284

ہائے رے منافقت؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر سعد اعوان

دندہ شاہ بلاول (03125718780)
کہتے ہیں منافق انسان کسی بھی معاشرے کیلیے ناسور ہوتا ہے چونکہ اسکے ظاہر اور باطن میں فرق ہوتا ہے اور وہ کسی بھی لمحے معاشرے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاسکتا ہے محترم قارئین ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں یہ ایک بے حسوں کا ہجوم ہے جہاں بے ایمانی عام ہے جہاں رشوت اور سفارش کا کلچر اپنی تمام ترگندگی کے ساتھ پنجے جمائے ہوئے ہے جہاں شرافت کا لبادہ اوڑھے بدمعاشوں اور چوروں کا راج ہے جہاں بظاہر شریف النفس

نظر آنے والے صاحب حقیقت میں کیا ہوتے اس کا اندازہ ایک عام شہری نہی کرسکتا ۔۔چلیں میں آپ کو کچھ بتاتا ہوں ،ہوا یوں کہ میرا کچھ ہفتے پہلے چکوال پاسپورٹ آفس جانا ہوا تو وہاں بجلی گئی ہوئی تھی اور جنریٹر بھی کام نہی کر رہا تھا اس دوران رش میں اضافہ ہوتا گیا اور بڑے بوڑھے سب لائن میں لگتے گئے پھر اللہ اللہ کرکے بجلی صاحبہ کی تشریف آوری ہوئی اور رکا ہوا سلسلہ شروع ہوا عوام دو گھنٹے انتظار کرتے کرتے تنگ تھی اور ہر بندہ چاہ رہا تھا جلدی کام ہو اچانک میں نے دیکھا ایک حاجی صاحب تشریف لائے جنہوں نے پاسپورٹ بنوانا تھا اپنی بچی کا تو شاید انکا کوئی جاننے والا تھا جس کو کہ کر وہ لائن میں کھڑے ہونے کی بجائے سیدھا پہلے نمبر پر جا کھڑے ہوئے مجھے بڑا غصہ آیا کہ یہ بچارے لوگ کیڑے مکوڑے ہیں کیا جوکب سے انتظار کر رہے ان میں کافی عمر رسیدہ لوگ تھے بہرحال میں نے اپنا پاسپورٹ تو بنوانا نہی تھا اسلیے ایک طرف کھڑا دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا ابھی کوئی بولے گا کہ یہ نا انصافی ہے وغیرہ لیکن لکیر کی فقیر قوم تھی چپ کرکے کھڑی رہی ایک آدھ منمنایا بھی تو کسی نے اسکا ساتھ نہ دیا اور سفارشی بڑے جوش سے ان حاجی صاحب کو بتا رہا تھا کہ جی میں نے آپ کا کام کتنی جلدی کروادیا ،بظاہر تو یہ معمولی بات نظر آتی ہے اور آپ میں سے اکثر اس کو قابل غور تک نہیں سمجھیں گے لیکن میری بیچاری قوم کے بیچارے لوگو جب تم ایسی چھوٹی باتوں پر بول نہی سکتے تو بڑے بڑے کرپشن کیسز کی تمہیں خاک سمجھ آئے گی ،لیکن اصل بات پتا ہے کیا ہے تم کیوں نہیں بولتے کیونکہ تمہارے اندر بھی ایک منافقت بستی ہے انتہائی معذرت لیکن تلخ باتیں کرنا میرا فرض ہے سچائی کا سامنا سب کو ہونا چاہیے میرے معاشرے کی بے حسی کی سب سے بڑی وجہ منافقت ہے ہرشخص چاہے کتنا اچھا یا برا کیوں نہ ہو وہ دوسرے شخص کیلیے دو رویے رکھتا ہے ایک اس شخص کے منہ کہ لیے اور ایک اس کی پیٹھ پیچھے باتیں بنانے کیلیے ۔ہم روز بروز پستیوں کی طرف جارہے بظاہر ہم ایک پڑھی لکھی انسانیت کا درد رکھنے والی قوم ہیں دنیا میں کہیں بھی ظلم ہو ہم موم بتیاں ، پینا فلیکسز اٹھا کر یوں ظاہر کر رہے ہوتے جیسے ہم سے بڑا کوئی انسانیت کا علمبردار پیدا ہی نہی ہوا اور دوسری طرف ہم اپنے معاشرے میں بسنے والے نچلے طبقوں کو پاؤں کی جوتی سمجھتے۔۔ہمارے قول و فعل میں شدید تضاد پایا جاتا ہے ہمارے معاشرے میں زینب جیسی بیٹیاں روندی جا رہی ہوتی ہیں اور ہم کچھ نہی کر پا رہے ہوتے روزانہ کئی ایسے واقعات ہمارے ملک میں ہوتے جو انسانیت کی تزلیل کے زمرے میں آتے لیکن اس پر ہم صرف فیسبک پر سٹیٹس دے کر مطمئن ہوجاتے
کیا یہ منافقت نہی ہے ؟ ،پاکستانی سب سے زیادہ خیرات دیتے اور سالوں سے دیتے آرہے لیکن کیا وجہ ہے آج تک غربت میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں لاسکے اس بات کا منافقت سے بڑا گہرا تعلق ہے بہرحال اس کا جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں ،ایک اچھے معاشرے کی تشکیل اچھے لوگوں سے ہی ہوتی ہے اور برا معاشرہ ہمیشہ برے لوگوں کی وجہ سے ہی بنتا ہے اب اندازہ لگانا آپ کا کام ہے کہ کیا یہ معاشرہ اچھا معاشرہ کہلانے کا حقدار ہے ؟،اگر نہیں تو اٹھائیے پہلا قدم بنیے بارش کا پہلا قطرہ اور بنا دیجیے اس منافقت سے بھرے معاشرے کو ایک صاف ستھرا اور ایمانداری سے منور معاشرہ ۔۔۔شروع کیجیے آگے اللہ مسبب الاسباب ہے ۔۔
سچائی کا سامنا کریے اور درحقیقت یہی آپ کا کامیابی کی طرف پہلا قدم ہوگا نیت اور کوشش آپ نے کرنی نتیجہ اللہ نے دینا ہے
اللہ میرے ملک کی حفاظت فرمائے اور آپس میں بھائی چارے کی فضا بنادے آمین
اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں