298

لاوہ مسائل کا شکار عوام کسی مسیحا کی منتظر الیکشن 2018 ء کے بعد پرانے چہرے نئی پارٹیوں کے ساتھ ایوان اقتدار میں،20 ماہ میں میونسپل کمیٹی ایک ٹکے کا بھی کام نہ کروا سکی

لاوہ(نما ئندہ بے نقاب) لاوہ مسائل کا شکار عوام کسی مسیحا کی منتظر الیکشن 2018 ء کے بعد پرانے چہرے نئی پارٹیوں کے ساتھ ایوان اقتدار میں بھاری بھر کم مینڈیٹ لے کر پہنچ گئے۔ جہاں الیکشن کے دوران وعدے وعیدکئے وہیں عوام نے ان سے کئی امیدیں بھی باندھیں مسائل نئے نہیں امیدیں نئی ہیں۔تعلیم ، صحت، پانی اور مواصلات کے مسائل جن کو عرصہ سے نئے انداز میں حل کرانے کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے ۔ بے چاری عوام برادری عزم بھائی چارے دوستی یاری اور دیگر حالات سے مجبور ہوکر ان کو سر کاری خزانے پر مزے لوٹنے کے لیے 5 سال کا مینڈیٹ تھاما دیتی ہے ۔

اس عوام کی پرچی کی اتنی اہمیت ہے کہ انہیں عزت واحترام سے ووٹ لینے کے لیے گھر سے لے جاتے ہیں مگر پرچی پر تھپہ لگتے ہی سب بیگانے بن جاتے ہیں۔ ایوان اقتدار کے ٹھنڈے ٹھنڈے کمروں کی مست ہوائیں انہیں عوام کے سب دکھ درد جو ساتھ لے کر آتے بھلادیتی ہیں۔ کام کے لیے 5 سا ل ان دولت خانوں پر حاضری دی جاتی ہے ۔مگر شرف ملاقات بھی نصیب نہیں ہوتا۔بدقسمتی دیکھیے کہ سابق ایم این اے ٹکٹ نہ ملنے پر اپنے مفاد کے لیے پارٹی بدل لی۔اور مخالفین سے ہاتھ ملالیا جب ان کے جلسوں میں سابق حکومت کے خلاف عوامی مسائل حل نہ کرنے تنقید کی جاتی تو موصوف اپنی ہی نااہلی پہ خوش ہوکر تالیاں بجواتے نظر آئے۔ان ہی نااہل مفاد پرستوں کی بدولت ہی لاوہ تحصیل کو ہی لیجیے تعلیم اور صحت کا معیار نقطہ انجماد سے بھی نیچے ہے۔کسی بھی ہائیر سیکنڈری سکولوں میں سبجیکٹ سپیشلسٹ نہ ہونے سے بچوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا جبکہ ہسپتالوں میں سٹاف اور ادویات کی کمی سے غریب عوام کو میانوالی تلہ گنگ یا راولپنڈی کاروڈ دکھایا جاتا ہے۔ ایم این اے اور ایم پی اے کی نااہلی اور مفاد پرستی کاایسا سبق سکھایا کہ شاید اب دوبارہ وہ عوام کی عدالت میں نہ آ سکیں۔دو ماہ سے عوام پانی کی بوند بوند کو ترستی رہی الیکشن کے دوران ایک پارٹی دو دو گھڑے گھر گھر دیتے رہے واٹر سپلائی کے لیے 10 لاکھ روپے دئیے گئے مگر اس کا آڈٹ نہ کروایا جاسکا ۔ جنوری میں وائس چےئرمین اور ان کے ساتھیوں نے آڈٹ کیاتو بہت بڑے مارجن کا فرق تھا ۔جس پر انہو ں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کرلی اس پر کوئی ایکشن نہ لیا گیا۔ اسی لاوہ اندرون شہر ، مین روڈاور مضافاتی سڑکوں کی حالت نمائندوں کی حلقہ سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔لاوہ لاری اڈا سے عید گاہ روڈ پر پیدل چلنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ گاڑی گذرے تو ڈر لگتا ہے کہ کوئی پتھر نکل کر سر ہی نہ پھاڑ ڈالے۔ لاوہ بھوجو والی روڈاور گوہل روڈ بھی اپنی مثال آپ ہے۔بدقسمتی سے میونسپل کمیٹی ن اور ق لیگ کی کھینچا تانی میں عدالت عالیہ کے دفاتر کی زینت بنی ہوئی ہے ۔20 ماہ میں میونسپل کمیٹی ایک ٹکے کا بھی کام نہ کروا سکی بلکہ اپنے بیٹھنے کے لیے آفس بھی سیٹ نہ کر سکی واحد میونسپل کمیٹی ہے جو کچھ نہ کر سکی۔اب نئے نمائندوں سے کئی توقعات وابستہ ہیں ۔کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں گے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں