222

حلقہ این ۔اے 61سے مسلم لیگ (ن) کی بے وفائی ۔ تحریر ۔ڈاکٹر ملِک شاہ نواز اعوان۔


حلقہ NA 61تحصیل تلہ گنگ اور تحصیل لاوہ PP22,PP23پر مشتمل ضلع چکوال کا اِس حوالے سے ایک اہم انتخابی حلقہ ہے جہاں ماضی میں ہر قومی انتخابات کے موقع پر یہاں کی عوام نے مسلم لیگ (ن)کے قومی و صوبائی کے امیدواروں کو ووٹ دیکر اسمبلیوں تک پہنچایا اور اُنکے سروں پر اقتدار کی پَگ رکھی لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ تلہ گنگ/لاوہ کی عوام نے جس قدر ہر موقع پر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وفا کی مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اسی قدر بے وفائی کی انتہاء کر دی انصاف ،وفااور حیا ء کا تقاضا تو یہ تھا کہ اِس حلقہ کیلئے کوئی بڑا پیکج دیا جاتا تاکہ اس پس ماندہ حلقہ کی تقدیر بدل جاتی لیکن ہمیشہ ہوا یہ کہ اقتدار کے نشہ میں مست ہو کر منتخب نمائندوں نے دوبارہ کبھی اس حلقہ کے سادہ لوح عوام کی خبر نہ لی بلکہ دوسرے لفظوں میں اس حلقہ کی وفا شعار عوام کو پُر فریب انتخابی نعروں کے ذریعے اپنے اقتدار کیلئے تو استعمال کیا گیا لیکن بعد میں بے وفائی کی انتہا کر دی گئی مئی 2013 ؁ء کے گزشتہ الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے تلہ گنگ کی دھرتی پر کھڑے ہو کر جلسہِ عام میں تلہ گنگ کی عوام سے تلہ گنگ کو ضلع بنانے کی منظوری کا وعدہ کیا لیکن ابھی تک ضلع کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہو سکا لاوہ تحصیل کے نوٹیفکیشن کو چار سال بیت گئے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ادارہ اپ گریڈ نہیں ہوا اور تحصیل لاوہ سے متعلقہ محکموں کے دفارتر لاوہ میں شفٹ نہیں کئے گئے ہائیر سیکنڈری سکول بوائز /گرلز لاوہ میں ابھی تک 26سبجیکٹ سپیشلسٹ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں رورل ہیلتھ سنٹر کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا درجہ نہیں مِل سکا موجودہ رورل ہیلتھ سنٹر میں اتنی بڑی آبادی کیلئے کوئی طبّی سہولیات نام کی چیز نہیں اسسٹنٹ کمیشنر اور تحصیل دار ہفتہ میں ایک دو دِن کیلئے تشریف لاتے ہیں اتنی بڑی آبادی کیلئے وافر اور صاف پانی کی فراہمی کیلئے پہلے سے موجود واٹر سپلائی سکیم ناکامی کاشکار ہے اگر مقتدر نمائندوں سے بات کی جائے تو جواب ملتا ہے جناب آپ کی تحصیل بن گئی ہے اور کیا چاہتے ہیں؟حالانکہ عوام تو یہ مطالبہ کرتی ہے کہ رائے ونڈ اور بھیرہ جنکا نوٹیفکیشن لاوہ کے بعد ہوا اگر اُنکے متعلقہ تمام دفاتر کا اجراء بلاتاخیر ہوسکتا ہے تو پھر لاوہ تحصیل کا اجراء کیوں نہیں ہو رہا؟انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ تحصیل لاوہ سے متعلقہ تمام محکموں کے دفاتر کو بھی لاوہ میں شفٹ کر دیا جائے گھمبیر ڈیم کا مسئلہ بھی اِس پس ماندہ اور بد نصیب حلقہ سے متعلق ہے جس کا افتتاح کروڑوں روپے کی لاگت سے سابق صدر آصف زرداری نے اپنے ہاتھوں سے کیالیکن ابھی تک تعطل کا شکار ہے سٹی ہسپتال تلہ گنگ جس کی بنیاد سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الہٰی نے رکھی اُسکی حالت زار سب کے سامنے ہے اب عوام منتخب نمائندوں سے پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ آخر آپ کی بھی ذمہ داری ہے صرف ووٹ لیکر اقتدار کے مزے لوٹنا تو کوئی انصاف نہیں عوام نے آپ کے سپرد بہت بڑی امانت کی ہے آپ کو چاہیئے کہ آپ عوام کے حقوق کی صحیح ترجمانی کا حق ادا کریں اقتدار عارضی چیز ہے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈپٹی وزیر اعظم چوہدری پرویز الہٰی نے اس حلقہ میں ہار کر بھی کروڑوں روپے کے بے پناہ کام کروائے اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ غلط نہ ہو گا کہ حلقہ NA 61کی عوام نے کام تو چوہدری پرویز الہٰی سے حافظ عمار یاسر کی وساطت سے کر وائے مگر ووٹ مسلم لیگ (ن) کی جھولی میں ڈالے دراصل (ن) لیگی قیادت نے بھی اندازہ لگا لیا ہے کہ حلقہ NA 61اور PP22,PP23 کے ووٹرز تو ہماری ’’کھاری کے ککڑ ‘‘ہیں کام جس سے مرضی ہے کرواتے رہیں ووٹ ہمیں ہی دیں گے حالانکہ اب ایسی صورتحال نہیں اب کافی تبدیلی نظر آرہی ہے اور حلقہ کی عوام اپنے ساتھ زیادتیوں کا بدلہ ضرور لے گی چوہدری پرویز الہٰی نے لاوہ میں دو یوٹیلٹی سٹور زدیئے ایک نیشنل بنک اور تقریباً دو کروڑ کی بجلی کی گرانٹ ملک قدیر الطاف (چیئرمین بلدیہ لاوہ ) کی وساطت سے دی لیکن لاوہ کی عوام نے 2013 ؁ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیئے اب اس حلقہ کے عوام کے ساتھ مسلسل زیادتیوں اور امتیازی سلوک کی وجہ عوام میں خاصی تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے جس کا عملی ثبوت لاوہ کی عوام 18اپریل 2017 ؁ء کے ضمنی الیکشن میں لاوہ سے ملک شہر یار ایم ۔پی ۔اے کو شکست کی صورت میں دے چکی ہے اب میونسپل کمیٹی لاوہ کو جس طرح سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے چیئرمین بلدیہ لاوہ ملک قدیر الطاف کے خلاف ممبران کو اپنی مُٹھی میں لے کر جس طرح عدم اعتماد کروایا گیا اور میونسپل کمیٹی لاوہ کے ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز رُکوائے گئے اور لاوہ سے سپیشل ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ اور ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ دو اداروں کو شفٹ کیا گیا ان انتقامی کاروائیوں سے لاوہ کی عوا م سیخ پا ہے ۸۱۰۲ ؁ء کے قومی انتخابات کا شدّت سے انتظار کر رہی ہے تاکہ اس کے ساتھ روا سیاسی انتقام کا بدلہ لے سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں