکی وزیر قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا کہ ہنگامی بنیادوں پر شروع ہونے والے کام میں اگر ایک اینچ پٹڑی بھی بچھ گئی تو میں نہ صرف سیاست بلکہ چکوال چھوڑ دوں گا،اس وقت ہمیں بھی حیرت ہوئی کہ چکوال کو ایک انتہائی قابل صحافی اور سیاست دان سے محروم ہونا پڑ جائے گا مگر بعد میں ایاز امیر کی دور اندیشی پر خوشگوار حیرت اور اپنی کم عقلی پر افسوس ہوا ،ایاز امیر واقعی صحافت اور قبیلہ اہل قلم کی شان ہیں ،مشرف دور میں چکوال کے لوگ پٹڑی کا انتظار کرتے رہے اس دوران ملک فداالرحمٰن جن کا تعلق چکوال کے قصبے بھون سے ہے اور اسلام آباد میں چکوالیوں کیلیے دوسرا گھر بنا کے بیٹھے ہیں ملک صاحب چکوال کے ہر مسئلے کے لیے بہت حساس ہیں نے اس مسئلے کو ہر فورم پر اجاگر کیا اور انہی کی وجہ سے یہ معاملہ سپریم کورٹ جا پہنچا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس نے محکمہ ریلوے کو اس ٹریک کی بحالی کے آرڈرز جاری کیے مگر معاملہ جوں کا توں ہے،چکوال مسلم لیگ کا گڑھ تھا مگر اب کی بار یہاں کے لوگوں نے تبدیلی کے لیے عمران خان کو ووٹ دیا اور اب خان صاحب سے ان لوگوں کو بہت ذیادہ توقعات وابستہ ہیں کہ جن محرومیوں کا ازالہ پچھلے ستر سالوں میں نہیں ہو سکا اب کی بار سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا،خان صاحب خود اس ایشو پر چکوال کے لوگوں کی حمایت کریں اور ان کا یہ دیرینہ مسئلہ نہ صرف حل کروائیں بلکہ جن لوگوں نے اس پٹڑی کو مال مفت سمھ کر کوڑیوں کے بھاؤ بیچا ان کا احتساب بھی کیا جائے،اس کے علاوہ وزیر ریلوے اپنے وعدے کا پاس رکھتے ہوئے اس ٹریک پر اب گیارہ سال بعد ہنگامی نہ سہی روٹین کا کام ہی شروع کرا دیں،چیف جسٹس آف پاکستان سے بھی التماس ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود اس پر اب تک کام نہ شروع کرنے پر محکمہ ریلوے سے باز پرس کریں،پی ٹی آئی نے تبدیلی کے نام پر خواب بیچے ہیں اور اس ملک کے لوگوں کو سبز باغ پہلے بھی کم نہیں دکھائے گئے تھے،اب کوئی ایسا چاہیے جو باغ کے ساتھ پھل کی بھی بات کرے اور خواب کی تعبیر دکھائے،اپنی ٹیم کے انتخاب میں اگر احتیاط سے کام نہیں لیا گیا تو کم از کم کارکردگی اور اخلاق و کردار پر نظر ضرور رکھی جانی چاہیے ورنہ ریلو کٹے کی اصطلاح تو آپ نے خود متعارف کروائی ہے،،،،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں