400

مولانامحمد اعظم طار ق شہیدؒ تحریر:ملک پرویز اقبال ایڈوکیٹ ہائی کورٹس


صحابہ کرامؓ اور نبوت ؐ امت کے درمیان بمثل ایک پل ہیں ۔ اور جب تک یہ پل سلامت ہے امت کو نبوت ﷺسے مربوط رہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے لیکن دشمن اس پل پر حملہ آور ہو کر امت کو نبوت ﷺسے جدا کرنے کی ناپاک جسارت پر عمل پیرا ہے لیکن جب تک جسم میں جان ،رگوں میں خون، آنکھوں میں بینائی، کانوں میں شنوائی ، ہاتھوں میں سکت ، پاؤں میں قوت ، دل میں دھڑکن اور دماغ میں سوچ ہے انشاء اللہ ہم اس پل پر پہرہ دیتے رہیں گے ۔ جان جاتی ہے چلی جائے بچے یتیم ہوتے ہیں ہو جائیں ،بیوی بیوہ ہوتی ہے ہوجائے لیکن اس پل کی حفاظت سے ’’دستبرداری‘‘ ہرگز ہرگز نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ میرے ایمان کا مسئلہ ہے ۔ یہ الفاظ عالم اسلام کے عظیم سپوت شہید ناموس صحابہ حضر ت مولانا محمد اعظم طارق شہید ؒ کے ہیں جن کو آج ہم سے جدا ہوئے آٹھ سال کا عرصہ بیت چکا ہے ۔
حضرت مولانا اعظم طارق شہیدؒ کی ولادت 10شوال 1380ہجری بمطابق 28 مارچ 1961ء بروز منگل کو چیچہ وطنی کے نواحی گاؤں ایک سو گیارہ سیون آر میں ہوئی۔ مولانا شہیدؒ کو بچپن ہی سے دینی تعلیم حاصل کرنے کا بے حد شوق تھا۔ آپ نے ایک انٹرویو میں یوں ارشاد فرمایا کہ’’ شروع سے ہی ایک ایسا عالم دین بننے کا شوق تھا جو اللہ کے علاوہ کسی سے نہ ڈرے‘‘ ، مولانا شہیدؒ نے اپنے آبائی دینی مدرسہ انوار الاسلام میں قرآن مجید حفظ کرنے کی سعادت کے ساتھ ساتھ مقامی سکول میں پرائمری تک کی تعلیم حاصل کی پھر 1977میں دارلعلوم ربانیہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ابتدائی فارسی اور مڈل تک کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد 1978میں مدرسہ تجوید القرآن چیچہ وطنی میں عربی، فقہ، حدیث، فلسفہ، منطق کے حصول کیلئے داخلہ لیا، اور 1980میں جامعہ عربیہ چنیوٹ میں مجاہد ختم نبوت ﷺ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی ؒ سے ’’ردِ قادیانیت‘‘ کورس کے ساتھ عالم عربی کا کورس بھی مکمل کیا۔ پھر جامعہ نعمانیہ میں فقہ، حدیث، ادب، علم الکلام کی تمام بڑی کتابوں سے علمی پیاس بجھائی ، 1984میں جامعتہ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی سے دورہ حدیث پورا کرکے سند فراغت حاصل کی۔ ایم ۔اے عربی، ایم۔ائے اسلامیات امتیازی نمبروں سے پاس کیا ، مولانا شہیدؒ کو چھ زبانوں پنجابی، اردو، عربی، فارسی، سندھی اور انگریزی پر مکمل عبور حاصل تھا۔
کون جانتا تھا کہ سرزمینِ چیچہ وطنی میں آنکھ کھولنے والا بچہ اسلام کی ’’نظریاتی سرحدوں‘‘ کے دفاع کیلئے ایسا ’’مشعل راہ ‘‘ روشن کردار ادا کریگا، جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکے گی۔ مولانا شہیدؒ نے جرات ور بہادری ، شجاعت، دلیری، استقامت اور حق گوئی و بے باکی کی لازوال داستانیں رقم کیں۔جس سے ان کے دشمن بھی انکار نہیں کر سکتے۔ مولانا شہیدؒ نے زندگی کیسے گزاری؟ مولانا شہیدؒ خود فرماتے ہیں ’’ میں اپنے بارے کسی خوش فہمی کا شکار ہو ں نہ مجھے اپنی نسبت کوئی بلند و بانگ دعویٰ ہے بلکہ میں اپنی علمی و عملی کمزوریوں اور خامیوں کا برملا معترف ہوں لیکن بایں ہمیہ تحدیث بالنعمت کے طور پر یہ کہنے میں بھی باک
محسوس نہیں کرتا ہوں کہ جسطرح مجھے کم عمری میں ہی اپنے مشن و موقف کی صدا محراب و منبر سے ایوانِ بالا تک بلند کرنے اور’’ جرمِ حق گوئی‘‘ پر مسلسل اذیتوں، قاتلانہ حملوں ، روپوشیوں، عقوبت خانوں کی قیدِ تنہائیوں اور ظلم و ستم ، تشدد و بریت کی خار دار وادیوں سے ایک منتخب رکن قومی اسمبلی ہونے کی حیثیت سے گزرنا پڑا اور بڑے بڑے مالی مفادات کی پیش کش کو لات مار کر عہدوں اور اہم مناسب کے حصول سے انکار کرکے گزشتہ پونے چار سال سے وقت کے حکمرانوں کی انتقامی کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، کم از کم پاکستان کی پچاس سالہ تاریخ میں کسی سیاسی یا مذہبی لیڈ ر کو ایسی صورتِ حال سے دوچار نہیں ہونا پڑا، مجھے اللہ تعالی کی خصوصی توفیق و عنایت کے باعث آج اپنے کردار پر فخر ہے۔ میں نے اپنے شہید قائدین اور کارکنوں کے خون سے وفا کی ہے ، میں اپنے مشن سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیا ر نہیں ہوا ہوں‘‘۔
مولانا ایثار القاسمی شہیدؒ کی مظلومانہ شہادت کے بعد جب جماعت نے مولانا شہید کو مولانا قاسمی ؒ کا جانشین مقرر کر دیا تو آپ کے والد ماجد کو جب معلوم ہو ا تو فرمایا’’ بیٹااِتنا بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے مجھ سے مشورہ تو کر لیتے‘‘ مولانا شہید نے فرمایا’’ ابا جان مجھے اسکا علم بھی نہ تھا اور میرے انکار کے باوجود مجھ پر یہ بھاری ذمہ داری ڈال دی گئی ہے اور بالاخر میں نے یہ سوچ کر حامی بھر لی تھی کہ آپ نے ہمیشہ دینی معاملات میں میری بھر پور تائید و حمایت کی اور اب بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ آپ اب بھی میری انتہائی حوصلہ افزائی فرمائیں گے‘‘ والد نے فرمایا ’’ حوصلہ افزائی کیوں نہ کروں میں نے تجھے خدا سے مانگا ہی دین کی خدمت کیلئے تھا‘‘ ۔ لیکن جب سے آپ کے جانشینِ قاسمی بننے کی خبریں اخبار کی زینت بنی ہیں عزیز و اقارب اور دوست احباب مجھے یہی کہہ رہے تھے کہ آپ اپنے بیٹے کو جھنگ میں جلتی ہوئی آگ میں کودنے سے روکو، لیکن بیٹا اگر تمھارے انکار کے باوجود تمہارے اوپر ذمہ داری ڈالی گئی ہے توپھر غور سے سنو! کہ جب تک کوئی مجاہد میدان جنگ میں عملی قدم نہیں رکھتا اُسوقت تک اُسکے پاس سوچنے سمجھنے یا کوئی متبادل راستہ اختیار کرنے کا جواز باقی رہتا ہے لیکن جب وہ میدان جنگ میں عملی قدم رکھ چکا ہو تو اُسے وہا ں سے بھاگنے کے راستے کیطرف دیکھنا بھی نہیں چاہیے۔لہذا بیٹا اب تم ڈٹ جاؤاور کسی بات کی فکر مت کرو کیونکہ زندگی اور موت اللہ رب العزت کے علاوہ کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ جیسے اللہ تعالی ٰ نے تمھیں اغواکرنے، گولیاں مارنے والوں سے خوب بچایا تھا انشاء اللہ وہ مالکِ ارض و السموات اَب بھی تمہاری مدد فرمائیگا۔
مولانا شہیدؒ نے سر زمیں جھنگ میں اُس وقت قدم رکھے جب شیرِ اسلام امیر عزیمت ، مجد العصر حضرت علامہ حق نواز جھنگویؒ شہید اور وکیل صحابہؓ للکارِ جھنگوی شہید حضرت علامہ محمد ایثار قاسمی شہید (MNA)کی مظلومانہ شہاد ت کے بعد شہر میں ہر طرف گولیوں کی بوچھاڑ تھی، کلاشنکوف کے برسٹ اور بموں کے دھماکے معمول بن چکے تھے، بے بس اور مظلوم اہلسنت عوام پر تشدد کے پہاڑتوڑے جا رہے تھے ، اہلسنت کا کوئی پر سان حال نہیں تھا، حق پرست علماء رکرام کا قتل عام کیا جا رہا تھا۔اِس آگ و خون کے سمند ر میں مولاناشہیدؒ جھنگ کی عوام کیلئے اُمید کی کرن بن کر ایک مسیحاء کے روپ میں وارد ہوئے اور شہر میں امن و سکون کے قیام کیلئے تگ و دو شروع کر دی اور یتیم سنی عوام کے سر پر سایہ فگن ہوئے اور جرات و استقامت کاکوہ گراں بنکر اہلسنت کے غم کے سینے میں سمیٹے چلے گئے، مولانا شہیدؒ کی ہمت اور حوصلہ پہاڑوں سے بھی بلند اور عزم و استقلال کی چٹانوں کی طرح مضبوط تھا، جو عالم اسلام کے مسلمانوں کے ضمیر کو جھنجوڑتے رہے، او ر اُنکی خطابت صوراسرافیل کا کام کرتی تھی، اُنکے بیان میں وہ سحر انگیز اثر تھا کہ جو بھی ایک مرتبہ اُنکی تقریر سنتا وہ مشن جھنگویؒ کا ساتھ دینے کیلئے کمر بستہ ہوجاتا۔ مولانا شہیدؒ کی خطابت میں طوفانوں جیسی سنسناہٹ، بجلی کیطرح کڑک، پہاڑوں جیسی مضبوطی ، شیر کی گھن گرج تھی، جو کہتے ڈنکے کی چوٹ پر کہتے تھے، خوشامدانہ طرز و الفاظ کے ہیر پھیر سے ناآشنا تھے، انہوں نے مختصر سی زندگی میں گلگت کی سنگلاخ وادیوں ، پنجاب کے میدانی اورذرخیزعلاقوں ، سرحد کی خوشحال وادیوں اور سند ھ میں بہتے ہوئے پانی کو عظمتِ آصحاب رسولﷺ سے روشناس کرایا۔پارکوں اور میدانوں کی گھاس کے تنکوں سے لیکر مسجدوں کے بلند و بالا مناروں کو گواہ بناتے ہوئے اُمہات المومنینؓاہلبیتؓ کی عزت و ناموس کا پرچم بلند کیا اور غفلت کی شکار سنی قوم کو بیدار ہی نہیں بلکہ اپنے مشن اور حقوق کا پاسبان بھی بنا دیا، مولانا شہیدؒ وہ عظیم المرتبت مرد قلندر تھے جو مجدد الف ثانیؒ کی تمناؤں کے پیغامبر ، امام غزالیؒ کے فلسفہ اسلام کے حدی خواں، امام ابو حنیفہؒ کی عظمت کے پیکر ، شاہ ولی اللہؒ کی فکر کے محور اور بلاشبہ امام احمد بن حنبلؒ کے استقلال کا نمونہ تھے۔ مولانا شہیدؒ کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے، آپ اتحاد بین المسلیمین کے داعی اور فرقہ واریت کے سخت ترین دشمن تھے، انہوں نے اپنی زندگی تحفظ ختم نبوتﷺ، تحفظ ناموس صحابہؓ و اہلبیتؓ کیلئے وقف کر رکھی تھی اور اسی سلسلے میں بیرونی ممالک کے متعدد تبلغی دورے بھی کیے۔جب شمالی علاقہ جات گلگت میں نصاب تعلیم سے مقدس شخصیات صحابہ کرامؓ و اہلبیتؓ کے نام خار ج کروانے کی ناپاک جسارت کی گئی تو مولانا شہیدؒ نے قومی اسمبلی کے اند ر اور باہر عوامی اجتماعات میں اس کے خلاف زبردست آواز اُٹھائی اور بھر پور احتجاج کیااور اپنی زندگی میں اس ناپاک سازش کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ایک مرتبہ کسی آدمی نے مولانا شہیدؒ سے پوچھا کہ حضرت آخر کیا وجہ ہے کہ اسلام دشمنوں کا نشانہ آپکی ہی تنظیم کے قائدین بنتے ہیں جبکہ دوسری دینی تنظیموں کے قائدین اور کارکنان محفوظ رہتے ہیں ؟؟؟تو مولانا شہیدؒ نے فرمایا کہ ہماری تنظیم کے افراد دین اسلام کی سرحد اور بارڈر کے محافظ اور پہرے دار ہیں لہٰذا جب بھی کسی دشمن کیطرف سے حملہ ہوتا ہے تو اُسکا پہلا نشانہ بارڈر کا محافظ اور پہرے دار ہی بنتا ہے گھروں میں رہنے والوں کی باری اس وقت آتی ہے جب کوئی محافظ اور پہرے دار سرحد کی نگرانی اور پہرہ دینے والا نہ رہے۔
مولانا شہید حرص و حوس ، لالچ و طمع، حب مال جاہ سے نا آشنا تھے۔ زندگی کا اخری الیکشن جیل سے لڑا اور کامیابی حاصل کی، تین بار ایم این اے اور تین بار ایم پی اے منتخب ہونے کے باوجود بھی کوئی بینک بیلنس ، نہ کوئی بنگلے اور نہ ہی کوئی دیگر جائیداد بنائی اور نہ تجوریاں بھرنے کے چکر میں پڑے بلکہ اپنا تن من دھن سب مشن پر نچھاور کر دیا، اور آخر تک چھوٹے سے کچے مکان میں رہنے کو ترجیح دی۔ مولانا شہیدؒ گرفتار تھے اور آپکے اہلِ خانہ ملاقات کیلئے گئے اور دوران ملاقات مولانا شہیدؒ کے بڑے صاحبزادے محمد معاویہ اعظم نے کہا کہ ابا جی ہم جس مکان میں رہائش پذیر ہیں وہ تو ہماری جماعت اور مسجد کی ملکیت ہے اور اگر ہم اُس مکان کی قیمت جو تقریباً چند لاکھ بنتی ہے ، اگر یہ رقم جماعت کو ادا کردیں تو یہ مکان ہمارا ذاتی ہو سکتا ہے یہ سن کر حضرت
چونک اُٹھے اور فرمایا بیٹے یہ آپ نے کب سے سوچنا شروع کر دیا کہ اس دنیا میں ہمارا ذاتی گھر ہو گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت میں بہت کچھ عنایت فرمانیوالے ہیں، ہمیں یہاں گھر بنانے کی ضرور ت نہیں ہے۔
مولانا شہیدؒ کو تحفظِ ناموس صحابہ کی پاداش میں ظلم و تشدد، جبر و استبداد کے پہاڑ توڑے گئے ، کبھی آپکو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کبھی زہر دیکر مارنے کی کوشش کی گئی کبھی گولیوں کی بارش کر کے شدید زخمی کیا گیا، کبھی راکٹ لانچروں ہینڈ گرنیڈوں سے حملہ کر کے آوازِ حق کو خاموش کرنے کا حربہ آزمایا گیا، کبھی عقوبت خانوں میں اسکا گوشت نوچہ گیا، کبھی استقامت کے اس کوہ گراں کو جھوٹے، بے بنیاد ، من گھڑت کیسوں کی آڑ میں جھنگ، فیصل آباد، بہاولپور، اٹک، ملتان، چوہنگ سینٹر،روالپنڈی، کوٹ لکھپت لاہور، میانوالی میں پسِ دیوارِ زنداں کر کے، ظلم و تشدد اور بربریت کی انتہا کر کے حق گوئی و بے جرمی کی سزا دی جاتی رہی۔ کبھی اس کے بیوی بچوں کو ملاقات سے محروم رکھ کر انسانیت دشمنی کی بدترین مثال قائم کی جاتی رہی۔ایک مرتبہ جب مولانا شہیدؒ جیل سے رہا ہوئے تو کسی دوست نے آپکو مشورہ دیا کہ آپ کچھ عرصے کیلئے جلسوں اور تقریروں کا سلسلہ موقوف فرمادیں۔ کیونکہ آپکی جان کو سخت خطرہ ہے، توآپ نے فرمایا کہ میں خلوت کی زندگی پر جلوت کی زندگی کو ترجیح دیتا ہوں اور محض جان کے خوف سے چھپ کر بیٹھ جانے کو بے غیرتی اور بزدلی تصورکرتا ہوں۔
مولانا شہید ؒ عجیب مردِ قلند ر انسان تھے وہ وقت کے ظالم اور جابر حکمرانوں کے سامنے جھکنے کی بجائے ظلم کو للکارتے، حکمرانوں کے گریبانوں سے کھیلتے، مصائب و الام میں ہنستے مسکراتے، عظمتِ آصحابِ پیغمبرﷺ کے گن گاتے ہوئے نظر آتے۔الغرض کہ وہ تمام مصائب کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔ مولانا شہیدؒ نے دورانِ آسیری سینکڑوں مرتبہ قرآن مجید کو ختم کیا، لاکھوں مرتبہ درودِ شریف کا ورد کیا۔اور متعدد مرتبہ آقا دو جہاں حضرت محمدﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ اسلام دشمن قوتیں مولانا شہیدؒ کو اپنی راہ میں بہت بڑی روکاٹ سمجھتی تھیں کیونکہ مولانا شہیدؒ ہر دین دشمن کا تعاقب کر کے اُس کیفر کردار تک پہنچانے میں سرگرم عمل رہتے تھے آپکو راستے سے ہٹانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا، آپ پر 22مرتبہ قاتلانا حملے ہوئے جن میں ایک بڑا حملہ آٹھ رمضا ن المبارک بمطابق اٹھارہ جنوری 1997 کو سیشن کورٹ لاہور میں اُس وقت ہو ا جب مورخ اسلام علامہ ضیاالرحمن فاروقی شہیدؒ اور مولانا شہیدؒ کو ایک مقدمہ قتل میں پیشی کیلئے لایا گیا۔ جونہی پولیس گاڑیا ں قائدین کو لیکر سیشن کورٹ کے احاطہ میں داخل ہوئیں تو دونوں قائد گاڑی سے نیچے اترے تو کارکن پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے اظہار رعقیدت کر رہے تھے، قائد ین چند قدم ہی آگے بڑے ہو نگے کہ قریب ہی کھڑی موٹر سائکل میں نصب انہتائی طاقتور بم کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا گیا۔ جس سے ہر طرف قیامت کا منظر تھا، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ انسانی جسموں کے ٹکڑے اُڑ گئے۔ اس دھماکے میں علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شہیدؒ سمیت 36افراد جام شہادت نوش کر گئے، مولانا شہیدؒ بم کے ٹکڑے جسم میں پیوست ہونے سے شدید زخمی ہوئے لیکن ملک بھر میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ مولانا اعظم طارق بھی شہید ہو چکے ہیں، مولانا شہیدؒ نے شدید ذخمی حالت میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہو ئے فرمایا کہ دشمن خوش نہ ہوں میں زندہ ہوں، تحفظ ناموسِ صحابہؓ و اہلبیتؓ کی پر امن آئینی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا‘‘
جب مولانا شہیدؒ کا مذکورہ بالا بیان جب اخبارات کی زینت بناتو مولانا شہیدؒ کے پرستاروں کی جان میں جان آئی۔
سیشن کورٹ میں شدید زخمی ہونے کے باوجود سانحے کے تیسرے روز جھنگ میں تعزیتی کانفرنس میں فرمایا کہ دشمن ہمیں شہادت کے راستے پر ڈال کرخوشی کے شادیانے نہ بجائے ۔ کیونکہ ہم روزِ اول سے ہی شہادت کا راستے کا انتخاب کیا ہو اہے اور اس راستے پر چلتے ہوئے ہم سر بلند کر کے چلتے ہیں ، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ علامہ جھنگویؒ کے بعد علامہ قاسمی ؒ آئے اور علامہ قاسمیؒ کے بعد علامہ فاروقی ؒ آئے اور علامہ فاروقی شہیدؒ کے بعد یہ غلام(اعظم طارقؒ ) آج بھی حاضر ہے،تو بخداشہدا کے خون کے ایک ایک قطرے سے مشن کے ہزاروں وارث پیدا ہونگے۔
مولانامحمد اعظم طارق شہید ؒ پر دوسرا بڑا حملہ سرگودھا کے علاقہ شاہ پور میں ہو اجس میں مولانا شہید ؒ پر راکٹ لانچروں اور ہینڈ گرنیڈوں سے حملہ کیا گیا ۔ اس حملہ میں مولانا شہیدؒ کے دو گن مین موقع پر شہید ہوگئے لیکن اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم سے مولانا شہید ؒ معجزانہ طورپر بچ گئے اور برقعہ پہن کر آنے والے حملہ آوار وں کا جوان مردی سے مقابلہ کیا ۔ مولانا شہید ؒ کے جسم پر مختلف حملوں میں زخموں کے 114نشانات تھے ۔ جب آپ پہلی بار عمرہ کی سعادت کیلئے تشریف لے گئے توشاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے مسجد نبوی ﷺکے سب سے بڑے امام الشیخ حضرت عبدالرحمن الحذیفی نے آپ کے جسم پر زخموں کے نشانات کی وجہ سے آپ سے فرما یا ’’انت کمثل خالد بن ولید‘‘۔ یعنی آپؒ تو خالد بن ولیدؓ کی طرح ہیں کیوں کہ حضرت خالد بن ولیدؓ کے جسم پر بھی سو سے زائد زخم تھے۔ مولانا محمد اعظم طارق شہید ؒ عمر بھر صحابہ کرامؓ ، اہل بیت عظامؓ ،ازواج مطہراتؓ کی عزت و ناموس کو قانونی شکل دلوانے کیلئے کوشاں رہے ۔ وہ قانون ساز اسمبلی میں جا کر مشن کی ترجمانی کا جذبہ رکھتے تھے ۔ 10جنوری 1991ء کو علامہ محمد ایثار القاسمی شہیدؓ کو ایک گہری سازش کے تحت شہید کردیا گیاتو جماعت کے فیصلے کے مطابق مارچ1992کے ضمنی الیکشن میں مولانا شہیدؒ قومی و صوبائی کی دونوں سیٹوں پر الیکشن لڑنے کیلئے میدان میں کود پڑے ۔ میاں نوازشریف وزیراعظم تھے ۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ مرحوم غلام حیدر وائیں نے وفاقی حکومت کے اشارے پر مولانا شہیدؓ کو قومی اسمبلی کی سیٹ سے دستبرداری کے عوض ’’من پسند وزارت ‘‘ کی پیشکش کے علاوہ مزید کئی قسم کے لالچ دیکر خریدنے کی ناکام کوشش کی۔ مگر مولانا شہید ؒ نے تمام آفر کو ٹھکراتے ہوئے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کر دیا ۔ اس کے بعد حکومت وقت نے مولانا شہید ؒ سے مقابلہ کرنے کیلئے تمام جائز و ناجائز و سائل کا سہارا لیا او راوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردیئے ۔ وزراء کے لشکر نے جھنگ میں ڈیرے ڈال دیئے، کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا گیا سرکاری ملازمتیں دینے کا جھانسہ دیا گیا، عوام کو سبزباغ دکھا کر بیوقوف بنانے کی گمراہ کن کوششیں کی گئی روپیہ پانی کی طرح بہادیا گیا جبکہ دوسری طرف مولانا شہید ؒ کی الیکشن مہم کے نگران اعلیٰ سمیت سینکڑوں سرگرم کارکنوں کو بلا جواز پابند سلاسل کرکے ظلم و ستم کا بازار گرم کردیا گیا لیکن حکوم وقت کی سرتوڑ کوششوں ، تمام تر سازشوں ، مخالفتوں ، کے باوجود اللہ تعالیٰ کے خصوصی رحمت سے مولانا شہید ؒ قومی و صوبائی دونو ں سیٹوں پر کامیاب ہوگئے ۔
3مئی قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں جب مولانا محمد اعظم طارق شہید ؒ حلف اٹھاتے ہوئے سپیکر اسمبلی کی عبارت کو دہرارہے تھے جب سپیکر نے یہ عبار ت کہی کہ ’’میں پاکستان کے اس آئین و قانون کا پابند ر ہوں گا‘‘تو اس موقع پر مولانا شہید ؒ نے مذکورہ عبارت کے ساتھ جو اضافی جملے ارشاد فرمائے وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ مولانا شہید ؒ یوں فرماتے ہیں کہ’’میں پاکستان کے اس آئین و قانون کا پابند رہوں گا جو قرآن و سنت کے مطابق ہوگا‘‘ مولانا شہیدؒ کے اس اضافی جملوں پر مبنی حلف پر ممبران اسمبلی اور سپیکر نے اعتراض کیا اور ایوان بالا میں شورو غوغا ہوا لیکن آپ ؒ نے ایک بات کہی سب کو خاموش کرا دیا۔ آپ ؒ نے کہا کہ ’’اگر مجھ سے ایک سو مرتبہ بھی حلف لیا جائے تو میں اسی طرح حلف اٹھاؤ ں گا‘‘ مولانا محمد اعظم طارق شہید ؒ نے فرقہ وارانہ فسادات کے مکمل خاتمے اور مستقل قیام امن کیلئے 20اگست 1992ء کو گورنمنٹ کی سازشوں مخالفتوں کے باوجود حکومتی اور اپوزیشن اراکین اسمبلی کی ایک بڑی تعدادکی تائید و حمایت سے قومی اسمبلی میں ’’ناموس صحابہؓ بل ‘‘ پیش کر دیا ۔ لیکن صد افسو س کہ ایک ساز ش کے تحت اس بل کو منظور نہ ہونے دیا گیا ۔آپ واحد ممبر اسمبلی تھے جنہوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمنٹ میں شریعت بل پیش کیا لیکن ان کی زندگی میں یہ بل زیر بحث نہ آسکا۔ مولانا شہید ؒ ہمیشہ فرقہ وارانہ فسادات کے خاتمے کیلئے سر گرم عمل رہتے تھے آپ سانحہ سیشن کورٹ بم دھماکہ کی وجہ سے ابھی شدید زخمی تھے اور چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھے لیکن محرم الحرام کی آمد کے پیش نظر پاکستان ٹیلی ویثرن کی طرف سے فرقہ وارانہ فسادات کے خاتمے اور مذہبی ہم آہنگی کے حوالہ سے ٹی وی پر ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا ۔ جس میں مولانا شہید ؒ اور تحریک جعفریہ کے قائدین کو مدعو کیا گیا مذاکرہ 23اپریل 1997کو رات نو بجے خبرنامہ کے بعد ہونا تھا جب کہ مولانا اعظم طارق شہیدؒ شدید زخمی حالت میں مقررہ وقت پر ٹی وی اسٹیشن اسلام آباد پہنچ گئے لیکن بد قسمتی سے تحریک جعفریہ کی قیادت کے نہ پہنچنے پر یہ مذاکرہ ملتوی کردیاگیا۔ایک مرتبہ جب سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ نے مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں کو اُن کا موقف سننے کیلئے طلب کیا اس موقع پر مولا نا شہید ؒ او ر امام العصر علامہ علی شیر حیدری شہید ؒ نے اپنا موقف انہتائی مدلل انداز سے پیش کیا اور اہم تجاویز دی جس سے چیف جسٹس انہتائی متاثر ہوئے اور قائل ہوئے بغیر نہ رہ سکے ۔ مولانا شہیدؒ نے مختصر مگر پر کٹھن زندگی میں صدیوں پر محیط کارنامے سرانجام دیئے آپؒ افضل الجہاد کلمۃ الحق عند سلطان الجابر کے حقیقی مصداق تھے ۔ کون جانتا تھا کہ مسجد کے ممبرو محراب پر قال اللہ و قال الرسول کو بلاخوف و خطربیان کرنے والی شخصیت اسمبلی کے فورم پر اسی طرح حق و صداقت کا پرچار کرے گی جس سے اسمبلی کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہوجائے گا مولاناشہید ؒ نے قومی اسمبلی میں حق و صداقت کا علم بلند کیا اور اپنی پر جوش مفصل اور مدلل بحوالہ بادلیل تقریروں سے اسمبلی میں تہلکہ مچا دیا اور ایک مرتبہ ایک رکنِ قومی اسمبلی کہنے لگا جناب والا کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ مسجد کے ممبر پر نہیں بلکہ قومی اسمبلی میں کھڑے ہیں تو آپ نے برجستہ جواب دیا اور فرمانے لگے ہاں ہاں میرے علم میں ہے کہ یہ اسمبلی ہے خانہ خدا نہیں ہے اسی لیے تو بے باکی سے گفتگو کر رہا ہوں ورنہ ممبر رسول ﷺ پر تو ہزار بار سوچنا پڑتا ہے کہ اس ممبر کے تقدس کے منافی کوئی بات زبان سے نہ نکل جائے جو بارگاہ خدا وندی میں گرفت کا باعث بن جائے ۔مولانا شہید ؒ نے قومی اسمبلی میں مسئلہ کشمیر
پر بھر پور آواز اُٹھائی اور کشمیری عوام کے حقوق کی صحیح ترجمانی کی۔ مولانا اکثر تقریروں میں فرمایا کرتے تھے کہ میں صرف اور صرف اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سے علاوہ کسی اورسے ڈرنے کو شرک سمجھتا ہوں۔ آپ جرات و بہادری اور حق کوئی کی داستان کو اپنے خون سے رقم کرگئے ہیں اور وہ ملک کی 22جیلوں میں قیدرہے ۔ ایک موقع پر مولانا شہیدؒ نے فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ اپنے بچوں کیلئے عیش و عشرت کا سامان بنا کر چھوڑ جاؤں اور وہ میرے دنیا سے جانے کے بعد عیش و عشرت کریں اورمجھے قبر میں عذاب ہو پھر مزید فرمایا کہ اگر میری اُولاد دین کی خدمت کرے گی تو اللہ تعالیٰ ان کو بہت نوازے گا اور اگر خدا نخواستہ یہ دین سے منہ موڑے گی تو میں نے ان کے لئے کچھ نہیں چھوڑا یہ بھوک سے مرجائیں تو بھی مجھے ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ مولانا شہیدؒ کی شہادت سے چند روز قبل پیر طریقت ،رہبر شر یعت حضرت مولانا عزیز الرحمان ہزاروی (روالپنڈی ) کو خواب میں ام المومنین ، صدیقہ کائنات حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زیارت کا شرف نصیب ہوا۔ مولانا ہزاروی صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے اماں جی سے پوچھا کہ اماں جی کیسے آنا ہوا۔ تو جواب میں پوری امت مسلمہ کے مومنوں کی ماں فرماتی ہیں کہ ’’بیٹے اعظم طارق کو لینے آئی ہوں ‘‘ مولانا ہزاروی مدظلہ نے اپنا خواب مولانا شہیدؒ کے جنازہ کے موقع پر تقریر کرتے ہوئے بیان کیا ۔ مولانا شہید ؒ 6اکتوبر 2003ء بروز پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے جھنگ سے اسلام آباد سے روانہ ہوتے ہیں لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آج تحفظ ناموسِ رسالتﷺو تحفظ ناموسِ صحابہؓ و اہلبیتؓ کیلئے اپنی زندگی وقف کرنیوالی عظیم شخصیت کو ہم سے چھین لیا جائے گا اور سنی قوم ایک مرتبہ پھر یتیم ہو جائیگی ۔ مولانا محمد اعظم طارق شہید ؒ اپنے تین باڈی گارڈوں قاری ضیاء الرحمان شہید ؒ محمد اسرار عرف عثمان شہید ؒ محمد ممتاز فوجی شہیدؒ اور گاڑی ڈرائیور اصغر علی شہیدؒ کے ہمراہ جب سو اچار بجے سہ پہر گولڑہ ٹول پلازہ کے قریب پہنچے تودہشت گردوں نے آپ پر گولیوں کی بارش کرکے اپنی سیاہ تاریخ کو دہرایا ۔
’’انا للہ و انا لیہ راجعون‘‘
اسلام آباد کی سرزمین مولانا محمد اعظم طارق شہید ؒ و دیگر شہدائے ناموس صحابہؓ کے خون سے رنگین ہو گئی ۔ سات اکتوبر 2003صبح آٹھ بجے شہداء کے جسد خاکی پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے لائے گئے جہاں لاکھوں کا مجمع شدت غم سے نڈھال نظر آرہا تھا ہر آنکھ اشکبار تھی پیر طریقت حضرت مولانا عزیز الرحمان ہزاروی مدظلہ نے نماز جنازہ پڑھائی اس کے بعد شہداء کے جسد خاکی کو بذریعہ ہیلی کاپٹر جھنگ روانہ کر دیا گیا ہیلی کاپٹر تقریباً صبح 10بجے شہداء کے جسد خاکی لیکر مائی ہیر سٹیڈیم جھنگ میں اترا جہاں ملک بھر سے مولانا شہید ؒ کے دیوانے بلا شبہ لاکھوں کی تعداد میں جمع تھے جو اپنے شہید قائدؒ کے آخری دیدار کیلئے بے قرار تھے ۔ مولانا شہید ؒ کی شہادت پر یوں محسوس ہورہا تھا جیسے انسانوں کے علاوہ حیوان بھی شہدا ء کی مظلومانہ شہادت پر آہ وزاری کررہے ہیں انسانوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کے آنسوؤں کا سیلاب رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا عجیب منظر تھا بازار بند سڑکیں سنسان آہ بکا کا عالم جلاؤ گھر اؤ کا منظر اور بے قابو ہجوم تھا ۔ مائی ہیر سٹیڈیم سے آپ ؒ کے جسد خاکی کو ایک بہت بڑے جلوس کی شکل میں جامع مسجد حق نواز جھنگو ی شہیدؒ لایا گیا جہاں دیدار عام کیلئے رکھ دیا گیا ۔
اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے مگر مولانا شہید ؒ کا بڑا صاحبزادہ حافظ محمد معاویہ ا عظم صبرو استقامت کی تصویر بن کر دوسرے لوگوں کو صبر کی تلقین کرتا رہا پھر نماز ظہر کے بعد آپکے جسد خاکی کو مسجد حق نواز شہید ؒ سے گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول جھنگ صدر کے وسیع و عریض میدان میں لایاگیا ۔ تاحد نگاہ انسان ہی انسان نظر آرہے تھے مولانا کے پرستار دیواروں ، چھتوں اور درختوں پر چڑھے ہوئے تھا دل ہلا دینے والا سماں تھا ہر چہرہ مرجھایا اور غم میں ڈوبا ہوا تھا تین بج کر پنتالیس منٹ پر شہیدِ ملت اِسلامیہ حجۃ السلام حضرت علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ نے نماز جنازہ پڑھائی پھر آپکے جسد خاکی کو جامعہ محمودیہ لے جایا گیا جہاں آپ ؒ کو لاکھوں دیوانوں ، پروانوں کی موجودگی میں سپرد خاک کردیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں