354

مجبور چوک……..تحریر:محمد وقار عظیم

ہر شہر کی ٹریفک ،آبادی ،عمارت شہر کی خوبصورتی رنگ و رونق کی ضامن ہوتی ہے جس میں زندگی کا احساس ٹریفک سے پتا چلتا ہے مختلف قسم کے ہارن چلتی گاڑیوں کاشور ،تیز موٹر بائیک کی آواز اور کچھ گاڑیوں میں بجتے گانے پاس سے گزرتے ہوئے لوگوں کے موڈ میں تبدیلی لے آ تے ہیں مگر یہ سب تب تک اچھا لگتا ہے جب یہ روانگی میں رہے اور اگر یہ ایک ہی جگہ جام ہوئے جائے تو خوبصورتی بد صورتی میں تبدیل ہو جاتی ہے کبھی کبھار تو گزرا ہو جاتا ہے مسلسل ایک ہی روٹین پورے

شہر کو خراب کرتی ہے اور جس سے لوگوں میں دماغی ٹارچر کا باعث بنتی ہے تلہ گنگ شہر کا چھوٹا سا چوک جو کام بہت بڑے بڑے کرتا ہے میانوالی ،پنڈی ،ٹمن ،ملتان ،لاہور ،کراچی اور چکوال سے آنے اور جانے والوں کیلئے ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے مگر افسوس کبھی بھی اس کی بہتری کیلئے کچھ بھی نہیں کیا گیا صبح سے لیکر شام تک ایک عجیب سا ماحول ہوتا ہے جس کو بیان کرتے ہوئے بہت دکھ ہو رہا ہے جس کا احساس شاید اردگرد کے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں اگر پورے دن کا حساب لگایا جائے تو کچھ اسطرح ہے جیسے کہ صبح کو غربت سے گھیرے انسانوں کی منڈی لگتی ہے جو عام حالات میں 11بجے ختم ہو جاتی ہے اس دوران والدین اپنے بچو ں کو تیار کرکے سکولوں اور کالجوں کی طر ف رخ کرتے دیکھائی دیتے ہیں اسی طرح پنڈی روڈ سے آتی گاڑی مسافروں کو چھو ڑ کر اور دوسرے مسافروں کا اٹھانے کی جلدی میں ٹریفک کو روک پہلے نکلنے کی جلدی میں ہو تی ہے اسی دوران شہر کے مختلف رکشہ بچوں کو جلدی جلدی سکول پھینکنے اور نئی سواری کو اٹھانے کی جلدی میں ہوتے ہیں اسی ٹائم میں کچھ سٹوڈنٹ اپنی مدد آپ کے تحت موٹر بائیک پر آتے ہوئے روڈ کے قریب کھڑا کرکے یہ جگہ میری فکس سوچتے ہوئے کلاس میں جاتے ہیں مجھے افسوس ہے اس سکول اور کالج پر جو زیادہ بچوں کی تعداد کو بڑھانے کی چکر میں کلاس روم کا تو سوچتے ہیں پارکنک کو بھول جاتے ہیں۔روڑ کی ندش اور پارکنگ کا سوال میرے پوچھنے پر سگریٹ کا ایک کش لگاتے ہوئے بڑے انداز سے بولے “دسو جی کی کریے”جلد بازی کاماحول ہمیں پیدا ہوتے ہی ملتا ہے اس جلد بازی نے ہمارے اندر احساس کی سوچ بھی ختم کر دی ہے سب لوگ آگے نکلنے کی جلد ی میں ٹریفک چوک میں پھنسے ہو تے ہیں جہاں پر ٹریفک وارڈن کھڑا ہوتا ہے جو اپنے تجربہ سے کم منت سماجت سے زیادہ گاڑیاں نکالنے کی کوشش کر رہا ہو تا ہے اس پر ایک جنگل کی کہا نی کیا خوب یاد آئی جس میں ایک بندر کو جنگل کا ڈاکٹر بنا دیتے ہیں ایک دن جب ڈاکٹر صاحب کے پاس ایمر جنسی میں ایک مریض کو لیکر آئے جب بندر ڈاکٹر نے یہ دیکھا کہ مریض کی حالت تو زیادہ خرا ب ہے تو وہ جلدی میں کبھی ایک درخت پر چھلانگ لگاتا تو کبھی دوسرے درخت پر چھلانگ لگاتا اسی طرح بندر چھلانگین لگاتا رہا کہ اسی اثنا میں مریض جانور کی موت ہو جاتی ہے اس پر پھر وہ بندر کہتا ہے” نس پھہج تے بڑی کیتی اے اگو اللہ دی مرزی”ہما رے معاشرے کا نظام بھی کچھ اس طرح کو ہوچکا ہے جس طرف بھی دیکھے اسی طرح کے انسان ملیں گے جن کو کام تو کچھ آتا نہیں اور وہ ہم سب سرداریاں کر رہے ہیں۔ٹریفک وارڈن کا دوسرا ساتھی میرا خیال میں آجکل کمر درد کی بیماری زیادہ ہے وہ کسی نہ کسی دوکان والے سے کرسی لے کر ڈیوٹی پر ہونے کا پورا احسان جتلا رہا ہوتے ہیں۔روزانہ ٹریفک کو اسے جام دیکھ کر میں نے سوال کیا ٹریفک کنٹرول کیسے ہو سکتی ہے جواب ملا پرانا اڈہ ختم کردیا جائے تو کچھ ہو سکتا ہے مطلب نہ سو من تیل ہونا رادھا ڈانس کرے۔۔میرا خیال میں ان کو چلان کاٹنے کی ٹریننگ تودی جاتی ہے لیکن ٹریفک کو کنٹرول کرنا نہیں سکھایا جاتا جسکی زندہ مثال آئے روز ٹریفک وارڈن کے ساتھ جھگڑے ہیں اور آپ نیوز چینل پر اور شوشل میڈیا پر دیکھتے ہوں گئے،ایون بالادوسرے بڑے شہروں کی طرح ٹریفک اشاروں کی درخواست بھی نہیں کرسکتے کیونکہ وہ پہلے سے ہی خراب کئے جا چکے ہیں۔
ان کو ٹھیک کروانے یا نیو لگوانے کی اگر درخواست بھی کی جائے تو اسکو سالوں لگ جائیں گے
ایک وقتی اور لو بجٹ اسکا حل صرف اور صرف یہی ہے کہ ایک زیبراکراسنگ لگائی جائے جس سے جلدباز عوام کو کنٹرول کیا جائے اور ٹریفک وارڈن کو کم ازکم روڈ بحال کروانے میں آسانی ہو وہ منت سماجت سے نہیں اشاروں سے روڈ کو بحال کریں
اور یہاں پر موجود رکشہ والوں کو ایک علیحدہ رکشہ سٹینڈ دیا جائے جس سے راستہ اور روزگار دونوں آسان ہوں۔ایوان بالا ٹریفک سے میری درخواست ہے کہ کم از کم اس اس حربہ کوازمایاجائے تھوڑا عوام پر رحم کریں جس کی تکلیف کا احساس آپکو نہیں کیونکہ آپ کی آمد سے پہلے روڈ تو صاف کر ادیاجاتا ہے اور آپ خوش ہو جاتے ہیں کے سب کنٹرول میں ہے، ٹریفک سگنل پہلے سے خراب ہیں ان کو ٹھیک کروانے یا نیو لگانے کی سوچ کو ابھی رہنے دیں
تاکہ ہر آنے جانے والا اگر غلطی سے دیکھ بھی لے کہ یہ اشارے کیوں نہیں چلتے تو وہ سمجھ جائے کہ ابھی ہم اشاروں پر چلنے والی عوام ابھی اتنی ڈیجیٹل نہیں ہوئی ڈیجیٹل ہونے میں ابھی ٹائم لگے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں