225

کوٹقاضی تا نوشہرہ روڈ کے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والے منفی پروپیگنڈے میں کوئی صداقت نہیں،ایم پی اے

لاوہ(نیوز ڈیسک) کوٹقاضی تا نوشہرہ روڈ کے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والے منفی پروپیگنڈے میں کوئی صداقت نہیں، نہ ہی ٹینڈر ہوئے اور نہ ہی سی ایم پنجاب کی طرف سے کوئی اپرول ہم نے پُٹ اپ کی ہے محض تخمینہ لگا کہ گھمبیر ڈیم، گوہل کو کسی طرح مین روڈ سے لنک کیا جائے مگر جب چھتیس کروڑ روپے تخمینہ لگا تو ہم نے اس منصوبے کو کینسل کردیا۔ ایم پی اے ملک شہریار اعوان، تفصیلات کے مطابق ایم پی اے پی پی تیئس ملک شہر یا ر اعوان نے اپنے اور مقامی صحافیوں کے خلاف چلنے والے پروپیگنڈے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے بتایا کہ ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے گھمبیر ڈیم،گوہل کیلئے صرف تخمینہ لگایا تھا جس کا چھتیس کروڑ روپے تخمینہ لگا تو ہم نے مزید کوئی کام کئے بناء اسے کینسل کردیا اگر منصوبہ زیر غور ہوتا تو اہلیان لاوہ کی باہمی مشاورت سے اسے پایہ تکمیل تک پہنچاتے۔کئی ایسے کام ہیں جو اس روڈ سے زیادہ ضروری ہیں تو ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ہم کام کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر بے جا پروپیگنڈے کرنیوالوں کو چاہیے تھا میرے ساتھ بیٹھ کر معاملہ اٹھاتے مگر افسوس کہ ترقیاتی کاموں پر حوصلہ افزائی کی بجائے تنقید برائے تنقید کچھ لوگوں کا شیوہ بن چکا ہے۔لاوہ شہر کی گلیوں کیلئے آٹھ کروڑ روپے کی خطیر رقم سے کام جاری ہے،لاوہ تا چنگا روڈ پی پی کا سب سے پہلا اور بڑا منصوبہ تھا جو مکمل ہو چکا ہے،چنگا اور ڈہوک مانگے والی کے سکول اپگریڈ کرنے کے تمام مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔چکی شیخ جی مڈل سکول بھی اپگریڈ کرکے ہائی کا درجہ مل گیا ہے جس پر کام جلد شروع ہوگا۔چرڑی پل جوکہ پچانوے لاکھ روپے کی لاگت سے زیر تعمیر ہے کسی میں ہمت نہیں ہوئی کہ ان اہم منصوبوں پر پنجاب حکومت اور وفاق کو اپریشیٹ کرتا۔لاوہ شہر تا چکی شیخ روڈ بھی منظور ہو چکا ہے جس پر کام بھی شروع ہو چکا ہے۔تاریخ کی سب سے بڑی گرانٹ جوکہ بجلی کی لاوہ کیلئے منظور ہوئی جس کے تحت لاوہ، چنگا، چکی شیخ جی، دربٹہ ،گوہل سمیت تمام علاقوں میں ساڑھے پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے بجلیاں فراہم کی جارہی ہیں۔گوہل،جھلی اور ڈہوک اصحاب کیلئے روڈ اور بجلی کی ساڑھے تین کروڑ روپے کی گرانٹ منظور ہو چکی ہے۔آرایچ سی لاو ہ کو THQ کا رجہ دینے کیلئے اپروول ہوچکی ہے بہت جلد لاوہ ہسپتال کو اپگریڈ کرکے THQ کا درجہ دیا جائے گا،نادرا آفس لاوہ کیلئے میرے والد ملک مشتاق نے ذاتی طورپر ڈی جی کو لیٹر لکھا جس کے تحت نادرا ٹیم نے وزٹ کرکے لوکیشن کنفرم کی ہے۔یہ تمام کام بطور ایم پی اے کروا رہا ہوں جبکہ ایم این اے صاحب کے بھی کئی اہم منصوبے جاری ہیں سردار ممتازٹمن صاحب نے گرلز ڈگری کالج دیا اور کالج سے اب روڈ بھی انکی گرانٹ سے بن رہا ہے۔ہم لاوہ کی ترقی کے حق میں جبکہ کچھ عناصر منفی پروپیگنڈے پھیلا کر لوگوں کوگمراہ کر رہے ہیں ہمیں تحصیل لاوہ کا سوچنا چاہئے نہ کہ صرف لاوہ شہر کیلئے۔کسی بھی شخص کو میری ذات یا کسی منصوبے پر اعتراض ہو تو میرے پاس آکر بات کرے ۔کوٹقاضی لاوہ سے اتنا دور نہیں ہے۔انہوں نے ملک امتیاز احمد لاوہ کی مثبت صحافت کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آپ جیسے جراتمند صحافی ہی معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں