250

مختلف دیہات میں بیکریوں،ہوٹلوں اورکریانہ سٹوروں پر ناقص اور زائدالمیعاد اشیاء کی فروخت کے انکشافات،فوڈاتھارٹی کی کاروائیاں بے سود

تلہ گنگ (نمائندہ بے نقاب) تحصیل تلہ گنگ و لاوہ کے مختلف دیہات میں بیکریوں،ہوٹلوں اورکریانہ سٹوروں پر ناقص اور ذائدالمیعاد اشیاء کی فروخت کے انکشافات نے عوام کو چکرا کر رکھ دیا۔ تحصیل تلہ گنگ کی متعدد ہو ٹلز اور بیکریاں بیماریوں کی آماج گاہ بن چکی ہیں ۔ جس سے متعدد بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق ٹمن ،ملتان خورد ،پچنندلاوہ اور تحصیل تلہ گنگ کے کئی دیہاتوں میں بیکروں ہوٹلوں پر ناقص اور زائدالمیعاد اشیاء کی فروخت مہنگے داموں دھرلے سے جاری ہے۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ سروے رپورٹ میں عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی عدم چیکنگ و غلفت کی وجہ سے تلہ گنگ ولاوہ کے کئی دیہاتوں اور شہر کی اکثر بیکریوں اور ہوٹلوں نے حفظاں صحت کے اصولوں کی دھجیاں اڑا رکھی ہیں ۔بیکریوں اور ہوٹلوں کے گوداموں اور باورچی خانوں میں صفائی نہ ہونے کے برابر ہے ۔جس کی وجہ سے وہاں چوہوں اور کاکروچوں کی افزائش نسل ہو رہی ہے۔جس کی وجہ سے ہیضہ،طاعون اور اس جیسی دوسری متعدد بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ اور دیہاتوں میں موجود بیکریوں پر اشیاء کی دگنی قیمتیں وصول کی جاتی ہیں۔دیہاتوں میں متعدد کریانہ سسٹوروں،بیکریوں پر ذائد المیاد اشیاء کی فروخت کا کام دھرلے سے کیا جا رہا ہے جس پر مقامی انتظامیہ نے اس سنگین مسئلے پر اپنی آنکھیں بند کر کے اس بیکریوں کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔عوامی اور سماجی حلقوں نے حکام بالا سے اپیل کی ہے کہ ان بیکریوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے جو کہ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل نہ کر کے انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں