291

شہر کے علاوہ گردونواح اور داخلی و خارجی سڑکوں پر غیر قانونی ہورڈنگز بورڈ مافیا کا مکمل قبضہ ،طوفانی ہواؤں اور جھکڑ سے گر کر واپڈا کی تنصیبات کا لاکھوں روپے کا نقصان ہونے ک خدشہ

چکوال( نمائندہ بے نقاب)چکوال شہر کے علاوہ گردونواح اور داخلی و خارجی سڑکوں پر غیر قانونی ہورڈنگز بورڈ مافیا کا مکمل قبضہ ہو چکا ہے، بڑے بڑے تشہری مہم کے بورڈز کی مد میں اس مافیا نے جہاں ایک طرف لاکھوں روپے کمانے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے وہیں دوسری طرف ان بورڈز کی ناقص تنصیب انسانی جانوں کے لیے شدید خطرے کا سبب ہے،طوفانی ہواؤں اور جھکڑ سے گر کر واپڈا کی تنصیبات کا لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ ان ہورڈنگز بورڈ کی تنصیب کے لیے میونسپل کمیٹی چکوال سے نہ تو این او سی حاصل کیے گئے ہیں اور نہ ہی میونسپل کمیٹی کو ان لگائے گئے غیر قانونی بورڈز کی مد میں کوئی ٹیکس دیا جا رہا ہے، سروے کے مطابق راولپنڈی روڈ،بائی پاس ،

ریسکیو ون فائیو چوک، تلہ گنگ روڈ، بھون روڈ، جہلم روڈ ، اندرون شہر ، عمارتوں پر بڑے بڑے غیر قانونی بورڈ لگائے گئے ہیں جو کہ محمد شفیع ایڈ، شیخ افتخار علی، قاضی ارشد، شاہد علی ٹھیکیدار،اور پرائیویٹ سکول کے مالک منیر شاہ اور چوہدری اشرف سابق ماہر تعلیم چکوال،چکوال چیمبر آف کامرس کے حاجی نور سلطان ،چوہدری واصف کے لگائے گئے تصدیق ہوئے ہیں جبکہ ان بورڈ مالکان میں سے کسی ایک نے بھی این او سی بھی نہ حاصل کیا ہے اور نہ ہی میونسپل کمیٹی کو کوئی ٹیکس جمع کرایا ہے، گزشتہ روز وائس چیئرمین چوہدری قمر شدیال کے قریبی عزیز کے لگائے گئے تلہ گنگ روڈ پر مکہ ہوٹل کے سامنے غیر قانونی بورڈ کو چیف آفیسر طارق پرویا نے ایم پی اے ہاؤس کے سفارشی محمد شفیع ایڈکی شکایت پر اپنے عملے کو بھجواکرکے ہٹا دیا تھا جس کے بعد چوہدری قمر شدیال نے گورنمنٹ کالج کی بیرونی دیوار کے ساتھ لگائے گئے محمد شفیع ، ریلوے کی اراضی پر بغیر این او سی لگائے گئے شاہد علی، شیخ افتخار علی، ریسکیو 1122اور کمیونٹی سنٹر کے باہر لگائے گئے تمام غیر قانونی بورڈز کومیونسپل کمیٹی کے عملے کے ذریعے آرا چلا کرکاٹ کر گرا دیئے تھے لیکن راتوں رات پھر اس مافیا نے اپنے اپنے بورڈ بغیر اجازت کے واپس لگا لیے ہیں ۔عوام حلقوں نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سے انسانی ہمدردی کے تحت فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے کہ نہ صرف ان بورڈز کو ہتایا جائے بلکہ غیر قانونی اقدامات میں ملوث میونسپل کمیٹی کے ملازمین اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جا ئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں