226

خطرات میں گھرا پاکستان ….تحریر۔برگیڈیر امجد ملک

آپ بھائیوں کے لیے یہ بات قابل فخر اور باعث اطمینان ہوگی کہ ہمارے ملک میں دشمن ممالک کی ایجنسیوں کے مشترک جارحانہ عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے وہ اس بات سے تلملا رہی ہے کہ اپنی تمام تر کوششوں اور مکمل منصوبہ بندیوں کے باوجود ناکامی سے دوچار ہوئے آپ حیران ہو رہے ہوں گے کہ میں نے ایک دن یہ کیا قصہ چھیڑ دیا جی ہاں یہ اس سے بانبرڈ جنگ کا ذکر ہے یہ ہمارے مشترکہ دشمنوں نے گزشتہ کئی سالوں سے ہم پر مسلط کر رکھی ہے دشمن کا یہ حملہ پوری تیاری اور

اس یقین کا غماز تھا کہ اس کے چومکھی حملے سے ہم جانبرنہ ہوپائیں گے بلاشبہ ہمارے ملک کا شیرازہ بکھیرنے کی یہ بدترین منصوبہ بندی تھی قوم پرست سیاستدانوں کی مٹھی اربوں روپے سے گرم کرکے انہیں ڈیمز کی مخالفت میں کھڑا کیا گیا واٹر کمیشن میں ہندوستان سے بڑھ کر اس کے مفادات کا خیال رکھنے والے غدار افسران بٹھائے گئے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے معاونات اور انہیں باقاعدہ مسلح کرنے کے لئے کلبوشن نیٹ ورک کا قیام ہوا کراچی میں لسانی جماعت کے مسلح ٹریننگ اور مالی پرستی پاکستان طالبان کو مسلح کرنے میں مالی مدد اور ان کے لیے سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں کی دستیابی اور رسائی تک دسترس مذہبی جماعتوں میں دہشت گردوں کے لیے نظریاتی سہولت کاروں کا فروغ بیرونی امداد میں کمی دفاعی معاہدوں سے دانستہ انحراف کے حربوں کا استعمال،عایدکردہ مختلف مالی پابندیوں ملکی سلامتی کو لاحق خطرات، معیشت کو تباہی سے دوچار کرنے کے لیے اندرونی بیرونی گٹھ جوڑ سمیت اس ملک خداداکو صفحہ ہستی سے مٹنے کے لئے اپنی طرف سے کوئی کسر نہ چھوڑی گئی اس خطرناک منصوبہ بندش ہمارے ملک کو بچ نکلنا کسی معجزے سے کم نہیں۔یہ سب اللہ کی نصرت اور مدد سے ممکن ہو ا ہماتے دشمن اپنی ناکامی پہ نالاں اور پیچ و خم کھا رہے ہیں انکے خیال ممیں انکی ناکامی کی تین بنیادی وجوہات ہے
1ان میں سر فہرست پاکستانی قوم کے جذبہ ایمانی کی باز گشت انکا جذبہ شہادت اور انکا بحیثیت قوم ایثات اور قربانی کی اقدار سے پختہ وابستگی ہے
2دوسری وجہ ہماری زراعت پر مبنی بہت حد تک خود مختیار زرعی معیشت ہے آبادی کا ایک کثیر حصہ اپنی روزی رزق کیلئے اس سے منسلک ہے جو کبھی کسی اندرونی یا بیرونی دباؤ کا رواداد نہیں رہا اس کے علاوہ بیرونی ملک مقیم اسی لاکھ سے زائدپاکستانیوں کی بھیجی گئی رقوم ان کے خطر ناک عزائم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ رہیں
3تیسری اور اسب سے بڑی وجہ پاکستان کے مسلح افواج،اعلی عدلیہ،اور ہماری عظیم اور قابل فخر ایجنسی آئی ایس آئی کا گزشتہ سالوں میں قربانیوں اور نے خوفی سے بھرپور کردار ہے دنیا بھر میں نظریاتی دہشت گردی کے خلاف اتنے کم وقت میں کوئی جنگ جیتنے کی واحد مثال پاکستان ہے اس کامیابی پر ہماتے مشترکہ دشمن پہلی دفعہ اس خوف اور مایوسی کا شکار ہیں کہ پاکستان تر نوالہ نہیں ورنہ انہوں نے ہماتا حشر عراق،شام اور لیبیا سے مختلف کرنے کا نہیں سوچا تھا یہ ہماری پہلی کامیابی ہے مگر ملک کی سلامتی کو خطرات بدستور ہیں دشمن مایوس اور پریشان ہے مگر ابھی بھی ناامید نہیں ہندوستان،افغانستان اور اسرائیل پہلے ہی ہمارے خلاف سرگرم ہیں انڈین لابی کے دباؤ میں اے نئے امریکی صدر نے بلا سوچے سمجھے ہم سے زیادہ خود اور امریکہ کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے انکا حد سے زیادہ انڈیا کی طرف جھکاؤ نامناسب اور غیر حقیقت پسندانہ ہے بحر حال امریکہ رویہ نے ہمارے دشمن سہ فریقی گٹھ جوڑ کو مزید مضبوط اور انہیں شہ دی ہے امید ہے مریکی اسٹبلشمنٹ اپنے صدر کو خود اپنے مفاد حد سے زیادہ تجاوز سے باز رکھے گی اندیشہ ہے مستقبل قریب میں یہ قوتیں پاکستان میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے دوبارہ کچھ نئے ہتھیاروں سے حملہ آور ہوں گی ان متوقع اقدمات سے پاکستان کو کمزرو کرنے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی دیرینہ خواہش کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے میری دعا ہے امریکہ سے متعلق ہمارے خدشات درست نہ ہو مگر زمینی حقایق اس کے بر عکس لگتے ہیں ہمارے دشمنوں کا گٹھ جوڑ اہنی قوتیں یکجا کرکے از سرنو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے نئی حکمت عملی ترتیب دے گا جن میں سر فہرست پاکستان کو پانی کے معاملات میں بے بس کرنا ہے ہمارے لئے موجود دبانی بہت اہم ہے 2025تک ڈیموں سے متعلق اگر کوئی سنجیدہ پیش رفت نہ ہوئی تو ملک میں پانی کی کمی کی اثرات بہت واضع ہو جائیں گے انڈیا اور امریکہ مشرقی اور مغربی دریاؤں کے بھاو میں خلل ڈالیں گے ڈیم مخالف لابی کو متحرک کرنے کیلئے پیسہ کا نے پناہ استعمال ہو گا آئی ایس این ایف پہلے ہی امریکہ کے زیر اثر ہے اس کے علاوہ بھی امریکہ اپنے زیر اثر مالیاتی اداروں کے زریعہ اور دوسروی مالی اقدامات سے اس بات کو یقینی بنائے گا کہ بیرونی ملک پاکستانیوں کو ترسیل زر میں رکاوٹو ں اور دشواریوں کا سامنا ہو اس طرح پاکستان کی بقا کے ضامن ایک اہم زریعہ کو بروز بند کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی ویزا اور امگریشن پالیسی سخت کرکے ایسے نامناسب قوانین بنوا کے مشرق وسطی کے مسلمانوں کی طرح پاکستانیوں کو بھی مغرب اور امریکہ میںآمد سے روکا جائے گا ہمارے دشمن اس بات سے اگاہ ہیں کہ جوہری تبدیلی لانے کیلئے معاشرے کے زہین طبقات کو ساتھ ملانا ضروری ہے اس لیے لبرلز انٹلیکچویلز،میڈیا کو بھاری رقوم دے کر ساتھ ملایا جائے گا تاکہ ملکی اداروں فوج عدلیہ اور بالخصوص آئی ایس آئی کے خلاف ا سطرح قوم کی تقسیم کی بنیاد رکھ دی جائے گی چھوٹے چھوٹے متعدد نفرت انگیز واقعات سے ان اختلافات کو ہوا دیکر فوج کو ایک بالا دست اور من مانی کرنے والا ادارہ ثابت کرنے کی بھرپور کاشش ہو گی دشمن جانتا ہے کہ اسکی راہ میں صرف فوج سب سے بڑی رکاوٹ ہے فوج کو کمزور کرنے کا مقصد اس کو عوام میں غیر مقبول کرکے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے بلوچستان،سندھ،کے پی کے اور قبائلی علاقوں میں قوم پرستوں کی مالی امداد دیکر قوم پرستی کو مزید ہو دی جانے کی گریٹرگلگت و بلتستان،گریٹربلوچستان گریٹر پختونستان،گریٹر پنجاب کے نعروں کو مقبول عام بنایا جائے گا آزاد کشمیر کو مکمل آزاد ریاست بنانے کی تحریک بھی چلائی جاسکتی ہے مجھے یقین ہے ہمارے دشمن کی تمام سازشیں بالاخر ناکامی سے دوچار ہو گی مگر اس کیلئے قوم کو ہمہ وقت چاکنا رہنے کی ضرورت ہے دشمن ہمارے صفوں میں نقب نے لگانے پائے ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں پہ نظر رکھنی ہے کہیں ایسانا ہو کہ ہمارے اپنے بہن بھائی انجانے میں دشمن کے ہاتھوں اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال کر لئے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں