214

اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و خرد اور خواہشات سے آراستہ کرنے دنیا میں بھیجا ۔ صاحبزادہ پیر رضا ثاقب مصطفائی

تلہ گنگ(نمائندہ بے نقاب) بزم کاروان عشق مصطفے تلہ گنگ کے زیر اہتمام جامعہ صدیقیہ تجویدالقران للبنات میں طلبہ و طالبات کی تعلیم و تربیت کے لیے سٹوڈنٹس سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں جامعہ صدیقیہ تجویدالقران ، جامعہ رحمانیہ نوریہ ، اورینٹ کالج ، کیمبرج کالج،پنجاب کالج ، لیڈز گرامر کالج ، سمیت تحصیل بھر کے طلبہ و طالبات ،صدر بار ایسوسی ایشن تلہ گنگ ملک ریاض موگلہ ایڈووکیٹ ،جنید افضال ایڈووکیٹ ،ملک شوکت ایڈووکیٹ ،ملک محمد حسین ایڈووکیٹ ،شعیب مجھیال ایڈووکیٹ ،چودھری غلام ربانی ،چودھری عامر ،لعدیل جعفری ،محمد وحید ،اکرم نورچکڑالوی ،لیاقت اعوان،عامر نواز

اور راشد عباس اور سرپر ست اعلی بزم کاروان عشق مصطفے حافظ صابر ایوب نقشبندی سمیت بزم کاروان عشق مصطفے اور کاروان عشق مصطفے یوتھ ونگ سمیتشہر بھر سے شخصیات نے بھرپور شرکت کی، تقرب کے مہمان خصوصی عالمی مبلغ اسلام صاحبزادہ پیر رضا ثاقب مصطفائی تھے جنہوں خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال کا فلسفہ خودی اپنے آپ کی پہچان ہے انسان اپنے آپ سے آگاہ ہوکیوں کہ انسان ہی نے اس کائنات کو تسخیر کرناہے، اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و خرد اور خواہشات سے آراستہ کرنے دنیا میں بھیجا ،اگر عقل و خرد سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر لیتا ہے تو فرشتوں سے بھی افضل ہو جاتا ہے ،لیکن اگر اپنی نفسیاتی خواہشات کے راستے پر چلتا ہے تو چوپایوں سے بھی نیچے آجاتا ہے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کو اپنا نائب کہا ہے ،علامہ محمد رضا ثاقب مصطفائی نے کہا کہ ہماری زندگی بے مقصد کاموں میں گزر رہی ہے اور اگر ہم اپنی زندگی سے بیمقصد کام نکال دیں تو یقیناًہماری زندگی پرسکون ہو جائے گی لیکن اس کے لیے ہمیں فضول اور بے مقصد کاموں کو ترک کرنا ہو گا اور کیوں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کسی شخص کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ بے مقصد کام چھوڑ دے مگر بدقستی سے اس دور اور جوانی کی عمر میں آج ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ذریعہ ابلاغ کے جو ذریعہ آچکے ہیں سے ہمارے نوجوان اکثر فضول کاموں میں مصروف رہتے ہیں حالانکہ کہحقیقت یہ ہے کہ جوانی کے سجدے جیسی لذت کسی اور عمر میں نہیں حاصل ہو سکتی اوراسی لیے کہا جاتا ہے کہ جوانی کے سجدے کی لذت حاصل کرنی ہے تو نوجوانی میں حاصل کریں کیوں کہ روز کا ڈوبتا ہوا سورج ہمیں کوئی تو پیغام لازم دیتا ہے وہ یہ کہ ہمیں اپنے وقت کی قدر کرنی چاہے کیوں کہ جو وقت کی قدر نہیں کرتے ان کی مثال حیوانات کی سی ہے جن کو وقت کی کوئی قدر نہیں ہوتی اب ہمارے پاس یہی عمر ہے اللہ کا قرب حاصل کرنے کی سحری کے وقت قرآن کی لذت حاصل کریں جوانی کے سجدے ،آنکھ کی حفاظت کریں کیونکہ ہر گناہ کا راستہ آنکھ سے ہی گزرتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں