280

ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی نئی حلقہ بندیوں کے بعد پورے ضلع میں سیاسی بھونچال آگیا ہے اور مسلم لیگی پارلیمنٹرین بری طرح سے متاثر

چکوال(نمائندہ بے نقاب ) ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی نئی حلقہ بندیوں کے بعد پورے ضلع میں سیاسی بھونچال آگیا ہے اور مسلم لیگی پارلیمنٹرین بری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔ بڑے متاثرین میں ایم پی اے سردار ذوالفقار علی خان دلہہ ہیں جن کو ان کے گاؤں دلہہ سمیت 18کے قریب دیہات کو چکوال کے

سابقہ حلقہ پی پی20کیساتھ لگا دیا گیا ہے جبکہ سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کا سیاسی ہوم ورک گزشتہ 17سالوں سے پی پی22میں رہا ہے اور یہ سارا کام صفر کر دیاگیا ہے۔ اُدھر صوبائی وزیر ملک تنویر اسلم سیتھی جنہیں شہنشاہ تعمیرات کا لقب دیا گیا ہے اور انہوں نے اپنے پورے حلقے میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا کر اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کر رکھا تھا اب ان کے آبائی گاؤں اور پانچ یونین کونسلوں کو تحصیل تلہ گنگ کے حلقے سے ملا دیا گیا ہے اور اس حوالے سے ان کا سارا ووٹ بینک اور ہوم ورک بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ سردار غلام عباس ضلع چکوال کی سب سے بڑی سیاسی اور انتخابی قوت ہیں ان کا مضبوط حلقہ نیلہ قانونگو چکوال کیساتھ لگا دیا گیا ہے۔ اس نئی صف بندی میں سردار غلام عباس اس وقت دونوں نئے حلقوں این اے 64اور این اے65جس جگہ بھی پارٹی ہائی کمان نے انہیں ایڈجسٹ کیا وہ الیکشن جیتنے کی پوزیشن پر ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کو حلقہ این اے64میں کوئی زیادہ فرق نہیں پڑا البتہ نئے حلقے پی پی23میں ملک اختر شہباز کو تلہ گنگ کیساتھ شامل کر دیاگیا ہے،جس سے وہ تقریباً فارغ ہو گئے ہیں ۔ نئے حلقہ پی پی21میں ایم پی اے سلطان حیدر علی کو اب اپنی ہی جماعت کے ایم پی اے سردار ذوالفقار علی خان دلہہ سے خطرہ لاحق ہوگیا ہے کیونکہ اب دونوں اراکین پنجاب اسمبلی ایک ہی حلقے میں آگئے ہیں۔ لنڈی پٹی کو اس سے پہلے دو حلقوں پی پی20اور پی پی21میں تقسیم کیا گیا تھا اب لنڈی پٹی نئے حلقہ پی پی22میں مکمل طو رپر آگئی ہے جس سے اس حلقے کی اہمیت مزید بڑھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں