228

صدائے پردرد

صدائے پردرد
تحریر: سعدیہ نرگس، سٹی پبلک سکول دندہ شاہ بلاول

کچھ عرصہ قبل سکول کے سالانہ تقریب انعامات کے سلسلے میں موضوعات تقاریر کی تلاش میں کتابوں کی ورق کردانی میں اچانک یہ جملہ Roads measure the future country نظروں کے سامنے آتے ہی دل و دماغ پر چھا گیا۔یہ ایک سطحی سا جملہ مجبور کرگیا کہ میں اس فقرے کو موضوع بحث بناؤں اور پھر سوچوں کا ایک نہ ختم ہونے والا گہرا سمندر دماغ میں امڈ آیا اور ہمارے ماضی کی گرد آلود یادیں تازہ کر گیا۔19 ویں صدی کا ایک ناقابل فراموش واقعہ سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہوں گی ۔ایسٹ انڈیا کمپنی کے بعد انگریزوں نے برصغیر پاک و ہند میں سڑکوں اور شاہراہوں کے جال بچھا کر سونے کی چڑیا کو قبضہ میں لیا۔جس کے بعد سینکڑوں سال انہوں نے برصغیر پر حکمرانی کی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سڑکیں کسی بھی قوم کی معاشی خوشحالی کی ضامن ہوتی ہیں ۔
میرا تعلق ضلع چکوال کی تحصیل لاوہ سے ہے جوکہ تلہ گنگ میانوالی رو ڈ پر واقع ہے میں اس روڈ کو جی ٹی روڈ کہوں گی کیونکہ یہ کراچی تا اسلام آباد یعنی پورے پاکستان کا لنکنگ روڈ ہے مگر پچھلے کچھ سالوں سے یہ بہت خستہ حال میں ہے ہر چڑھتا سورج اس روڈ کے حادثات کو اخبارات کی سرخی بنا ڈالتا ہے ۔کچھ عرصہ پہلے کوٹ قاضی دیہی مرکز صحت کے سامنے ہونیوالا بھیانک حادثہ ہمارے ضمیر کو جھنجوڑ نہ سکا۔اس حستہ کی بنیادی وجہ اس پل کی خستہ حالی ہے اس سے آگے چل کر دندہ شاہ بلاول گبھیر پر بنا پل روزانہ کسی نہ کسی حادثے یا اموات کی وجہ بن رہا ہے ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس روڈ کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے۔مگر افسوس کہ ہم اپنے ذاتی مفاد کے چکروں میں قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر آنکھوں پر پٹی اور کانوں میں روئی ڈالے تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔
میں ان سطور میں کسی حکومتی ادارے یا سیاسی جماعت کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی بلا شبہ حکومت وقت کے میٹرو اور موٹروے منصوبہ عالی پایہ کے ہیں مگر یہاں کوئی یہ سوچنے والا نہیں کہ CPEC کے آغاز سے میانوالی روڈ معاشی خوشحالی کا بنیادی ذریعہ بنے گا ہم نے ریسکیو 1122 کا قیام کرکے احساس ذمہ داری تو دکھایا مگر Prevention is better than کو بھول گئے۔
اے اہل نظر ذوق خوب ہے لیکن
جو شئے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا ہے
اگر ہم تعمیر نو کے جذبے سے کام کریں تو شاید ایک دن ایسا آئیگا کہ Cure کی ضرور ت باقی نہ رہے گی میانوالی روڈ پاکستان کی اہم ترین تجارتی گزرگاہ ہے جوکہ خوشحال مستقبل کا ضامن بن سکتا ہے اگر اس روڈ کی تعمیر نو پر توجہ مرکوز کی جائے تو۔لہٰذا میں اپنی درخواست متعلقہ انتظامیہ باالخصوص ایم پی اے ملک شہریار اعوان کے سامنے انتہائی عاجزانہ طریقے سے پیش کرتی ہوں کہ خدارا اس جان لیوا صورتحال کی طرف توجہ دی جائے اور مزید قیمتی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور خصوصاً مذکورہ خستہ حال پُلوں کی طرف توجہ دی جائے تاکہ خدا کے سامنے بھی سرخرو ہوسکیں۔اسی روڈ پر انگریزوں کے زمانے کا پل بھی موجود ہے ہم موازنہ کر سکتے ہیں کہ کون سا پل بہتر ہے انگریز شاید یہ احسان ہم پر کرگئے تھے کیونکہ ان کو ہماری بے حسی کا اندازہ تھا۔صرف یہاں نہیں تلہ گنگ کے قریب حادثات اخبارات کی بریکنگ نیوز بنے ہوتے ہیں ایسے حادثات تو رش و فرش کو ہلا دیتے ہیں مگر ہماری بے حسی کتے کی دم کی طرح ثابت ہوئی۔
اگر ہم جاپان اور چین کی مثالیں لیں تو انہوں نے نئی بنیادی رکھ کر ترقی کی اور ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں کیونکہ ان میں اور ہم میں ایک واضح فرق ہے کہ وہ لوگ نئی بنیادیں رکھنے سے پہلے پرانی بنیادوں کے بیٹھ جانے کی وجہ ڈھونڈتے ہیں۔میرا اپنی تلہ گنگ اور لاوہ کے لوگوں سے التماس ہے کہ خدارا جاگو!جذبہ تعمیر نو کے ساتھ اٹھو اور اپنی مدد آپ کے تحت کچھ کر کے دکھاؤ۔اپنے حصے کی شمع جلاؤ میں نے قلم اٹھا کر شمع جلا دی اس کو جلائے رکھنے کیلئے اٹھو اور قدم بڑھاؤ ۔ذاتی مفاد کی جگہ قومی مفاد کو ترجیح دو۔سوچ بدلوگے تو پاکستان بدلے گا۔لگتا ہے کہ علامہ اقبال کو اﷲ تعالیٰ نے ہمارے یہ حالات بتا دئے تھے تب ہی تو انہوں نے فرمایا :
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں