431

دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کاغذات نامزدگی کا مرحلہ بھی مکمل،مگر ابھی تک سیاسی منظر نامہ دھندلہ ، تھوک کے حساب سے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے صورتحال مکمل طور پر غیر یقینی ہے۔

چکوال(نمائندہ بے نقاب)ضلع چکوال کی دو قومی اور چار صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کاغذات نامزدگی کا مرحلہ بھی مکمل ہوگیا ہے مگر ابھی تک سیاسی منظر نامہ دھندلہ ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے ٹکٹوں کا اعلان ہوچکا ہے

حلقہ این اے65اور پی پی24 خالی چھوڑے گئے ہیں مگر اب بتایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی او رمسلم لیگ ق کے درمیان ایڈجسٹمنٹ صرف حلقہ این اے65کی ہوئی ہے،23اور24حلقوں میں پی ٹی آئی اپنے امیدوار نامزد کرے گی۔ اُدھر مسلم لیگ ن نے بھی ابھی تک ٹکٹوں کا اعلان نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے سابق ایم پی اے سردار ذوالفقار علی خان دلہہ کا معاملہ درمیان میں لٹکا ہے ، انہوں نے تین حلقوں سے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہیں اور ان کی پوری خواہش ہے کہ حلقہ این اے64اور پی پی23میں انہیں ٹکٹ دیے جائیں۔ اُدھر سابق مشیر وزیراعلیٰ پنجاب ملک سلیم اقبال نے سردار فیض ٹمن کو حلقہ این اے65اور پی پی23پر ملک فلک شیر اعوان کو گرین سگنل دے رہا ہے۔ سابق ایم این اے سردار ممتاز ٹمن اور ملک سلیم اقبال کے درمیان ٹھنی ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے پورے ضلع چکوال کی تمام نشستوں پر صورتحال مکمل طور پر غیر یقینی کا شکار ہے۔ مقابلہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے ہی درمیان ہے مگر ابھی تک کوئی پتہ نہیں کون کس کا مقابلہ کریگا۔ پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل، تحریک لبیک یارسول اللہ اسلامی، تحریک تحفظ پاکستان، تحریک لبیک یارسول اللہ پاکستان اور آزاد امیدواروں نے بھی تھوک کے حساب سے کاغذات نامزدگی داخل کرائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے صورتحال مکمل طور پر غیر یقینی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں