376

تلہ گنگ میانوالی قاتل روڈ،،، محکمہ ہیلتھ کی مجرمانہ غفلت


تحریر:امیر عبداﷲ ملک،مکتوب دربٹہ0302-2209429
قارئین!ایک محتاط اندازے سے معلوم ہوا ہے کہ تلہ گنگ میانوالی روڈ جسے اب قاتل روڈ کہنا چاہئے صرف چھے ماہ میں 130 افراد جان سے گئے اور 1373 افراد جسمانی معذور ہوئے ہیں جبکہ اربوں روپے کی سینکڑوں گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں اور پھر قیمتی جانوں کے ضیاء ،معذوری اور گاڑیوں کے نقصان کے بعد نہ جانے کتنے گھرانے متاثر ہوئے ہیں جسکی تحقیق کے بعد ایک ہولناک تصور ذہن میں آتا ہے۔مثلاً8/10 افراد کاواحد کفیل اگر فوت ہوجاتا ہے معذور ہوجاتا ہے یا اسی گاڑی سے گھر کا چولہہ چلتا ہے اور وہ سلسلہ ختم ہو جاتا ہے تو اہلخانہ پر کیا گزرتی ہوگی اور ایسے کئی گھرانے ہوں تو ایک ہولناک منظر سامنے آتا ہے۔
قارئین!پرانی طرز کا یہ قاتل روڈ جس پر مانسہرہ،ایبٹ آباد،حسن ابدال، راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک،چکوال اور تلہ گنگ سے روزانہ سینکڑوں گاڑیاں میانوالی، لاوہ،ڈیرہ اسماعیل خان،ملتانراجن پور،سکھر،صادق آبادسمیت کراچی تک پہنچتی ہیں اور انتہائی تیز رفتاری سے شہری آبادیوں سے گزرتی ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر کہیں نہ کہیں حادثہ رونما ہوجاتا ہے جس سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں لیکن روزانہ میڈیا پر بھرپور کوریج کے باوجود بھی محکمہ ہائی وے ٹس سے مس نہ ہوا روزانہ حادثات رونما ہونے کے باوجود روایتی الفاظ جے بعد ایک اور حادثہ کا انتظار کیا جاتا ہے دریں حالات میں عوامی غحلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم پاکستان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ بلکسر تا میانوالی روڈ کو ون وے کیا جائے تاکہ برق رفتار ٹریفک کی زد میں آکرروزانہ کی بنیاد پر درجنوں جانیں ضائع ہونے سے بچ جائیں اور یوں حادثات کی بڑھتی شرح پر قابو پایا جاسکے۔
قارئین!گزشتہ روز مجھے انتہائیبااعتماد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ نواحی علاقہ دندہ شاہ بلاول کے ایک سیاسی اور سماجی شخصیت نے سٹی ہسپتال تلہ گنگ کو دو عدد ڈیلاسز مشینیں ڈونیشن کی ہیں تاکہ تلہ گنگ و لاوہ کے غریب عوام مفید ہوسکیں۔جبکہ ان مشینوں کے فنگشنل ہونے کی صورت میں چار مشینیں مزید بھی عطیہ کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ادھر محکمہ ہیلتھ چکوال کی سخت نا اہلی سمجھیں کہ آٹھ ماہ کا طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود ابھی تک دونوں مشنیں فنگشنل نہ ہوسکیں جبکہ اس مخیر شخصیت نے عوامی حکومت کی اس بے حسی پر مایوس ہوکر مزید مشینیں بھی موخر کر دیں۔اس شدید نا اہلی پر تلہ گنگ اور لاوہ کے عوام سرپا احتجاج ہیں معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ ایک مشین کی قیمت تیس لاکھ روپے بنتی ہے جبکہ دو مشینوں کی مجموعی قیمت ساٹھ لاکھ روپے بنتی ہے۔ ایک مخیر شخص جوکہ چار مشینیں مزید عطیہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ادھر گورنمنٹ پنجاب اور محکمہ صحت نے پہلے سے عطیہ کردہ مشینیں بھی فنگنشل نہ کی ہیں۔عوامی حلقوں نے محکمہ ہیلتھ چکوال سے مطالبہ کیا ہے کہ عطیہ کردہ دونوں ڈیلاسز مشینوں کو ہنگامی بنیادوں پر فنگشن کیا جائے تاکہ ان کے ثمرات سے غریب عوام مستفید ہوسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں