395

پی ٹی آئی/حافظ عماریاسر کا کڑا امتحان…..تحریرامیر عبداﷲ ملک

قارئین!ایک طویل تجربہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وزیراعظم عمران خان یاحافظ عمار یاسر دونوں کا بیک گراؤنڈ ایک جیسا ہے دونوں کا تعلق نہ تو کسی سیاسی گھرانے سے اور نہ ہی لینڈ لارڈ اور ہی کسی حادثہ کی پیداوار ہیں بلکہ دونوں کا تعلق ایک طویل سیاسی جدو جہد سے ہے بلکہ ہار نہ ماننے والوں اور محنت اور اٹل ارادہ جیسی خوبیاں کوٹ کوٹ کر بھری ہیں۔ عمران خان بھی ایک کھلاڑی کے بعد سیاست میں وارد ہوئے اور22سال کی مسلسل محنت کے بعد آنے وزیراعظم ہے ۔

جب کے عماریاسر بھی متوسط طبقے سے تعلق عاجزی انکساری طبعت کے بل بوتے پر تلہ گنگ اور چکوال کی بہت بڑی
طاقتوں سے ٹکر لی جو کے وقت کے حاکم غشیرتھے لیکن حافظ عمار یاسر کو ایک بہت بڑاکریڈٹ جو جاتا ہے وہ یہ ہے جب
مسلم لیگ (ن) کا عروج تھا پورے پنجاب میں اور مرکز میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی لیکن پورے ملک سے دو
تحصیلوں تلہ گنگ اور لاوہ مسلم لیگ (ن) سے زبردست مقابلہ کے بعد نہ صرف چھیں لیں بلکہ اڑھائی سال کا عرصہ جس
میں درمے۔قدمے ۔سخنے اور بے تحاشہ رہاشں ٹرٹدینگ کے باوجود حافظ عمار یاسر کے تمام ممبران کونسل کمیٹی لاوہ اور
تلہ گنگ مضبوطی کے ساتھ حافظ کے ساتھ کھڑے ہیں اور مسلم (ن) ان کا کچھ بگاڑ نہ سکی یہ تھی دلیری ہمت اور مضبوط ارادے کی ایک داستان۔گزشتہ قومی الیکشن کے بعدمنظر بالکل تبدیل ہو چکا ہے اب ضلعی ،صوبائی اور مرکزی سمیت کوئی رکاوٹ سامنے نہیں آئی ہے لہٰذا وہ تمام دوست ووٹر ۔سپورٹر جو بڑے حالات میں حافظ عمار یاسریا عمران کے ساتھ دیوار کی طرح کھڑے رہے ۔وہ اس کامیابی پراپنی طویل جدوجہد کا پھل چاہتے ہیں اور ظاہر جن لوگوں نے اتنا ظویل اور صبر ازما سفر کیا اب وہ اس قربانی کاصلہ بھی چاہتے ہیں لہٰذا اب عمران خان اور حافظ عمار یاسر پرایک بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے کہ وہ اب ڈیلیور کریں۔
سادگی اور کفایت شعاری اپنی جگہ لیکن خالی پیٹ کھانا، ننگا بدن کپڑا اور غریب سر چھپانے کو چھت چاہتا ہے ۔ننگا سر،ننگا بدن اور خالی پیٹ اب باتوں اور نعروں سے نہیں بھرے گا بلکہ اس کیلئے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے اور یہ اقدامات اب اٹھانے کی اشد ضرورت ہیے۔اس سلسلہ میں عمران خان اور حافظ عمار یاسر کو ایک تجویز دے رہاہوں۔حافظ صاحب ہمارا علاقہ چونکہ بارانی ہے اور پورا پنڈی ڈویژن جس میں سونا پیدا کرنیوالی زرعی زمینیں ہیں لیکن دوسرا سال مسلسل خشک سالی کی وجہ سے زمیندار لوگوں کے پیداواری اخراجات بھی پورے نہیں ہو سکے۔لٰہذا حکومت اگر سولر ٹیوب ویل کسانوں کو کود لگوا کر دے اور بے شک سبسڈی دے کر آسان قسطوں میں رقم وصول کرے تو راولپنڈی کے 80 فیصد مسائل حل ہو سکتے ہیں لہٰذا اس مسئلہ کی فوری طورپر اگر منصوبہ بندی شروع کردی جائے تو بہت جلد اس منصوبہ کے ثمرات ملنا شروع ہو جائیں گے۔زمیندار خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگالہٰذا اس سلسلہ پر وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم سے مشورہ کرکے فوری طورپر اس سکیم کا آغاز کیا جائے تو جب 80% آبادی کے مسائل حل ہونا شروع ہو ں گے تو علاقہ بھر میں زرعی اجناس از قسم گندم،چنا اور دالوں سرسوں کی ضروریات مقامی سطح پر پوری ہونا شروع ہوجائیں گی ۔
ْ قارئین! ایک اور ضمنی الیکشن بھی سر پر آن کھڑا ہے جس میں مقابلہ ون ٹو ون ہوگا یعنی چوہدری شجاعت حسین اور فیض ٹمن ۔بحرحال ابھی تک انتخابی سرگرمیاں شروع نہیں ہوئیں علاقہ بھر میں بے حسی چھائی ہوئی ہے اور ابھی تک بلا اور ٹریکٹر بھی کاموش ہے اور شیر بھی نہیں دھاڑا۔آئندہ ہفتہ تک صورتحال واضح ہوجائے گی۔نیک دعاؤں کے ساتھ اﷲ حافظ،
مکتوب دربٹہ: امیر عبداﷲ ملک، 0302-2209429

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں