210

فری لنچ…..تحریر……شفیق ملک

shafiqmalikckl@yahoo,com
مشہور امریکی معقولہ ہے There’s no such thing as a free lunch مطلب دنیا میں کہیں بھی فری میں کچھ نہیں ملتاسوائے بھیک کے اور ذرا سی انا اور غیرت والے لوگ مر تو سکتے ہیں مگر بھیک نہیں لیتے،سو سعودیہ سے ملنے والی امداد کو بھیک نہ سمجھا جائے یہ قرض ہے ادھار ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ پاکستانی قوم نے حکمرانوں کے ذریعے واپس کرنی ہے ،مفت میں باپ بیٹے پر انویسٹ نہیں کرتا تعلیم و تربیت کے پیچھے جہاں ایک طرف اپنی اولاد کا مستقبل سنور جانے کی امید ہوتی ہے

وہیں دور کہیں پس منظر میں اپنے بڑھاپے کے دن نظر آ رہے ہوتے ہیں اور جوان بیٹا ان مشکل دنوں کا سہار ا ہوتا ہے سو اس سہارے کو مظبوط کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش اور کاوش کی جاتی ہے اور بعض دفعہ تو جائز و ناجائز ہر قسم کے ذرائع بھی استعمال کر لیے جاتے ہیں ،اسی طرح اگر روز مرہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو کوئی دوست کوئی عزیز اور کوئی رشتہ دار اگر کسی کی مدد کرتا ہے تو ساتھ مشہور الکلام فقرہ بھی بولتا ہے کیا پتہ کل ایسا وقت ہمارے اوپر ہی آ جائے راہ چلتے اگر کہیں کوئی ایکسیڈنٹ اور زخمی نظر آ جائیں کسی کی گاڑی سڑک کنارے خراب کھڑی نظر آ جائے تو درد دل رکھنے والے مدد کرتے ہیں اور جب کسی کو بتاتے ہیں تو ساتھ یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کیا پتہ کل ہمارے ساتھ ایسا ہو جائے،آپ درباروں اور مزاروں پہ لگائے لنگرز دیکھ لیں وہاں پر بظاہر کھانا فری دیا جا رہا ہوتا ہے لیکن پس پردہ وہی ارادہ نظر آئے گا کہ ان غریب لوگوں کو کھاتے دیکھ کر ہی صاحب ثروت اپنی جیبیں ڈھیلی کریں گے،خیراتی ہسپتال اور ادارے اسی نظریے اور سوچ پر کام کر رہے ہیں ،اور یہ سوچ یہ نظریہ کوئی بری بات نہیں کیوں کہ اس سے پیسہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ اور اس جیب سے اس جیب میں جاتا ہے جس سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور ان کی زندگی کا پہیہ رواں رہتا ہے، سیاستدانوں اور دوسرے بڑے لوگوں کی طرف سے انتطامیہ میڈیا اور عام افراد پر اگر کسی بھی قسم کی توجہ عنایت یا امداد کی جاتی ہے تو اس کے پیچھے بھی جائز ناجائز کام کروانا اپنی تشہیر اور ووٹوں کا حصول ہوتا ہے، لین دین کوئی بری بات ہے اور نہ معیوب اگراس کی شرائط برابری کی سطح پر ہوں ،دنیا کا سارا نطام آج اسی طرح چل رہا ہے کوئی قرض دے رہا ہے کوئی لے رہا ہے لینے والا کسی سے لیکر کسی کو دے رہا ہے اور دینے والا کسی سے لے کر دوسری طرف کسی کو دے رہا ہے،مگر دنیا میں آگے وہی بڑھ رہے ہیں جو اس قرض کی لعنت سے چھٹکارا پا کر اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے ،آج کی دنیا میں اپنے پیروں پہ کھڑے ہونے کا سب سے آسان نسخہ جو معاشیات کے ماہر بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ جو ملک اور وقومیں اپنی برآمدات بڑھاتی ہیں اور ساتھ درآمدات کم کر لیتی ہیں وہ بہت جلد دنوں مہینوں میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاتی ہیں جبکہ دوسری طرف جو اپنی درآمدات بڑھاتی ہیں اور پنسل اسٹیپلز اور ٹوتھ برش تک باہر سے منگواتی ہیں اور برآمدات کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا ،وہ اسی طرح خجل خوار ہوتے ہیں جیسے ہم ہو رہے ہیں کبھی ایک ملک تو کبھی دوسرے ملک،مہاجن جب قرض دیتے تھے تو لوگوں کی قیمتی چیزیں گروی رکھ لیتے تھے آج کے جدید مہاجنوں کی ذہنی کیفیت ان قدیم سود خوروں سے مختلف نہیں بس انداز ذرا بدل گئے ہیں ،اگلے روز اپنے نئے پاکستان کے نئے وزیر اعظم صاحب جو ہر دو دن بعد اپنی پالیسی اور پالیسی بیان بدلتے ہیں اچانک ایک دن سعودیہ سدھار گئے پتہ چلا کہ معیشت کے لیے اس بار آئی ایم ایف کی بجائے برادر اسلامی ملکوں کے ساتھ دوست ممالک کو تکلیف دی جائے گی،پہلی بات تو یہ ہی حیران کن ہے کہ کوئی پورا ملک کسی کا دوست ہو جائے، ملکوں کی یاری دوستیاں محض اپنے اپنے مفادات کے علاوہ کچھ بھی نہیں ،آج کی جدید دنیا میں ہر ملک خواہ وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی سب سے مقدم اپنے مفادات کو رکھتا ہے یہ ہم ہیں جو کبھی پوری اسلامی دنیا کے ٹھیکیدار بن جاتے ہیں اور کبھی پرائی جنگوں میں کود پڑتے ہیں ،ہمارے ملک میں عموماً دو ملکوں سے بہت ذیادہ جذباتی قسم کا لگاؤ پایاجاتا ہے ان میں ایک ایران ہے اور دوسرا سعودی عریبیہ اور مزے کی بات یہ ہے کہ جس حد تک ہماری قوم ان دو ممالک کے لیے جذبات کی شدت کا مظاہرہ کرتی ہے ہمارے لیے ان دونوں ممالک میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں پایا جاتا ،حال ہی میں اپنے خان صاحب کو ملنے والے قرض پر بہت سے دوست بغلیں بجا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کے مجاہدین تو باقاعدہ جشن منا کر قوم کو قرض کے فضائل سمجھا نے کے علاوہ سعودیہ پر واری صدقے ہونے کے ساتھ قربان قربان ہوئے جا رہے ہیں مگر اگر تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو اس سعودی عنایت کی دو بڑی وجوہات سامنے آ رہی ہیں ایک یمن کی جنگ اور دوسرا ترقی میں سعودی سفارت خانے اندر عالمی شہرت یافتہ صحافی جمال خشوگی کا بہیمانہ قتل،یہ دونوں اقدامات سعودیہ کو بہت تیزی سے گرم پانیوں میں لے جاتے نظر آ رہے ہیں یہی وجہ تھی کہ سعودیہ میں منعقدہ عالمی کانفرنس میں دنیا کے اکثر بڑے سرمایہ داروں اور کمپنیوں نے شرکت سے معذرت کر لی ،عالمی تنہائی دور کرنے کا اس سے اچھا موقع اور سعودیہ کو نہیں مل سکتا تھا کہ ایک طرف جو لوگ کشکول ہاتھ بلکہ سروں پر دھرے کھڑے ہوں ان کے کاسوں میں کچھ نہ کچھ ڈال کر حاتم طائی کی قبر پر نہ صرف لات رسید کر دی جائے بلکہ دنیا کو کسی حد تک پیغام بھی دے دیا جائے کہ ایک نظریاتی بنیاد پر قائم ہونے والا اور بہترین فوج رکھنے والا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہے جو کسی بھی مشکل وقت میں انہیں تنہا نہیں چھوڑتا،اس سے قبل کویت عراق جنگ میں پاکستان نے اپنے فوجی دستے سعودی عرب بھجوائے تھے ،ابھی نواز شریف سے سعودیہ کی ایک بڑی ناراضگی کی وجہ یمن جنگ میں ساتھ نہ دینا اور غیر جانبدار رہنا بھی ہے،حالیہ قرضے کے بعد گذشتہ روز جہاں اپنے خان صاحب نے ایک طرف کسی کو نہیں چھوڑوں گا کی گردان جاری رکھی وہیں قوم کو قرض ملنے کی بڑی :خوشخبری: بھی دی ساتھ ہی لوگوں کے ذہنوں میں اٹھتے سوالات کو بھانپتے ہوئے یہ بھی بتا دیا کہ اس کے بدلے سعودیہ ہم سے کیا چاہے گا وہ یہ کہ ہم یمن جنگ میں ثالث کا کردار ادا کریں گے ،ایک اوسط سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص بھی اتنی سی بات سمجھ سکتا ہے کہ کسی بھی جگہ اور کسی بھی معاملے میں ثالثی تب ہی ممکن ہے جب لڑنے جھگڑنے یا الجھنے والے دونوں یا تمام فریق متفق ہوں ایسے کسی بھی معاملے میں کیسے ثالث بنا جا سکتاہے جہاں ایک طرف والوں کی بلائیں لی جا رہی ہوں جبکہ دوسرے کے گھر کا راستہ تک نہ پتہ ہو اس پہ یہ امید ہو کہ ہماری ثالثی اسے مطمئن کر سکے گی دیوانے کی بڑ کے سوا کچھ نہیں ،یمن جنگ بہت ہی حساس مسئلہ ہے جس میں سعودیہ اور ایرن براہ راست ملوث ہیں اور ہماری ذراسی جذباتیت اور کسی ایک فریق کی بے جا حمایت ہمارے اپنے گھر کے لیے نہ ختم ہونے والے مسائل کھڑے کر سکتی ہے،سعودیہ سے قرض لیا گیا تو انہیں بتایا جانا چاہیے کہ یہ قرض ہے ادھار ہے اور ہم اسے واپس کریں گے مگر اس قرض کی وجہ سے ہم کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں گے نہ ہی یک طرفہ طور پر کسی فریق کی حمایت کریں گے افغان جہاد اور حالیہ طالبان امریکہ جنگ ہی ہماری نسلوں تک پہ کافی ہے،اس کے علاوہ اپنے وسائل اور برآمدات بڑھانے پر غور کیا جانا چاہیے،اس کے علاوہ جو چیز دنیا کے بڑے سرمایہ داروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ ملک کا سیاسی طور پر مظبوط ہونا ہے اس وقت کوئی پاگل بھی اس طرف کا رخ نہیں کرے گا کیوں کہ جو حالات دانستہ یا نا دانستہ نئی حکومت نے پیدا کر دیے ہیں وہ بہت تیزی سے ایک بڑے سیاسی بحران کی طرف جا رہے ہیں ،حکومت اپنی بے وقوفیوں سے تتر بتر ہوئی اپوزیشن کو خود بخود ایک پیج پر آنے کا موقع فراہم کرتی جا رہی ہے،دھرنے ایجی ٹیشن اور احتجاج سے ملک اور معیشت کمزور ہوتی ہے ،آپ بے شک بے رحم اور بے لاگ احتساب کریں مجرموں کو کٹہرے میں لائیں اور اس کے لیے اپنے آس پاس اور دائیں بائیں بیٹھے افراد پر بھی نظر دوڑائیں احتساب تب ہی غیر جانبدار ی سے ہو سکے گا جب سب سے ایک جیسا سلوک ہو گا سعد رفیق اور جہانگیر ترین ،شہباز شریف اور ڈاکٹر بابر اعوا ن جب ایک ہی بکتر بند گاڑی سے اتریں گے تو احتساب کو انتقام کی بجائے احتساب مانا جائے گا،صرف بے جا و بے سروپا الزامات لگانے کی بجائے عدالتوں کے سامنے کرپشن اور اقرباپروری کے ٹھوس ثبوت رکھے جائیں تب بات بنے گی،سڑک کے دوری طرف کھڑے ہو کر ہا ہا کار مچانے سے کچھ ہاتھ نہیں آنے والا کیوں کہ اب آپ اپوزیشن میں نہیں حکومت میں ہیں ،تنقید برداشت کریں اور جواب اپنے عملی اقدامات سے دیں غریب لوگوں کی زندگی میں آسانی پید ا کرنے کی بجائے پہلے سے دیے گئے ریلیف مت ختم کریں روزگار دینے کی بجائے لوگوں کو بے روز گا ر نہ کریں ،لوگ مطمئن ہوئے تو اپوزیشن کا کوئی حربہ انہیں سڑکوں پر نہیں لا سکے گا ورنہ اگر ایک بار لوگ نکل آئیں تو خالی ہاتھ واپس نہیں جاتے ،کنٹینر اور دھرنے کا رواج تو آپ نے خود ڈالا تھا،قوم کو اپنے پیروں پر کھرا کرنے کی سعی کریں کیوں کہ آپ اس قوم کی آخری امید ہیں جسے آپ سے بے پناہ توقعات ہیں آپ نے اپوزیشن میں رہ کر انہیں جو خواب دکھائے تھے اب ان کی تعبیر کا وقت ہے ،کوشش کریں کہ قرضے کے لیے کسی کے در پر نہ جانا پڑے کیوں کہ There’s no such thing as a free lunchجی ہاں فری لنچ نام کی اب اس دنیا میں کوئی چیز نہیں پائی جاتی،،اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو،،،،،،،،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں