170

سروے رپورٹ۔۔۔۔تحریر،امیر احسان اللہ

چینجی تا ترحدہ براستہ تھوہا محرم خان ڈھرنال روڈ کی خستہ حالی عوام کے لئے درد سر بن گیا۔ایم پی اے ظہور انور مرحوم کے دور میں جب وہ علالت کی وجہ سے بیرون ملک تھے شہر یار کے توسط سے اس روڈ کی از سر نو تعمیر کے لئے

44کروڑ کی گرانٹ کا اعلان کیا گیا لیکن ایک سال سے سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ کچھ ذرائع نے اس حوالے سے بتایا کہ کہ یہ روڈ سی پیک سے لنک ہورہا ہے اس لئے یہ معاملہ طول پکڑ گیا لیکن سی پیک کا حوالہ طفل تسلیوں کے علاوہ کچھ نہیں۔ بے شمار ایسے منصوبے جو انتہائی توجہ طلب ہیں لیکن از خود عوامی نمائندگان شدید غفلت میں مبتلا ہیں دوسری طرف موجودہ حکومت کو ملکی سطح پر شدید چیلنجز کا سامنا ہے اور وہ اپنے اثاثوں کے دفاع میں نہ صرف خود متحرک ہیں بلکہ وزیروں مشیروں اور ایم این ایز ایم پی ایز کی فوج ظفر موج اپنے ساتھ لگائے نت نئے بہانے تراشنے میں مصروف عمل ہیں۔ ایسے حالات میں انتہائی توجہ طلب مسائل پس پشت ڈال دئے گئے ہیں۔ کسی بھی حکومت کا آخری سال ترقیاتی کاموں کے حوالے سے انتہائی اہم ہوتا ہے لیکن وزیراعظم کی نااہلی کے بعد ترقیاتی منصوبوں کو شدید دھچکا لگا۔ اگرچہ کام ہورہے ہیں جو پچھلے چار سالوں سے لٹکے ہوئے تھے تاہم عوامی مشکلات کا ازالہ اب بھی ناممکن ہے۔ مذکورہ بالا روڈ پر دس کلومیٹر کے سفر پر کم و بیش آدھا گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ روڈ بہت زیادہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے اور جا بہ جا گہرے گڑھے بن چکے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس روڈ پر فوری توجہ نہ دی گئی تو نتائج آمدہ الیکشن میں سامنے آجائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں