199

ملکی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے ،مہنگائی کی چکی میں پسے عوام بدحال ہیں ،روزگار کے مواقع فراہم نہیں کئے جا رہے ۔ملازمتیں بکتی ہیں ۔اشتہارات محض دیکھاوا ہے۔ علامہ ساجد حسین نقوی

تلہ گنگ(نمائندہ بے نقاب) ملکی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے ۔مہنگائی کی چکی میں پسے عوام بدحال ہیں ۔نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل نہیں ہو رہا اس لیے آپریشن ردا الفساد کے اندرونی طور پر فوائد کم اور سرحدی علاقہ میں زیادہ مل رہے ہیں فوجی قیادت پوری طرح ایکشن پلان پر عمل کر رہی ہے لیکن سول حکمران اس کی روح پر عمل نہیں کر رہے

ان خیالات کا اظہار اسلامی تحریک کے سربراہ علامہ ساجد حسین نقوی نے تلہ گنگ میں ڈاکٹر علی حسنین نقوی کی رہائش گاہ پر اُن کے چھوٹے بھائی سید علی رضا ایڈووکیٹ کے انتقال پر اظہار تعزیت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔علامہ ساجد حسین نقوی نے کہا ہمیں بہت سی کمزوریوں اور مشکلات کا سامنا ہے ۔روزگار کے مواقع فراہم نہیں کئے جا رہے ۔ملازمتیں بکتی ہیں ۔اشتہارات محض دیکھاوا ہے ۔امن و امان اور دہشت گردی جوں کی توں ہے ۔ نا انصافیاں بھی زیادہ ہو رہی ہیں ۔بے گناہ لوگوں کو مارا جا رہا ہے ۔اور الزامات بھی بے گناہ لوگوں پر عائد کئے جا رہے ہیں ۔ ڈی آئی خان واقعہ پر ہمیں افسوس ہے ۔واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے لیکن آج تک خیبر پختوانخوا حکومت نے اُن ملزمان پر ہاتھ نہیں ڈالا ۔جس کی وجہ سے رد الفساد پر بھی سوالیہ نشان پیدا ہو گیا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ پانچ بڑی دینی جماعتیں ایم ایم اے میں شامل ہیں جن میں جمعیت الحدیث،جے یو پی ،اسلامی تحریک ،جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی شامل ہے ۔آمدہ انتخابات کے سلسلے میں تیاریاں کر رہے ہیں ۔ایم ایم اے میں اس پر طریقہ کار طے کرنے کیلئے گفتگو کی جا رہی ہے ۔ہم انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے ۔انتخابات میں سیاسی انداز اپنانا چاہئے ۔ایشوز اور مسائل پر بات کرنی چاہئے ۔اپنا منشور عوام کی عدالت میں پیش کرنا چاہئے ۔گالم گلوچ کی سیاست ختم ہونی چاہئے ۔اگر دوسری کی کمزوریوں کو عیاں کرنا ہی ہے تو بھی شائستہ انداز میں بیان کریں ۔خارجہ پالیسی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے علامہ ساجد حسین نقوی نے کہا کہ اپنا بیانیہ دوٹوک اور واضع دینا ہوگا ۔اور یہ بیانیہ ریاست کو خوددینا ہوگا ۔ہمیں اپنی پوزیشن واضع کرنی چاہیئے کہ ہم ایک آزاد اور خود مختار ملک ہیں ۔علامہ سیمع الحق کی شکست پر دکھ ہوا وہ میرے پرانے دوست ہیں اور ہم دونوں نے ملی یک جہتی کونسل کی بنیاد رکھی-علامہ کے مقابلے میں رقم جیتی ہے اور میں جانتا ہوں کہ علامہ سمیع الحق پر بھی کئی لوگ رقم لگا سکتے تھے لیکن انہوں نے ان کو منع گیا ہو گا کیونکہ وہ رقم لگا کر اقتدار میں آنے کو حرام سمجھتے ہیں متحدہ مجلس عمل کو چھوڑنا ان کا زاتی فعل ہے ہمارا آج بھی ان سے احترام کا رشتہ قائم ہے- قبل ازیں علامہ ساجد حسین نقوی نے اپنے قریبی رفیق ڈاکٹر علی حسنین نقوی کے چھوٹے بھائی سید علی رضا نقوی کی اچانک وفات پرلواحقین سے اظہار تعزیت کی ۔اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں