377

پنجاب پولیس کے علاوہ پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام پر کام فیصلہ کن مرحلے میں داخل،سابق آئی جی پختونخواہ ناصر درانی نے اپنی سفارشات کو حتمی شکل دیدی

چکوال(نمائندہ بے نقاب)پنجاب پولیس کے علاوہ پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام پر کام فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے،پولیس اصلاحات کیلئے سابق آئی جی پختونخواہ ناصر درانی نے اپنی سفارشات کو حتمی شکل دیدی ہے اور آئندہ ایک دور وز میں وہ یہ سفارشات وزیراعظم عمران

خان کو پیش کریں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ پولیس کے موجودہ سسٹم میں بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ ضلعی سطح پر ڈی پی او کو تبادلوں اور تقرریوں میں فری ہینڈ دیے جانے کا امکان ہے۔ جبکہ تمام تھانوں میں تقرریاں اور تبادلے ڈی پی او کی صوابدید پر ہونگے اور ہر ضلع میں جرائم کے حوالے سے ڈی پی او جوابدہ ہوگا۔ معلوم ہوا ہے کہ تفتیش کا طریقہ بالکل سادہ ہوگا، کوئی بھی پارٹی اگر تفتیش سے مطمئن نہیں تو ڈی پی او مکمل بااختیار ہوگا کہ وہ تفتیش کو تبدیل کر سکے۔ اُدھر بلدیاتی نظام میں ویلج کونسلوں اور نیبر ہُڈ کونسلوں پر فوکس رکھا گیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ ایک ہزار کی آبادی پر شہر میں نیبر ہُڈ کونسل جبکہ دیہات میں ویلج کونسل ہوگی۔ چھوٹے مصالحتی اور فیملی معاملات ویلج کونسل سرانجام دیگی۔ ہر ضلع کی ترقی میں ضلع ناظم جو کہ عوام کے براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوگا وہ انچارج اور سربراہ ہوگا ، جبکہ اس کی معاونت کیلئے ہر تحصیل کی سطح پر نائب ناظم منتخب ہوگا، جبکہ یونین کونسل کا چیئرمین ضلع اسمبلی کا بھی رکن ہوگا۔ صوبہ پنجاب کا چالیس فیصد ترقیاتی بجٹ منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے ہوگا۔ پنجاب کے موجودہ 24محکمے نئے بلدیاتی نظام کے ماتحت کام کریں گے اور ضلع ناظم ان تمام 24محکموں کی کارکردگی اور ان کے تمام معاملات کیلئے مکمل طور پر بااختیار ہوگا۔ نئے بلدیاتی نظام کے نافذ العمل ہوتے ہی پہلے مرحلے میں حلقہ بندیاں ہونگی۔ معلوم ہوا ہے کہ جولائی2019میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی تجویز ہے اور پنجاب کے 2019/20 کے بجٹ میں بلدیاتی اداروں کیلئے فنڈز بھی مختص کردیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں