257

میں اپنی مریم جلاتا ہوں ،تم اپنی زینب جلادو!

محبوب حسین جراح
03335925253

کہاجاتاہے کہ ظلم کامعاشرہ قائم رہ سکتاہے پرناانصافی پرکوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔انصاف کسی ایک گروہ،ملک یاکسی ایک قوم کی ضرورت یاخواہش نہیں بلکہ کائنات کے تمام ملکوں،معاشروں،تہذیبوں،مذہبوں،فرقوں،قبلیوں کی بنیادی اورفطری ضرورت ہے۔عدل وانصاف صحت مند انسانی معاشرے کیلئے آکسیجن جیسی اہمیت رکھتے ہیں۔دنیابھر میں خاص طورپرجمہوری ریاستوں میں عوام الناس کی جان ومال،عزت وآبروکاتحفظ اورانصاف فراہم کرنا حکمرانوں کی اولین ذمہ داریاں ہیں۔ملک پاکستان میں انصاف کے حصول کے لئے بندے کی عمر گذر جاتی ہے لیکن انصاف ہے کہ ندارد ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں اشرافیہ شتر بے مہار ہو چکی ہے طاقت اور پیسے کے بل بوتے پر انصاف کی دھجیاں بکھیری جاتی ہیں کہتے ہیں کہ کسی علاقے کا ایک بادشاہ اپنی ریاست میں امن و امان کی صورتحا ل سے بہت پریشان تھا ہر طرح کے طریقے آزمانے کے باوجود علاقے میں امن ومان بہتر نہ ہو سکا ایک دفعہ وہ کسی دوسرے علاقے کے دورے پر جا رہاتھا کہ اسے وہاں بہت سارے گدھے ایک سیدھی لائین میں چلتے دیکھااسے بڑا تعجب ہوا اس نے گدھوں کے مالک کو بلایا اور پوچھا یہ گدھے ایک قطارمیں کیسے چلتے ہیں؟ گدھوں کے مالک نے جواب دیاکہ جب کوئی گدھاقطار سے نکل کراپنی من مانی کرے اور خلاف ورزی کرے اسے سزا دی جاتی ہے۔بادشاہ کمہارکی بات سن کربہت متاثرہوااور سوچنے لگ گیا کہ جو شخص ان گدھوں کو سیدھا کر سکتا ہے یقیناً میرے ملک کے شتر بے مہار جرائم کے خاتمے وملکی امن و امان کی بحالی کیلئے بھی یہ کوئی کارنامہ انجام دے سکے گا اس پر اس نے اس شخص کو اپنے ملک کا وزیر بنانے کی آفر کی ۔وہ غریب شخص بڑا حیران اس آفر کو سن کر بڑا حیران کبھی اپنے گدھوں کو دیکھتا اور کبھی بادشاہ کی جانب ۔بادشاہ کی پریشانی دیکھ کر اس نے حامی بھر لی لیکن اپنی شرط پر کہ میرے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں کیا جائے گا اور کام کرنے کی آزادی ہو گی ۔بادشاہ نے اس کی یہ شرط مان لی اس طرح وہ غریب شخص بادشاہ کے ساتھ اس کے ملک آگیا اور وزیر خاص بن گیا اس کے سامنے پہلا مقدمہ ایک چوری کا پیش کیاگیا ۔وزیر خاص نے پوری تحقیق کرکے اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ سنا دیا یہ فیصلہ سنتے ہی بادشاہ کا وزیر اعظم اس کے پاس گیا اور اس کے کان میں کہا کہ یہ بادشاہ کا خاص بندہ ہے اس کی سزا معاف کرو ۔وزیر خاص نے سنی آن سنی کرتے ہوئے جلاد کو اس کا ہاتھ کاٹے کا حکم دیا اس پر پھر وزیر اعظم نے اسکے کان میں کہا اس پر وزیر خاص نے حکم دیا کہ مجرم کا ہاتھ کاٹا جائے اور اس وزیر اعظم کی زبان بھی کاٹ دو۔اعلان پر بادشاہ سمیت سب حیران ہو گئے بادشاہ نے اس سے ککہا فیصلے پر نظر ثانی کرنے کو کہا تو وزیر خاص نے اپنی شرط بتا ئی جس پر بادشاہ نے مجبور ہو کر اس کے حکم پر عمل کروایا ۔اس کے بعد وہ بادشاہ سے مخاطب ہوا کہ اے بادشاہ تمہارے ملک میں امن و امان کی جو بگڑی ہوئی صورتحال ہے اس کے آپ سمیت تمام آ پ کے مشیر ذمہ دار ہیں کیونکہ آپ اپنے چہیتے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے بجائے اس کے محافظ بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد آپ پر کھو گیا یہی وجہ ہے کہ آپ کے ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ۔ قارئین محترم لکھنے کو تو یہ ایک کہانی تھی لیکن دیکھا جائے تو حقیقت میں اس ملک میں ایسا ہی نظام چل رہا ہے ظالموں کو کھلی چھٹی جب کہ مظلوموں کے خلاف قانونی کاروائی جو بچارے اپنے انصاف کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں آج ہمارے چیف جسٹس صاحب بھی بابا رحمتے کی کہانی سنا کر انصاف کے جنازہ نکلنے کی داستانیں سنا رہے ہیں اگر ملک میں چورکے ہاتھ کاٹنے کے ساتھ اس کے سرپرست یاسفارشی کی زبان کاٹ دی جاے تو ریاست جرائم سے پاک ہوسکتی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بادشاہ سلامت سو،پچاس گاڑیوں کے قافلے میں مکمل پروٹوکول کے ساتھ سڑکیں بند کرکے سفرپرنکلتے ہیں۔کاش کبھی ہمارے بادشاہ سلامت بھی کہانی والے بادشاہ کی طرح عام لوگوں کودیکھیں اورکہیں سے کوئی بااصول وزیر خاص ڈھونڈ نکالیں۔انصاف کے متلاشی عوام خاص طورپربیٹیوں کے والدین یہ سوچنے پرمجبورہیں کہ آخرزمانہ جاہلیت میں عرب اپنی بیٹیوں کوکیوں زندہ دفن کردیاکرتے تھے؟جب بیٹیوں کی عزتیں اورزندگیاں غیرمحفوظ ہوں۔انصاف مانگنے والوں پرگولیاں برسائی جائیں تب کمزورمحکوموں کے پاس شائد یہی حل باقی رہ جاتاہے کہ ذلت ورسوائی سے قبل ہی اپنی بچیوں کوزندہ دفن کردیں۔وہ زمانہ جاہلیت تھایہ دورجدیدہے۔تب رسول اللہ ﷺ کا بیٹیوں پرشفقت فرماناباقی تھااب آپ سرکارﷺ بیٹیوں کے سروں پردست شفقت فرماچکے ہیں۔زمانہ جاہلیت میں عرب غیرمسلم اورعدل وانصاف کے تقاضوں سے بے خبرتھے آج اسلامی جمہوریہ پاکستان اسلامی ملک ہے اوریہاں آئین اورآئین کی پاسداری کیلئے حکومتی ادارے موجودہیں پھرکیوں انصاف مانگنے والوں پر محافظ ادارے گولیاں چلارہے ہیں؟انصاف ناصرف مسلم بلکہ غیرمسلم معاشرے کیلئے بھی انتہائی ضروری ہے۔مسلمان خوش قسمت اُمت ہیں جن کے پاس عدل وانصاف فراہم کرنے والاقابل عمل اورآسان ترین ضابطہ حیات موجودہے۔مسلم ریاست اورخودکومسلم بیان کرنے والے حکمرانوں کی موجودگی میں ہماری بیٹیوں کوبے توقیرکیاجاتاہے،ننھی کلیوں کوبے دردی کے ساتھ مسل دیاجاتاہے اوراس پرظلم کی انتہاء دیکھوانصاف مانگنے والوں پرگولیاں چلادی جاتی ہیں۔ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ ہم ہرسانحہ پرکچھ عرصہ ماتم کرنے کے بعد کسی دوسرے سانحہ کی آمد پرپہلے کوبھول جاتے ہیں۔ننھی زینب بیٹی پرظلم ستم کی انتہاء اورپھردوشہریوں کاپولیس کے ہاتھوں قتل ایسادردناک سانحہ ہے جس کے بعد تادم تحریردل خون کی آنسورورہاہے۔موجودہ نظام سے انصاف ملنے کی کوئی اُمید نظر نہیں آتی،ان حالات میں جناب ’منصور مانی‘صاحب نے جن الفاظ میں عوامی جذبات کی ترجمانی کی ہے ان میں دکھ،درد،تکلیف کے ساتھ حصول انصاف کیلئے عملی جدوجہدکیلئے قومی ضمیرکوجھنجھوڑکے رکھ دیاہے
آؤ بیٹیاں جلا دیں!
کہ شاید پھر انصاف ہو جائے!
میں اپنی مریم جلاتا ہوں
تم اپنی ماریہ جلا ڈالو!
بدن کو خاک کر ڈالو!
ناموس بچانی ہے
یا انصاف چاہتے ہو؟
لختِ جگر کو بھول نہیں سکتے
تو
بلکتی ممتا پر ترس نہ کھاو!
اگر انصاف چاہتے ہو!
تو گھر کے آنگن میں نہیں!
شہر کے بیچ
چوراہئے پر!
بیٹیاں جلا ڈالو!
کہ یہ انصاف کی راہ میں حائل
چند بھیڑیوں کی نظر میں ہیں!
یہ بھیڑیئے جو قابض ہیں!
ہماری قسمت پہ
یہ بھیڑیئے جوجھکا دیتے ہیں
عدل کے ترازو کو!
یہ بھیڑیئے جلا ڈالو!
یہ ترازو پھونک ڈالو!
ورنہ
میں اپنی مریم جلاتا ہوں
تم اپنی ماریہ جلا ڈالو
کہ شاید پھر انصاف ہو جائے
منصور مانی
اس سے زیادہ خطرناک حالات اورکیاہوسکتے ہیں کہ منتخب نمائندے اورمحافظ محکمہ پولیس عوام کااعتمادکھوچکے ہیں۔عوام کی جان ومال،عزت وآبروکی حفاظت اورفراہمی انصاف حاکم وقت کی اولین ذمہ داریاں ہیں۔میرے وطن کے حاکموعوام نے آپ کواپنے ووٹ سے جس اعتمادکے ساتھ منتخب کیاتھااُس اعتمادکومت توڑو ۔آ ج وقت آگیا ہے کہ زینب جیسے واقعات کے سدباب کے لئے ایسے اقدامات کئے جائیں کہ مزید ہماری پیاریاں بیٹیوں کی عزیتیں اور جانیں بچ سکیں ۔
اللہ پاک ہم پر رحم فرمائے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں