175

اسسٹنٹ کمشنر لاوہ کے حکم پر پبلک ہیلتھ ٹیم نے لاوہ واٹر سپلائی کنزیومرز نے بل وصول کرنا شروع کردیا

لاوہ(نمائندہ بے نقاب) اسسٹنٹ کمشنر لاوہ کے حکم پر پبلک ہیلتھ ٹیم نے لاوہ واٹر سپلائی کنزیومرز نے بل وصول کرنا شروع کردیا ہے، اہلیا ن علاقہ کا اے سی کو زبردست خراج تحسین،

تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر لاوہ میاں محمد نذیر کی تحصیل لاوہ تعیناتی سے ہی لاوہ میں تبدیلی کا آغاز ہوگیا تھا ،آر ایچ سی لاوہ کی پسماندگی پر انہوں نے دن رات ایک کرکے عملہ تعینات کروایا اور لاوہ رورل ہیلتھ سنٹر کو سہولیات و ادویات سے مزین کردیازیر تعمیر تحصیل کمپلیکس میں مسجد کا نقشہ ہی موجود نہیں تھا جس پر اسسٹنٹ کمشنر لاوہ نے محنت اور ذاتی دلچسپی سے مخیر حضرات کے تعاون سے مسجد کا نہ صرف سنگ بنیاد رکھا بلکہ اسے اپنی نگرانی میں مکمل بھی کروایا دیا ہے،علاوہ ازیں گوہل جیسی دور دراز آبادی میں جاکر بی ایچ یو گوہل اور گرلز پرائمری سکول کی پسماندگی کا نوٹس لے کر اہلیان گوہل کے مطالبات کے مطابق ان کی مشکلات کو ختم کیا جبکہ 1980 سے تاحال وہاں کوئی بھی انتظامی آفیسر دورہ پر نہ گیا تھا ۔لاوہ میں سستے تندور کا قیام کروا کر لاوہ کے غریبوں پر دست شفقت رکھا ۔گزشتہ رمضان میں لاوہ میں بہت بڑا رمضان بازار لگوا کر روزہ داروں کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا۔جبکہ ڈومیسائل کیلئے تحصیل بھر کے لوگوں کو تلہ گنگ دھکے کھانا پڑتے تھے اسسٹنٹ کمشنر نے ڈومیسائل پراسیس کو انتہائی شارٹ کرکے لوگوں کو ریلیف دیا۔واٹر سپلائی کے متعلق لوگوں کی ایک درخواست پر سنگین نوٹس لے کر نہ صرف پانی چلوایا بلکہ بل نا دہندگان کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے دوسرے ہی روز پبلک ہیلتھ ٹیم کو واٹر سپلائی کنزیومرز کے دروازوں پر جانے پر مجبور کردیا جہاں واٹر سپلائی کنزیومرز سے بل وصول ہونا شروع ہوگئے، ادھر ملک جانباز نے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ سوشل میڈیا پر اوچھل کود کرنیوالوں کو شرم کرنی چاہئے ان کا ذاتی 61 ہزا ر روپے بل بقایا تھا جو مختلف گمنام فیس بیک آئی ڈی سے انتظامیہ اور صحافیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔جبکہ صحافیوں کے متعلق اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ رعب جھاڑنے کی بجائے پیار محبت سے بات کریں میرے دروازے ہر کسی کیلئے کھلے ہیں اور میں کوئی بھی کام پراسیس کے بغیر نہیں کرسکتا۔میں نے کبھی کسی کو اپنے آفس سے زبردستی نکلنے کو نہیں کہا مزید آپس کی تلخیاں پوری کرنے کیلئے براہ کرم اے سی آفس کو ہرگز استعمال نہ کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں