253

پاسبانِِ ختمِ نبوت حضرت مولانا تاج محمود صاحب ؒ

مفتی تنویراحمد ڈھرنال

20جنوری 1984ء بروز جمعہ حضرت مولانا تاج محمود صاحب ؒ کی وفات کا دن ہے۔1917ء میں ہری پور ہزارہ کے گاؤں میلم میں پیدا ہوئے۔ان کے والد گرامی پاکستان بننے سے بہت پہلے چنیوٹ کے قریب چک نولاں میں آکر رہائش پذیر ہوئے اور شاہی مسجد چنیوٹ کے خطیب کے نام پر آپ کانام تاج محمود تجویز کیا ۔آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اسی علاقہ میں حاصل کی ۔حضرت مولانا مفتی محمد یونس ؒ جو حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے ممتاز شاگر دتھے ان کے ہاں دینی تعلیم حاصل کی ۔کئی برسوں تک بڑی بڑی ریاضتوں اور مجاہدوں کے ساتھ اس علمی سفر کو جاری رکھا ،پھر وہ وقت آیا جب ایک موقع پر آپ نے حضرت امیر شریعت عطا اللہ شاہ صاحبؒ کی الہامی تقریر سنی تو مجلس احرار الاسلام میں شامل ہوکر ختم نبوت کے سپاہی بن گئے۔پاکستان بننے کے بعد جب مجلس تحفظ ختم نبوت کی بنیاد رکھی گئی تو آپ اس قافلہ کے رکن رکین تھے۔آپ ہی نے 20مارچ1964ء کو فیصل آباد سے ہفت روزہ لولاک جاری کیا جس نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔اور آج تک یہ رسالہ امت کے ایک بہت بڑے طبقے کے دلوں کو صاحب لولاک ﷺ کی ختم نبوت کی روشنیوں سے منور کر رہا ہے۔ آپ تحریک ختم نبوت 1974ء میں صف اول کے رہنما تھے اسی تحریک کے نتیجے میں قادیانیت کا گڑھ ربوہ کھلا شہر قرار دیا گیا، وہاں مسلم کالونی قائم ہوئی ۔پھر آپ نے حضرت مولانا محمد شریف جالندھریؒ کے ساتھ ملکر ربوہ ہی میں مسجد ومدرسہ کے قیام کے لئے نو کنال پر مشتمل پلاٹ حاصل کیا،پھر ریلوے اسٹیشن چناب نگر جامع مسجد محمدیہ تعمیر کرائی ۔قاضی احسان احمد شجاع آبادی ؒ اور جناب آغاشورش کاشمیری ؒ آپ کے جگری دوست تھے۔ان حضرات کے بعد قادیانیت کا سیاسی احتساب آپ کے حصے میں آیا۔عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آپ کی ذات گرامی بطور نشان منزل کے سمجھی جاتی تھی۔عمر بھر آپ اتحاد بین المسلمین کے زبردست داعی اور علمبرداررہے۔اللہ تعالی نے آپ کو خوبیوں کا مجموعہ بنایا تھا۔آپ کا ظاہر و باطن ایک تھا۔بولتے کیا تھے گویا موتی رولتے تھے۔ ایک ایک لفظ احتیاط کے ترازو میں تولا ہوا ہوتا تھا۔زبان وبیان میں کوثر وتسنیم کی آمیزش کا سماں معلوم ہوتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ میں بنیادی کردار کے حامل رہے۔وفات سے ایک روز قبل آخری میٹنگ آل پارٹنر مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں آپ شریک تھے۔میٹنگ سے اگلے روز20جنوری جمعہ کو آپ کو دل کی تکلیف ہوئی۔وقت موعود آن پہنچااور اسی میں خالق حقیقی سے جاملے۔ حضرت خواجہ خان محمد صاحب ؒ کی قیادت میں لاکھوں افراد نے نماز جنازہ اداکی اور پھر اپنی ہی قائم کردی جامع مسجد ریلوے کالونی کی کونہ میں محواستراحت ہوئے۔عاش سعیدا ومات سعیدا۔اللہ تعالی ان کی قبر مبارک کو بقعہ نور بنائے۔آپ نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے انتہائی کربناک اسیری کی صعوبتیں برداشت کیں۔جن کی تفصیل بہٹ طویل ہے ۔ایام اسیری میںآپ کے لئے سب سے دلخراش بات یہ تھی کہ آپ کے پیچھے آپ کے گھر والوں پر حکومتِ وقت نے بڑے مصائب ڈھائے یہاں تک کہ گھر کا سامان ضبط کرلیا گیااور مال غنیمت سمجھ کر آپس میں تقسیم کر لیا گیا۔ریلوے والوں نے تنخواہ بند کردی۔شہر والے سمجھتے رہے کہ مولانا ریلوے کے بادشاہ ہیں اور ریلوے والے سمجھتے رہے کہ مولانا شہر کے بادشاہ ہیں۔رہائی کے بعدریلوے والے گزشتہ ایام کی پوری تنخواہ لے کر آئے لیکن آپ نے یہ کہہ کر واپس کر دی کہ میری عدم موجودگی میں میرے بچوں کو رقم کی زیادہ ضرورت تھی اس وقت تو آپ نے نہیں دی اور اب میں آگیا ہوں ۔ میری عدم موجودگی میں جس ذات باری تعالٰی نے انتظام کیا وہ اب میری موجودگی میں بھی اس کا اہتمام کرے گا۔ پھراس کے بعد آخر عمر تک کبھی ریلوے والوں سے کوئی تنخواہ نہیں لی۔چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ کتاب میں آپ کی آپ بیتی میں لکھا ہے۔کہ ’’ مجھے جب لائل پور سے لاہور لے جاکر قلعے میں بند کر دیا گیا تو میرے پاس چوہدری بہاول بخش ڈی ایس پی تشریف لائے اور مجھے بتایا کہ ’’ میر الڑکا ایم سی ہائی سکول میں آپ کا شاگر د رہا ہے ،میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟ میں نے شکریہ ا دا کیا اور کہا کہ ’’ اس سے بڑھ کر اور کیا خدمت ہو سکتی ہے کہ آپ نے اس وحشت نگری میں میری خیریت دریافت کی ۔پھر وہ اگلے روز تشریف لائے اور کہا مولانا! انہوں نے کچھ فارم چھپوائے ہوئے تھے،آپ ان پر دستخط کریں اور گھر جائیں میں سمجھ گیا کہ چوہدری صاحب کا اشارہ معافی نامے کے فارموں کی طرف ہے ،میں نے کہاچوہدری صاحب !جو لوگ میرے ہمراہ سینوں پر گولیاں کھا کر حضورﷺ کی نام وناموس پر شہید ہو گئے ،لائل پور کی سڑکوں پر ابھی ان کا خون خشک نہیں ہوا،یہ کیسے ممکن ہے کہ میں ماؤں کے بچے مروا کر خود معافی نامے پر دستخط کر کے گھر چلا جاؤں۔
چوہدری صاحب شرمندہ ہوئے ،معذرت کی اور کہا کہ ’’ اگر آپ یہ حوصلہ رکھتے ہیں تو پھر آپ کا ڈٹ جانا ہی اصولی طور پر درست ہے۔ایسے قابل تقلیداور لازوال استقامت کے واقعات بہت زیادہ ہیں۔لیکن صفحہ قرطاس میں میں اتنی وسعت نہیں کہ سب سما جائیں۔الحمد للہ !ان اکابر کی قربانیوں کے واقعات پڑھ کر روح کو بالیدگی حاصل ہوتی ہے کس طرح عقیدہ ختم نبوت کے پروانوں نے مردِ آہن بن کر اپنے جان ومال ،گھر اولاد کی پرواہ کیے بغیر منکرین ختم نبوت کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن کر اپنی سچی محبت وعقیدت کا ثبوت دیا۔اور قدرت نے بھی ان کی نقد مدد کی کیونکہ لاکھوں مسلمانوں کا جیلوں میں جانا،ہزاروں مسلمانوں کا خاک وخوں میں تڑپ کر شہید ہو جانا،چھوٹے چھوٹے بچوں کا سینوں پر گولیاں کھانا،اللہ تعالی کے ہاں ہرگز ضائع نہیں ہو سکتا تھا۔سردار عبد الرب نشتر نے ایک تقریب میں آغا شورش کاشمیری مرحوم سے فرمایا’’شورش جو لوگ خوش ہیں کہ تحریک ختم نبوت کچل دی گئی ،وہ احمق ہیں ،ہم میں جس شخص نے اس مقدس تحریک جتنی مخالفت کی تھی اتنی سزا اسے قدرت نے اس دنیا میں دے دی ہے اور ابھی عاقبت باقی ہے۔تحریک کے سب مخالفین روح کے سرطان میں مبتلا ہیں‘‘ عقیدہ ختم نبوت۔۔زندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں