394

پنجاب کے نئے بلدیاتی ایکٹ میں24محکموں کو ضلعی حکومتوں کے حوالے کیا جا رہا ہے،نئے بلدیاتی نظام کی سفارشات وزیراعظم کو پیش

چکوال( نمائندہ بے نقاب) پنجاب کے نئے بلدیاتی ایکٹ میں24محکموں کو ضلعی حکومتوں کے حوالے کیا جا رہا ہے جسمیں پرائمری اور ایلیمنٹری سطح پر محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت ضلعی حکومتوں کے حوالے ہونگے البتہ ہائر ایجوکیشن اور محکمہ صحت صوبائی حکومت کے

حوالے ہوگا۔تاہم بنیادی مراکز صحت ضلعی حکومت کے حوالے ہونگے۔ابھی تک جو نئے بلدیاتی نظام کی سفارشات وزیراعظم کو پیش کی گئی ہیں اس میں یونین کونسل میں نائب ناظم کا عہدہ ختم کردیا گیا ہے۔ جبکہ یونین کونسل گیارہ ممبران پر مشتمل ہوگی جس میں پانچ کونسلرز براہ راست الیکشن جبکہ پانچ مخصوص نشستوں کے ذریعے منتخب ہونگے۔ ٹاؤن اور تحصیل ختم کردی گئی ہے، تحصیل کی سطح پر ناظم کی بجائے نائب ناظم یا ڈپٹی میئر ہوگا جو براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوگا۔ تمام یونین کونسلز کے ناظم ممبر ڈسٹرکٹ کونسل ہونگے۔ جبکہ خیبر پختونخواہ کی طرز پر ویلج کمیٹیوں کا قیام بھی عمل میں لایا جائے گا اور تمام چھوٹے مسائل اور فیملی معاملات ویلج کمیٹیوں میں حل کیے جائیں گے۔ ہر ضلع میں ترقیاتی منصوبے ضلع ناظم اور نائب ناظمین پر مشتمل بورڈ کریگا۔ جبکہ ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور نگرانی لوکل کونسلیں کرینگی جس میں حکومتی اور اپوزیشن ممبران کو شامل کیا جائے گا۔ معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ بل جلد ہی پنجاب اسمبلی سے منظور کراکے اسے بلدیاتی ایکٹ2018کا نام دیا گیا ہے اور اس کے نافذ ہوتے ہی تین ماہ کے اندر بلدیاتی الیکشن کروائے جائیں گے۔ موجودہ بلدیاتی اداروں کو ختم کر کے ان پر کوئی ایڈمنسٹریٹر یا کوارڈینیٹر نہیں لگایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں