453

تلہ گنگ قرانذازی کی سکیموں سے عوام نا واقف،مقامی انتظامیہ کی چھتر چھایہ میں سود کا کاروبار عام

تلہ گنگ قرانذازی کی سکیموں سے عوام نا واقف،قراندازی کے نام پر لاکھوں روپے سود کی مد میں بچائے جاتے ہیں ،نہ کوئی دفتر ،نہ کوئی شوروم اس ہوائی کاروبار سے قومی خزانے کو لاکھوں کا ٹیکہ۔

تفصیلات کے مطابق تلہ گنگ ،ٹمن ،لاوہ اور ان کے گردونواح کے دیہاتوں میںموٹرسائیکلوں کی قراندازی کے نام پرعوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے،یہ ہوائی کاروبار کرنے والواں کا نہ کوئی دفتر نہ کوئی شوروم اور نہ ہی NTNنمبرہوتا ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ لاکھوں کا ٹیکہ لگتا ہے ۔ اگرموٹر سائیکلوں کی قراندازی سکیموں میں ممبران کی تعداد 100ہو تو ہر ممبر سے ماہانہ000 2روپے ماہوار قسط وصول کی جائیں،اور یہ سکیم 30قراندایوں پر مشتمل ہو اور باقی70افراد کو 30قراندازیاںمکمل ہونے کے بعد موٹر سائیکل دئیے جائیں اور سب کو چائنہ موٹر سائیکل CD70 جس کی قیمت تقریبا40000کے لگ بھگ ہو تو اس ہوائی کاروبار کی تفصیل درج ذیل ہے ۔ پہلے ماہ 100ممبران کی قسطوں سے جمع ہونے والی رقم(100*2000) 200000 روپے بنتی ہے اور اس میں سے پہلے کامیاب ہونے والے ممبر کے موٹر سائیکل کی قیمت 40000روپے نکال دئیے جائیں تو 100ممبران کی قسطوں سے حاصل ہونے والی رقم 160000مالک کے پاس بچ جائے گی،اس کے بعد اگلے ماہ دولاکھ روپے سے ایک ممبر کی قسط کی قیمت 2000روپے نکال دئیے جائیں .تو99ممبران سے حاصل ہونے والی رقم (99*2000) 198000روپے بنے گی جس سے موٹر سائیکل کی قیمت چالیس ہزار نکال دیں تو بچ جانے والی رقم 158000روپے بنے گی ۔اور اسی ا گلے ما ہ98ممبران سے حاصل ہونے والی رقم (98*2000)196000روپے بنے گی اور اس سے موٹر سائیکل کی قیمت کو نکال دیں تو 156000روپے مالکان کے پاس تیسرے ماہ میں بچ جائیں گے۔اسی طرح30قراندازیوں میں کامیاب ہونے والے 30افراد کوموٹر سائیکل دیئے جانے کے بعد مالکان کے پاس قسطوں کی مد میں جمع ہونے والی رقم تقریبا 3930000ہو گی اور بچ جانے والے 70ممبران کوموٹر سائیکل دئیے جائیں تو ان کی قیمت(70*40000)2800000روپے بنے گی ۔اگر ان 70موٹر سائیکلوں کی قیمت 30قراندازیوں کے بعد 100ممبران کی قسطوں سے حاصل ہونے والی بچت سے نکال دیں تو (3930000-2800000)1130000روپے کی صافی بچت ہوتی ہے اور اگر کسی ایک ڈیلر سے 100موٹرسائیکل خریدتے ہیں تو 2500روپے تک فی موٹرسائیکل سستا ملے گا جس سے موٹرسائیکلوں میںبچت 250000روپے بنتی ہے۔قسطوں میں اور موٹر سائیکلوں کی خریداری کی مد میں ہونے والی بچت کو اکٹھا کیا جائے تو تقریبا1380000کی بچت 30ماہ میں ہو گی۔بظاہر عام سا نظر آنے والا کاروبار لاکھوں روپے بٹورنے والا واحد کاروبار ہے ،جس میں اپنی طرف سے ایک پیسہ نہیں لگایا جاتا اور نہ ہی اس کاکوئی گوشوارہ اور نہ ہی کوئی ٹیکس نہیں ہو تا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں