252

لا قا نونینت کی انتہا؟شہر بھر میں غیر قانونی چنگ چی رکشوں اور گاڑیوں کے سٹینڈ عوام کے لئے عذاب وسیکورٹی رکس بن گئے۔

تلہ گنگ (نمائندہ بے نقاب)لا قا نونینت کی انتہا؟شہر بھر میں غیر قانونی چنگ چی رکشوں اور گاڑیوں کے سٹینڈ عوام کے لئے عذاب وسیکورٹی رکس بن گئے۔انتظامیہ کی عدم دلچپی کی وجہ سے کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔

عوامی و سماجی حلقوں کا اعلی حکام سے نو ٹس لینے کی اپیل۔تفصیلات کے مطابق تلہ گنگ انتظامیہ کی غفلت انتہا تک پہنچ گئی۔جس کی وجہ سے شہر بھر میں جگہ جگہ گاڑیوں اور رکشوں کے غیر قانونی خود ساختہ سٹینڈعوام کے لئے وبال جان بن گئے ہیں۔جس کی وجہ سے شہر میں پیدل چلنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔انتظامیہ کہ غفلت کی وجہ سے رکشوں پر لکھے بے ہودہ شعر اور ان میں لگے گانے خواتین کے اذیت کا باعث بن گئے ہیں۔لیکن انتظامیہ عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے دفتروں میں بیٹھ کر سب اچھا ہے کی رپورٹ پر قائم ہیں۔عوامی وسماجی حلقوں نے اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جا ئے۔عوامی و سماجی حلقوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تلہ گنگ میں قانون نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔انتظامیہ اور کمیٹی گاڑیوں اور رکشوں سے پارکنگ فیس لینے تک محدود ہےْ۔انہیں عوام سے کوئی غرض نہیں۔جا بجا سڑکوں اور گلیو ں کے سامنے بنے غیر قانونی سٹینڈعوام کے لئے اذیت ہیں۔ ان غیر قانونی سٹینڈوں کو کمیٹی کی حمایت حاصل ہے۔مزید کہا کہ رکشوں پر لگے ہیوی ساؤنڈ سسٹم پر لگے بے ہودہ گانے خواتین کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔لیکن انتظامیہ ایکشن لینے کی بجائے خود ان کی محافظ بن چکی ہے۔ اور دفتروں میں بیٹھ کر سب اچھا ہے کی رپورٹ پر بضد ہیں۔جو کہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔عوامی و سماجی حلقوق نے ارعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ ان رکشہ اور گاڑیوں کے غیر قانونی سٹینڈ وں کے خلاف کاروائی عمل میں لائیں۔اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کا کڑا محاسبہ کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں