409

تلہ گنگ ولاوہ کے مسائل کھوہ کھاتے،چند مقامی ٹاوٹ صحاقتی حلقے خدمت کے جذبات سے عاری سیاستدانوں کی تعریفوں کے پل باندھنے میں مصروف عمل،مقدس پیشہ صحافت سیاست کے دربار میں ہاتھ جوڑنے پر مجبور ۔

تلہ گنگ (اشفاق احمد بڈھیال)تلہ گنگ ولاوہ کے مسائل کھوہ کھاتے،مقامی سیاست دانوں نے اپنے اپنے من پسند صحافیوں سے اپنے غیر ضروی بیانات لگوانا اپنا شیوہ بنا لیا ہے، عوامی مسائل کی نشاندہی کرنے والے اور ان کو حل کرنے والے ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہو چکے ہیں،عوام مسائل کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے،لیکن مقامی نمائندے اپنے تعریفی بیانات لگوا کر اپنے آپ کو بری وذمہ قرار دے رہے ہیں،

ان کے تعریفی بیانا ت کا عوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے،مسائل کے گھن چکروں میں پھنسے عوام جھوٹی تعریفوں کی ہوس کے پجاری سیاستدانوں سے مایوس نظر آرہی ہے،عوامی مسائل کی نشاندہی کرنے والی صحافتی برادری کی کارکردگی پر بھی عوامی تحفظات اٹھنے لگے ہیں۔کئی اخبارات صرف سیاسی تعریفوں کے ضمیمہ کے طور پر چھپنے لگے ہیں۔مقدس پیشہ صحافت کیوں سیاسیوں کے دربار میں ہاتھ جوڑے کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئی ہے،عوامی وسماجی حلقوں کا سوال؟۔خصوصی سروے کے دوران اہلیان تلہ گنگ ولاوہ نے سیاست دانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تحصیل تلہ گنگ ولاوہ لاتعداد مسائل کی اماج گاہ بن چکا ہے۔کرپشن کا بازار گرم ہے۔اداروں میں بیٹھےمسائل سے بے خبر اعلی افسران۔سیوریج،صاف پانی، گندگی کے ڈھیر،ٹوٹے روڈ، گلیوں محلوں میں کھڑا گندا پانی،بیکریوں اور دوکانوں پر ناقص اشیاء کی فراہمی،اندرون شہر ہیوی ٹریفک سے اموات سمیت لاتعداد مسائل تحصیل تلہ گنگ ولاوہ کی مختلف انداز میں عکاسی کر رہی ہیں۔لیکن علاقہ کے سیاست اپنی جھوٹی تعریفوں کے پل باندھنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے۔ اخبارات میں اپنے من گھڑت بیانات شائع کراتے ہیں جن کی علاقہ کی ترقی و بھلائی سے دور دور سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔مزید کہنا کہ سیاستدان علاقہ کی ترقی کے لئے تو کچھ نہ کر سکے۔مگر اپنے آپ کو پاک دامن ثابت کرنے کے لئے ایک دوسرے کو ترقی کی راہ میں روکاوٹ ثابت کرنے کا ناٹک کر کے عوام کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں جن میں اہم کردار چاپلوس اورٹاوٹ صحافی ادا کرتے ہیں،اپنے من پسند صحافیوں سے اپنے غیر ضروری بیانات لگوانا سیاسیوں نے اپنا شیوہ بنا رکھا ہے۔کئی اخبارات صرف سیاسی تعریفوں کے ضمیمہ کے طور پر چھپنے لگے ہیں۔عوامی مسائل کی نشاندہی کرنے والے اور ان کو حل کرنے والے ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر عوام کو مسائل کی دلدل میں دھکیل رہے ہیں۔کیوں صحافت سیاسیوں کے دربار میں ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہو چکی ہے ،عوامی حلقوں کا مزید کہنا تھا کہ یہ قابل صد افسوس امر ہے کہ عوامی مسائل کی نشاندہی کرنے والے صحافیوں کو مقامی ٹاوٹ صحاقتی حلقے خدمت کے جذبات سے عاری سیاستدان اور کرپٹ مقامی افسران اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے ان کو مختلف حوالوں سے ڈرانے دھمکانے اور للچانے کی کوششیں کی جاتی ہیں،صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔جس کے ذریعے عوامی مسائل کی آواز اعلی افسران تک پہنچتی ہے، اس کی مثبت الفاظ میں عکاسی عوام کی آواز ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں