464

ضلع چکوال کی سیاست بڑی تیزی کیساتھ تبدیل ، سردار غلام عباس نے ن سے علیحدگی اختیار کر کے اپنی پوزیشن نہایت کمزور کر لی

چکوال( نمائندہ بے نقاب) ضلع چکوال کی سیاست بڑی تیزی کیساتھ تبدیل ہونا شروع ہوگئی ہے اس وقت تمام نظریں سابق ضلع ناظم سردار غلام عباس پر لگی ہیں جنہوں نے مسلم لیگ ن سے علیحدگی اختیار کر کے اپنی پوزیشن نہایت کمزور کر لی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں کی خواہش ہے کہ سردار غلام عباس ان کی جماعت میں شامل ہوں مگر سردار غلام عباس کا سیاسی سٹائل اور انداز روائتی سیاست سنجیاں ہو

جانڑ گلیاں وچ مرزا یار پھرے یعنی وہ ضلع کی تمام نشستوں پر اپنی بالادستی چاہتے ہیں جس کی یقین دہانی پیپلز پارٹی تو کروا رہی ہے البتہ پاکستان تحریک انصاف نے ابھی تک سردار غلام عباس کو حلقہ این اے64پر ٹکٹ دینے کیلئے رضا مندی ظاہر کردی ہے،ادھر حال ہی میں لاہور میں ہونے والے دو جماعتوں کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں مسلم لیگ ق اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان صوبہ پنجاب کے علاوہ تلہ گنگ کی دو نشستوں پر بھی ایڈجسٹمنٹ ہو گئی جس کے تحت چوہدری پرویز الٰہی سربراہ مسلم لیگ ق حلقہ این اے 65میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔حلقہ پی پی 24کے لیے بھی مسلم لیگ ق نے نشست مانگ لی۔جس کے لیے ملک اسد ڈھیر مونڈ کا نام لیا جا رہا ہے۔ جبکہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حافظ عمار یاسر کو بھی صوبائی اسمبلی کی نشست پر سامنے لائے جانے کا امکان ہے تاہم عمران خان نے ابھی تک اس کے لیے حامی نہیں بھری ہے۔عمران خان کا موقف یہ ہے کہ جو مشکل وقت میں قربانی دیتے آئے ہے ان کو پیچھے نہ ہٹایا جا ئے۔کرنل سلطان سرخرو اعوان پی ٹی آئی کے بہادر سپاہی ہیں،اس ایڈجسٹمنٹ سے تحصیل تلہ گنگ سے سردار منصور حیات ٹمن عملی طور پر پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے حلقہ این اے 65سے تقریبا فارغ نظر آرہے ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی بھی سردار غلام عباس کو حلقہ این اے 64میں جبکہ پی پی 23پر سردار آفتاب اکبر کو لانے کے خواہشمند ہے۔مسلم لیگ ن پر ہر آنے والے دن کے ساتھ دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اپوزیشن متحد ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں یہ بات یقینی ہے کہ 31مئی کے بعد مسلم لیگ کو ایک بڑے سیاسی پل صراط سے گزرنا ہوگا۔ دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر مقابلہ پاکستان تحریک انصاف +مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہے۔ سردار غلام عباس کے آزاد پینل سمیت باقی جماعتیں بھی اپنے امیدوار میدان میں اتاریں گی اور وہ کوئی قابل ذکر کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں